خونی رشتے (part 14 LAST)


کمرے میں پہنچا تو موبائل دیکھا جس میں ثناء کی 30 سے اوپر مس کالز اور میسج آئے ہوئے تھے ۔۔جس میں وہ مجھ سے ضروری بات کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔ابھی تو ٹائم نہیں تھا
۔۔کل پر رکھ کر میں سونے لیٹ گیا ۔۔۔صبح کوئی دس بجے مناہل نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا ۔۔۔بھائی اٹھو جلدی سب ۔۔ناشتے پر بلا رہے ہیں ۔۔۔میں ہڑبڑا کر اٹھا تھا ۔۔جلدی
سے ہاتھ منہ دھو کر نیچے اترا تو ابا جان سمیت پورا گھرانہ جمع تھا ۔۔۔میں قریب پہنچا تو ابا جان اٹھ گئے تھے ۔۔ہم گلے ملے ، کیسا ہے میرا راجہ ۔۔۔ابو میں تو ٹھیک ہوں ۔پر آپ
اچا نک کیسے ۔۔۔کیوں میرا گھر نہیں ہے کیا ؟ میں نہیں آ سکتا ۔۔نہیں میرا مطلب یہ نہ تھا ۔۔اور کیا کہتا خاموشی سے کرسی پر جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔شہریار بھائی بھی آچکے تھے
۔۔۔۔مجھے دیکھ کر اسمائل دے رہے تھے ۔۔۔۔خیر ناشتہ ہونے لگا ۔۔۔ناشتہ کر کے مجھے ابو جان کے کمرے میں بلایا گیا ۔۔۔وہاں پہنچا تو چاچا ، چچی اور امی بھی بیٹھی ہوئی تھیں
۔۔۔دروازے پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ یہ شامت کس خوشی میں آئی ہے ۔۔۔اتنے میں مناہل نے دھکا دیا اور میں کمرے کے اندر ۔۔۔۔۔ابا جان :کیوں راجہ آنے کی اتنی جلدی
ہے ؟ نہیں ابا : وہ منو نے دھکا دیا تھا ۔۔میں کچھ کچھ ہکلا رہا تھا ، ۔۔۔۔سب مسکرانے لگے ۔۔۔۔۔۔میں سامنے جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ بیٹا تمہاری امی اور ہم سے نے فیصلہ کیا ہے تم
اب بڑے ہو چکے ہو تمہاری شادی ہو جانی چاہئے ۔۔۔۔کیا کہتے ہو ۔۔۔جی جی جی ابو ۔۔۔اگر آپ نے فیصلہ کیا ہے تو ٹھیک ہی ہے ۔۔۔اور ہاں تمہاری چچی بتا رہی ہیں کہ تمہیں
شہر میں کوئی لڑکی پسند آئی ہے ۔۔۔میں نے حیرت سے چچی کی طرف دیکھا ۔۔میں نے کب کہا انہیں ؟ ۔۔۔۔نہیں ابا ایسی بات نہیں ۔۔۔آپ جہاں کر دیں وہی میرے لئے
ٹھیک ہے ۔۔۔۔اچھا تو تمہاری چچی کے ہاں ایک رشتہ ہے ، ان کی کوئی دور کی بھتیجی ہے ۔۔۔وہاں کرنا چاہ رہی ہیں ۔۔۔اوں ۔۔۔میرا سر گھوم گیا ۔۔۔چچی کا رشتہ ۔۔میں نے
چچی کو دیکھا تو وہ شرارتی انداز میں دیکھ رہی تھیں ۔۔بلکہ سب ہی مجھے گھور رہے تھے ۔۔۔کیوں پڑھی لکھی ہے ، خوبصورت ہے ۔۔۔۔ابا ٹھیک ہے مگر میں کچھ اور سمجھا تھا
۔۔۔کیا سمجھے تھے بیٹا کہ ہم ثناء سے تمہاری بات شادی کی بات کریں گے ۔۔۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔جی ابا ۔۔۔۔یہاں شادیاں ہمارے فیصلوں سے ہوتی ہے
۔۔۔اس لئے تیاری شروع کرو ۔۔۔۔شہر سے تمہاری شیروانی آ گئی ہے ۔۔۔۔جلدی سے تیاری پکڑو ۔۔ہم باقاعدہ رشتہ لینے جائیں گے ۔۔ ۔۔آدھا گھنٹہ ہے ۔۔۔میں نے سر ہلا
دیا اور مردہ قدموں سے باہر آنے لگا ۔۔۔دروازے کے قریب پہنچا تو ابا نے پیچھے سے آواز دی ۔۔۔میں مڑا تو ابو نے کچھ چیز ہوا میں اچھا لی۔۔۔یہ چابیاں تھیں ۔۔۔اور یہ لو
تمہاری شادی کا گفٹ ۔۔۔نئی کار باہر کھڑی ہے ۔۔۔۔جی ابو ۔۔۔۔میں نےآہستہ سے کہا اور باہر آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔مناہل اور ربیعہ باہر ہی کھڑی تھیں ۔۔۔اور منہ دبائے
ہنس رہیں تھیں ۔۔۔۔۔میں منہ بسور ے سیدھ اوپر اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔مجھے شادی کے لئے ثناء پسند تھی ۔۔۔اورسب کو یہ بات پتابھی تھی ۔۔پھر یہ چچی کی
بھتیجی کہاں سے آ گئی تھی ۔۔۔۔۔میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔۔اب کیسے ابو کو سمجھاؤں ۔۔۔۔۔اب ایسی حالت میں اب کار کا جشن کوں منائے ۔۔۔پوری زندگی کی بینڈ بجنے والی
تھی ۔۔۔۔خیر اب تیار تو ہونا تھا ۔۔بھیا سے بات کرتا ہوں شاید کچھ بات بن جائے ۔۔۔۔اٹھ کر تیار ہونے لگا ۔۔۔دس منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔چچی اندر آ گئیں
۔۔۔کیسا ہے میرا راجہ ۔۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ سے بات کرنے کی ۔۔۔۔۔میں کوئی نہیں آپ کا راجہ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں جھڑک کر تیزی سے نیچے اترنے لگا۔۔۔۔ابا
جان اورامی بھی تیار تھیں ۔۔۔باہر نکلا تو لا ل چمچماتی کار سامنے تھی ۔۔۔۔۔ابو نےکہا کو ڈرائیو کرو ۔۔۔۔۔ابو امی پیچھے بیٹھ چکے تھے اور راستہ بتانے لگا۔۔۔میں بے دلی سے
ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ چچی کی اس بھتیجی کے لئے بہت سی بد دعائیں نکل رہی تھی۔۔۔کمینی کو میں ہی ملا تھا ۔۔۔۔خیر سفر جاری تھا ۔۔۔میں اپنی سوچ میں ابو کے
کہنے پر رائٹ لیفٹ کرتا جا رہا تھا ۔۔اور ذہن اپنی سوچ میں بھاگ رہا تھا ۔۔۔ابو نے ایک دم اسٹاپ کہا تو میں نے بریک لگا دی ۔۔۔سامنے دیکھا تھا وقار کا گھر تھا ۔۔۔یہ کیا ۔۔ابو
یہ تو ثناء کا گھر ہے ۔۔۔ہاں بیٹا ہمیں پتا ہے بتانے کی ضرورت نہیں ، چلو اترو جلدی سے ۔۔۔ایک ٹھنڈ کی لہر تھی جو میرے اندر داخل ہوئی تھی ۔۔امی کی طرف دیکھا تو وہ بھی
مسکر ا رہی تھی ۔۔۔مطلب ان سب نے مجھے بے وقوف بنایا تھا ۔۔۔اور میں بن بھی گیا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم وقار کے ڈرائنگ روم میں بیٹھےتھے ۔۔۔سب لوگ بہت خوش
تھے۔خالہ بھی میری بلائیں لے رہی تھیں ۔۔۔اور پھر باقاعدہ رشتے کی بات شروع کی انہوں نے ۔۔خالہ لوگ بھی تیار تھے ۔۔اور مجھے اب پتا چلا تھا کہ پچھلی رات جب امی
لوگ آئے تھے تو تب ہی بات کر لی تھی ۔۔۔ابھی صرف منہ میٹھا کروانے آئے تھے ۔۔۔۔خیر کچھ دیر میں منہ میٹھا بھی ہو گیا ۔۔۔۔میسج کی ٹون بجی ۔۔۔میں نے میسج دیکھا تو ثناء
کا میسج تھا۔۔پوچھ رہی تھی کہ یہ سب اتنا اچانک ۔۔۔۔۔۔میں کیا بتاتا ۔۔مجھے خود پتا نہیں تھا ۔۔۔میں نے اسے میسج کیا کہ میں نے ملنا ہے ۔۔۔وہ کچن میں تھی ۔۔۔۔میں واش
روم کا کہہ کر باہر نکلا اور سیدھا کچن کی طرف پہنچا ۔۔۔وہ دروازے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی ۔۔۔یہ سب آج مجھے نچانے پر تلے تھے ۔۔۔۔کچن میں آیا تو ثناء آ کر میری آنکھوں پر
اپنے ہاتھ رکھ چکی تھی۔۔جیسے ہزاروں لوگ یہاں رہتے ہوں اور پہچان لینا بہت ہی مشکل تھا۔ کچھ ہی دیر میں ثناء مجھے سے لپٹی ہوئی تھی اور میں اسے بے اختیار چوم رہا تھا
۔۔۔۔وہ بھی بہت خوش تھی ۔۔اور اس کے چہرے سے بھی خوش پھوٹی پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سب اچانک ہو گا۔۔۔۔دروازے پر آہٹ ہوئی تو
ہم الگ ہو گئے ۔۔خالہ تھی ۔۔کہنے لگیں بس کچھ دن ٹھیر جاؤ تمہارا مستقل بندوبست ہم نے کیا ہے ۔۔۔میں جلدی سے واپس ڈرائنگ روم میں آ گیا ۔۔ابو نے ایسے سر ہلا یا جیسے
پتا ہو میں کہاں سے ہو کر آیا ہوں ۔۔۔کچھ دیر بعد ثناء بھی تیار ہو کر آ گئی تھی ۔۔۔۔گلابی رنگ کے کپڑوں میں وہ آہستہ سے چلتی ہوئی آئی اور میرے سامنے بیٹھ گئی ۔۔۔پنک
چادر میں دمکتا ہو ا چہرا ۔۔۔کوئی آسمانی حور لگ رہی تھی ۔۔۔امی نے میری طرف ایک انگوٹھی بڑھائی کہ یہ پہنا دو ۔۔۔میں نے اس کے نازک ہاتھوں کو تھاما اور انگوٹھی پہنچادی
۔۔۔۔میں بری طرح کنفیوز ہو رہا تھا ۔۔سب کچھ ایک خواب کی مانند تھا ۔۔۔۔برات اور ولیمہ کا ٹائم ایک ہفتے بعد کا رکھا تھا ۔۔ابو کو واپس بھی جانا تھا ۔۔۔سب کچھ فکس کر کے
ہم واپس اپنے گھر آ گئے ۔۔۔جاتے ہوئے راجہ میں ، اور واپس آتے ہوئے راجہ میں بہت فرق تھا ۔۔اب میں چہک رہا تھا۔۔۔بات بات پر مسکر ا رہا تھا ۔۔۔۔گھر میں آئے تو ابو
امی تو اپنے گھر میں چلے گئے ۔۔۔مناہل اور ربیعہ سامنے ہی تھیں ۔۔۔وہ بھی میرے پاس آئیں اور خوشی سے لپٹ گئیں ۔۔۔میں نے ان سے کہا کہ تم کو تو بتانا چاہئے تھے ۔۔۔تم
سے مجھے ایسی امید نہیں تھی ۔۔۔بھائی ایک مرتبہ تو سرپرائز بنتا ہے ۔۔۔اب جلدی سے تیار ہو جاؤ ہم نے شہر جانا ہے ۔۔بہت سے شاپنگ کرنی ہے ۔۔بھابھی کے لئے بھی
۔۔۔۔۔ان کو ہامی بھرتا ہوا میں اورپہنچا ۔۔۔۔چاچی میرے کمرے میں ہی میرا انتظار کر رہی تھیں ۔۔۔۔جا کر ان سے لپٹ گیا ۔۔۔۔بڑی آئیں میری بھتیجی
۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں ؟؟؟ کیا ثناء میری بھتیجی نہیں بنے گی شادی کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاچی نے میری ناک کو ہلایا ۔۔۔ہاں تو شادی کے بعد ہو گی۔۔۔آپ تو تیار بیٹھی
تھی مجھ سے اپنے بھتیجی کی شادی کروانے کے لئے ۔۔۔۔۔میرے راجہ ثناء ہی میری بھتیجی ہے ، ۔۔۔۔میں ابھی بھی روٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔خیر کچھ دیر ایسے ہی رہے ۔۔۔دوپہر کا
کھانے کا ٹائم تھا ۔۔ہم تو کھا کر آئے تھے ۔۔۔چاچی لوگ چلے گئے کھانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔کھانے کے بعد بھیا نے مجھ سے کار کی چابی مانگی وہ مناہل اور ربیعہ کے ساتھ باہر شاپنگ پر جا رہے تھے ۔۔۔میں بھی اوپر اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔
آگے کے پانچ دن کیسے گذرے ، مجھے کچھ پتا نہیں تھا ۔۔۔ہر روز شاپنگ ۔۔۔۔پہلے مناہل اور ربیعہ کو شہر لے کر گیا ۔۔۔سب شاپنگ کروائی ۔۔پھر امی کے ساتھ جیولری لینے
گیا ۔۔ابو نے ایک بڑی رقم مجھے دے دی تھی ۔۔۔۔گھر میں میرا خیال حد سے زیادہ تھا ۔۔۔۔کھانے پینے ہر چیز میں احتیاط شروع تھی ۔۔۔برات سے ایک دن پہلے بھیا شہر گئے
تھے ، جیولری اور شیروانی کی ڈلیوری تھی ۔۔۔رات کا وقت تھا۔۔میں اپنے کمرے میں تھکا ہارا لیٹا ہوا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔۔اور پھر بھابھی اندر داخل ہوئی
۔۔۔ان دنوں میں ان کی طرف دھیان ہی نہیں دے پایا تھا ۔۔۔ہر روز امی اور بہنوں کے ساتھ ہی گزرتا تھا ۔۔۔۔۔۔بڑے مصروف ہو گئے ہو ۔۔۔اپنی شادی ہو گئی تو ہمیں
بھول گئے ۔۔۔بھابھی کا شکوہ جائز تھا ۔۔۔۔میں اٹھا اور انہیں بازوؤں میں اٹھا کر بیڈ پر لے آیا ۔۔۔یہ بولیں کہ آپ کے شوہر آ گئے تو آپ ہمیں بھول گئیں ۔۔میں نے بھی
جوابی حملہ کیا ۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔بھابھی کی ناک پر لگی لونگ چمک رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔آف وائٹ کاٹن کے سوٹ میں وہ کوئی گڑیا جیسی لگ رہی تھی۔۔۔میں نے ان کی کروٹ اپنے طرف کر کے ان کے قریب ہو گیا تھا ۔۔ہماری سانسیں اور نظریں ایک دوسرے سے ٹکرا رہیں تھیں ۔۔۔۔۔بھابھی کی آواز آئی ۔۔شادی سے پہلے ایک
مرتبہ ۔۔پھر تو تم کسی اور کے ہو جاؤ گے ۔۔۔ٹائم دے پاؤ گے بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔میں ان کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھی دی ۔۔۔ایسا نہ بولیں ۔۔۔آپ کو کون بھول سکتا ہے
۔۔میں نے انہیں تھامتے ہوئے اپنے اوپر سوار کر لیا ۔ہلکا پھلکا وزن تھا ۔۔۔۔وہ میرے اوپر لیٹی ہوئی تھیں ۔۔ان کے خوشبو میرے ناک میں گھس رہی تھی ۔۔۔میرے
اوپرجھک کر انہوں نے میرے ہونٹوں کو چومنے لگیں ۔۔میں ان کی پیٹھ پرہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔۔اور نیچے ہاتھ لے جا کر ان کے چوتڑ کو دبانے لگا۔۔۔۔ان کے نرم نرم ہونٹ
میرے ہونٹوں سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔۔ گلابی گلابی نازک سے ہونٹ ۔۔۔۔۔ ان کے چوتڑ بھی ان کی طرح نرم و نازک سے تھے ۔۔۔نرم روئی کے گولے کی مانند ۔۔۔۔۔اور
بال مجھے ہمیشہ سے ہی اٹریکٹ کرتے تھے ۔۔۔سیاہ لمبے چمکتے ہوئے بال۔۔۔جن کی خوشبوسامنے والے کو مستانہ کردے ۔۔۔۔بھابی آہستہ آہستہ تیزی سے ہونٹ چوم رہی تھیں


پھر انہوں نے میرے ہونٹوں کو چوسنا شرو ع کیا ۔۔۔ایک چسس کی آواز آئی اور پھرآنے لگی۔۔۔وہ اناڑیوں کی طرح میرے ہونٹ چوس رہی تھی۔جیسے پہلی بار کوئی بچہ
کوکھٹی چیز دے اور وہ اسے چوس چوس کر کھا رہا ہوں ۔۔۔۔میں بھی بڑے اطمیناں سے ان کے چوتڑ کو دبا رہا تھا ۔۔۔۔۔بھابھی کے چھوٹے اور گول مٹول سے ممے میری سینے
میں دبے ہوئے تھے ۔۔اور صاف پتا چل رہا تھا کہ نیچے کچھ نہیں پہنا ہے انہوں نے ۔۔۔۔بھابھی کی گرم گرم سانسوں میرے چہرے سے ٹکرا رہی تھی ۔۔۔۔میں نے ان کی
شلوار کو تھوڑا سے نیچے کرتے ہوئے اپنے ہاتھ ان کے چوتڑ پر جما دیے ۔۔۔بھابھی کی ایک سسکاری نکلی اور ساتھ ہی میں نے اپنی زبان نکال کر ان کے منہ ڈالی دی جسے وہ اسی
طرح چوسنے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسی ہی چوستی رہیں تو نیچے سے میرا ہتھیار بھی انگڑائی لینے لگا تھا ۔۔۔میں نے بھابھی کو سائیڈ پر لٹا تے ہوئے ان کے اوپر آ گیا ۔۔۔اور
اپنی پوری شدت سے ان کے چہرے پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔پورا چہرہ چوم کر میں ان کے ہونٹوں پر آیا ۔۔۔جسے چوستے ہوئے اپنے ہاتھ میں نے بھابھی کے مموں پر جما دئے ۔۔۔ان
کے نپلز مجھے اوپر تک محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔نیچے میرا ہتھیار کھڑا ہو کر ان کے چوت کے لبوں پر دستک دینے لگا ۔۔۔بھابھی نے ایک ہاتھ نیچے کیا اور اسے تھامنے لگیں
۔۔کپڑے کے اوپر سے ہی ہاتھ آگے پیچھے کر نے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔جس سے اس کی ہوشیار ی اور بڑھتی جا رہی تھی ۔۔اور وہ سختی سے تننے لگا ۔۔۔۔میں نے بھابھی کو تھوڑا سا
اٹھایا اور قمیض اتار دی ۔۔۔۔حسب توقع نیچے کچھ نہیں پہنا تھا ۔۔واپس لٹاتے ہوئے میں ان کے مموں پر آ گیا ۔۔۔اور بے صبری سے چوسنے لگ گیا ۔۔۔۔۔بھابھی میرے سر
پر ہاتھ پھیرتی ہوئی مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ان کی آنکھوں میں میرے لئے محبت کی چمک واضح تھی۔۔۔۔میں نے ان کے مموں کو چوس چوس کر پہلے سے زیادہ لال اور گلابی کر
دئیے تھے ۔۔۔۔اور نیچے آتے ہوئے ان کی شلوار بھی اتار دی ۔۔۔جہاں ان کی گلابی ریشمی سیپی جیسی چوت میرے سامنے تھی ۔۔۔۔میں نے بھی اس پر اپنے ہونٹ جما دیئے
۔۔۔بھابھی کی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔۔۔وہ نیچے کو میرے ہاتھ سے میرے بالوں کو کھینچ رہیں تھی ۔۔۔کچھ دیر ان کی چوت کے دانے پر اپنے زبان مسل کر میں نے
زبان اندر داخل کر دی تھی ۔۔۔بھابھی ایک آہ۔۔۔۔کرتی ہوئیں اوپر کو اٹھیں ۔۔۔۔میں نےہاتھ کے انگوٹھے سے دانے کو مسلتے ہوئے اپنی زبان اند ر باہر کرنا شروع کر دیا
تھا ۔۔جس کے ساتھ ساتھ بھابھی کی اوہ ۔۔۔آہ۔۔۔۔سس ۔۔۔۔شروع تھی ۔۔۔۔۔میں نے ان کی چوتڑ کے نیچے دونوں ہاتھ ڈالتے ہوئے انہیں تھوڑا سا اوپر اٹھا دیا
۔۔۔چوت میرے سامنے تھی ۔۔۔۔اور میرے دونوں ہاتھ ان کے چوتڑوں کو مسل رہے تھے ۔۔دبا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ان کی آہیں اور بڑھنے لگیں تھیں ۔۔۔میں نےبھی
زبان اندر باہر کرنے کی اسپیڈ تیز کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔اور پانچ منٹ ہی گذرے تھے کہ بھابھی کی میرے سر پر گرفت اور سخت ہو گئی ۔۔۔ان کی سس ۔۔۔۔سس ۔۔آہ
۔۔بھی بڑھ رہی تھی ۔۔۔اور ایک جھٹکے سے انہوں نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر اسی حالت میں رہنے کے بعد میں آہستہ سے اوپر آگیا ۔۔۔۔بھابھی کے اوپر جھکنے لگا تھا کہ
وہ اٹھ گئیں اور میری قمیض اتار نے لگیں ۔۔۔۔۔اور قمیض اتار کے مجھے بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔۔ساتھ ہی میرے ہونٹ چومتے ہوئے نیچے کو آنے لگیں ۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ
میرے سینے پر تھیں ۔۔۔ناف کے نیچے ہاتھ پھیرتی ہوئیں وہ اوپر کیطرف نپل کو چوم رہی تھیں ۔۔۔ساتھ چوس بھی رہی تھیں ۔۔۔۔۔مزے کی ایک لہر نکلتی ہوئی میرے ناف
کے نیچے تک جا رہی تھی ۔۔کچھ دیر میں بھابھی نے میرے دونوں نپلز کو چوس چوس کر گیلا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔وہ اور نیچے کو ہوئی اور شلوار اتارنے لگی۔۔۔۔۔۔جلد ہی میرا
ہتھیارکھڑا ہوا لہرا رہا تھا ۔۔۔۔بھابھی کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ تعریفی انداز تھا ۔۔انہوں نے دونوں ہاتھوں میں اسے تھاما اور چومنا شروع کر دیا ۔۔۔۔وہ چاروں
طرف سے اسے چوم رہی تھی۔۔۔پھر تھوڑا تھوک نکل کر اسے ملنے لگی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہتھیار تن کر سخت لوہے جیسا ہو گیا ۔۔۔۔میں نے بھابھی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اوپر
کھینچ لیا اور منہ چومنے لگا ۔۔اور ساتھ ہی انہیں اپنی سائیڈ پر لٹا کر ان کا منہ اپنی طرف کر دیا ۔۔۔۔ان کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے بازو میں تھام لی تھی ۔اب ان کی ایک ٹانگ
سیدھی اور ایک میرے ہاتھ میں تھی جسے میں نے اوپر تک اپنے بازو میں سمبھالا ہو ا تھا ۔۔نیچے سے ہتھیارکا پمپ ایکشن شروع ہونے والا تھا ۔۔۔یہ پوزیشن قدرے بہتر تھی
کہ اس میں زیادہ ہل جل نہیں تھی ۔۔جب تک بھابھی عادی نہ ہو جاتیں ۔۔۔اور پھر ہتھیار کے ٹوپے نے ان کے چوت لے لبوں پر دستک دی ۔۔۔۔اور اجازت ملتے ہی میں
نے دباؤ بڑھا دیا ۔۔۔بھابھی کی سس نکلی اور ٹوپا اندر داخل ہو چکا تھا ۔۔مہماں نوازی اچھی ہوئی تھی ۔۔۔۔چوت پورے طریقے سے گیلی ہوئی تھی۔۔۔۔میں نےبھابھی کی
ٹانگ کو سمبھالتے ہوئے تھوڑا اور دباؤ بڑھا یا ۔۔۔ایک اور گرم اور سس۔۔۔۔آہ نکلی تھی ۔۔۔۔میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد دباؤ بڑھا تا گیا ۔۔۔بھابھی سانس روک کر اس درد
کو برداشت کررہی تھی ۔۔ہتھیار پورے زور سے اندر پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔اور بھابھی بھی اسی طریقے سے اسے محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔میں ہتھیار آدھے تک گھسا چکا تو
باہرکھینچ کر دوبارہ سے اندر کرنے لگا۔۔۔۔اور واپس کرتے ہوئے پمپ ایکشن کا ایک ردھم شروع کردیا ۔۔بے شک آدھا ہی اندر گھسا تا تھا مگر مستقل مزاجی سے اور پورے
زور سے ۔۔۔۔۔اسپیڈ نارمل ہی تھی ۔۔۔۔اس پر بھی بھابھی کی گرم گرم سسکیاں مجھ پر لپک رہی تھیں ۔۔۔۔۔ایک ہاتھ ان کا میرے سر کے گرد گھوما ہوا تھا ۔۔دوسرا ہاتھ
میرےاس ہاتھ پر تھا جس نے ان کی ٹانگ تھامی ہوئی تھی ۔۔اور اسی ہاتھ کو وہ اپنے ممے مسلنے کے لئے بھی استعمال کر رہی تھیں۔۔۔ساتھ ساتھ ان کے ہونٹ ان کی زبان کے
پھیلنے سے گیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میں نے آگے کو جھکتے ہوئے ان کے ہونٹ چوم لئے ۔۔۔میر ا ردھم نیچے سے جاری تھا ۔۔۔۔۔بھابھی اب تھوڑی دیر بعد
سسس۔۔آہ۔۔۔۔۔افف کی آواز نکال دیتی تھیں ۔۔۔۔۔ میں پانچ منٹ تک ایسے ہی ان کو ریہرسل کرواتا رہا ۔۔۔اور مجھے لگ رہا تھا کہ اب وہ تیار ہو چکی ہیں ۔۔۔۔۔میں
نے سیدھ لیٹتے ہوئے ان کو اپنے اوپر سوار کروا دیا ۔۔۔لن اب بھی اندر ہی تھا۔۔۔۔انہوں نے اپنے پاؤں میرے دائیں بائیں جمائے اور سواری شروع کردی ۔۔۔ان کے
ہاتھ میرے سینے پر ٹیک لگا چکے تھے ۔۔وہ آہستہ آہستہ نیچے اوپر ہو رہی تھیں۔۔۔۔ہتھیار بھی پہلےسے زیادہ اندر جا چکاتھا ۔۔ان کی آہیں بھی اب پہلے سے زیادہ اونچی اور گرم
تھیں ۔۔۔وہ اپنے مرضی کا ہتھیار اپنے اند ر لے رہیں تھیں اور اپنی مرضی ہی کی آہیں باہر نکال رہی تھیں ۔۔۔جب ہتھیار تھوڑا سا زیادہ اندر ہو جاتا تو وہ اوئی کر کے تیزی سے
اوپر اٹھتی تھیں اور پھر آرام آرام سے بیٹھنے لگتیں ۔۔۔۔۔میں بھی ان کے ہاتھوں کے درمیان سے ہاتھ گزار کران کےمموں کا دبا رہاتھا ۔۔نپلز کو مسل رہا تھا ۔۔۔بھابھی کچھ
دیر ایسے ہی اوپر نیچے ہورہی تھی ۔۔ان کی اسپیڈ کم ہونے لگی تھی۔۔۔۔اب میری باری تھی ۔۔۔۔طوفانی اور دھواں دار ایکشن کے لئے ۔۔۔۔راجہ جس کے لئے مشہور تھا
۔۔۔۔میں بھابھی کو رکنے کا کہا اور اٹھنے لگا۔ بھابھی کو میں نے بیڈ پرلٹا دیا تھا ۔۔۔۔۔ہتھیارپوری طرح سے تیار اور چمک رہاتھا ۔۔۔۔میں نے بھابھی کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر اپنے
بازوؤں میں سمبھال لی تھی ۔۔۔۔۔اور ان کے قریب اپنے پاؤں پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔میں نے انہیں تھوڑا سا کھینچ کر اور اوپر اٹھا دیاتھا ۔۔ان کے چوتڑ اب بیڈ پر نہیں بلکہ ہوا
میں اوپر کو اٹھے ہوئے تھے ۔۔اور ٹانگیں تو پہلے ہی اوپر کی طرف تھی جہاں میرے ہاتھ نے سمبھالا ہوا تھا۔۔۔بھابھی کے صرف کندھے اور تھوڑا سا نیچے کا حصہ ہی بیڈ پر تھا
۔۔۔۔جیسے ہی پوزیشن بنی ۔۔بھابی بھی سمبھل چکی تھیں اور بھرپور پمپ ایکشن کے لئے خود کو تیار کرنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔میرا لن اب بالکل ان کی چوت کے اوپر رکھا
ہواتھا ۔۔۔میں نے ہلکا سا اپنی ٹانگوں کو نیچے جھکایا اور ٹوپا اندر داخل ہو گیا ۔۔۔اور اس کے بعد دباؤ بڑھاتے ہوئے سیدھ اندر گھسانے لگا۔۔۔۔جب اچھا خاصا اندر پہنچ چکا تو کچھ
دیر کو رکا اور پھر باہر کو نکالا ۔۔۔۔۔ٹوپا اندر ہی رکھ کر میرا جھٹکا لگاتھا ۔۔۔۔بھابھی کے منہ سے اوئی کی آواز نکلی تھی ۔۔۔انہوں نے بیڈ پر ہاتھ رکھے ہوئے خود کو سمبھالا ہوا تھا
۔۔۔ان کے بال بیڈ پر ہی بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔اور وہ اپنی نشیلی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے ہتھیار باہر کھینچا اور دوبارہ ایک جھٹکے سے اندر گھسا دیا
۔۔۔۔۔اب پہلے سے زیادہ اندر گھسا تھا ۔۔۔بھابھی کی افف۔۔۔آہ ۔۔۔۔کی آواز نکلی تھی ۔۔۔اور پھر میں شروع ہو گیا تھا ۔۔۔پہلے ہلکی اسپیڈ میں ۔۔ایک ردھم کے ساتھ
۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ بیڈ بھی نیچے کو جھکتا اور اور اپنے اسپرنگ کے زور پر مجھے اوپر کے اٹھاتا ۔۔۔۔۔اٹھ کر میں جب نیچے کو آتا تو لن پوری اسپیڈ سے اندر گھستا ہوا آتا تھا
۔۔۔۔بھابھی کی ہرجھٹکے کے ساتھ افف۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔۔کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔۔۔وہ پورے طریقے سے مدہوش ہوئی ہو چکی تھیں ۔۔میرے ہر
جھٹکے سے ان کا منہ کھلتا اور بند ہوتا تھا ۔۔سا تھ ہی ہاے ۔۔۔۔افف۔۔۔۔اوئی کی آواز آتی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اپنی اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔۔۔۔اور بیڈ کی چوں چوں بھی بھابھی
کی آہ ۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔میں شامل ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میرے جھٹکے بڑھتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔بھابھی کی سسکیاں کراہوں میں تبدیل ہو تی جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔بھابھی
کچھ دیر بعد نیچے کو کمر لگانے لگیں تو میں نے نے دوبارہ کھینچ کر اوپر کی طرف کر دیا ۔۔۔۔۔ان کی چوت بالکل اوپر کی طرف اٹھی ہوئی جس میں میرا لن پوری اسپیڈ سے اندر اتر
رہا تھا ۔۔۔۔۔بھابھی کی کراہیں مجھے اور اکسا رہی تھیں ۔۔۔۔۔ابھی تک ان کی وہ آؤں ۔۔۔۔۔آؤں کی آواز نہیں آئی تھی ۔۔۔۔میرے جھٹکے اب اور تیزی پکڑ چکے تھے
۔۔۔۔ساتھ ساتھ ہی بھابی کی افف۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔پانچ سے سات منٹ میں نے تیز کمر توڑ جھٹکے مارے تھے
اور پھر ان کی ٹانگیں نیچے رکھنے لگا۔۔۔۔ان کے چہرے پر پسینے آنا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے انہیں گھوڑی بننے کا کہا تھا تو وہ تھکے تھکے انداز میں مڑ گئیں اور گھوڑی بن
گئی ۔۔۔۔یہ میرا پسندیدہ انداز تھا ۔۔اور پہلی بار میں نے بھابھی کو ہی اس انداز میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔بھابھی گھوڑ ی بن چکی تھی۔۔۔۔پتلی سی کمر کے نیچے گول مٹول گانڈ مستی سی
جھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے بھی پوزیشن سمبھا ل تھی ۔۔۔۔اور ہتھیار کو گانڈ کے درمیان سے گزار کر چوت پر سیٹ کر دیا ۔۔۔اور ساتھ ہی ایک زور دار جھٹکا مارا
۔۔۔۔۔۔بھابی کی ایک زوردار چیخ نکالی ۔۔۔۔۔۔آدھے سے زیادہ لن اندر ہی تھا ۔۔۔اور یقینا چیرتا ہوا ہی اندر گھسا تھا ۔۔۔۔اوئی مر گئی ۔۔۔۔۔۔۔راجہ آرام سے
۔۔۔۔میرا ایک دھکا اور پڑا تھا اور بھابھی آگے کی طرف جھک گئیں تھی ۔۔۔۔میں پھرانہیں پوزیشن پر واپس لایا ۔۔۔۔اور پھر دھکوں کی مشین شروع کر دی
۔۔۔۔۔۔بھابھی اب مستقل اوئی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔افف۔۔۔۔ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔میراجھٹکوں کی اسپیڈ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔بھابھی بار بارآگے کو گرتی اور پھر واپس
سمبھلتی ۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ وقت آ گیا جب لذت اور شہوت سے بھری ہوئی وہ آواز نکلی تھی۔۔۔۔۔آؤں۔۔۔۔۔آؤں۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔آؤں ۔۔۔۔میرا دل مستی میں
جھوم چکا تھا ۔۔میں نے آگے کو جھک کر بھابھی کے چھوٹے اور گول ممے تھام لئے تھے ۔۔۔۔اوراب انہیں کی طرح ان پر جھکا ہوا تھا ۔۔۔۔میرے اسٹروک اب بہت پاور سے
تھے ۔۔۔میرے پورے جسم کے وزن کے زور کے ساتھ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور بھابھی بھی آؤں ۔۔۔۔۔آؤں ۔۔۔۔۔۔آؤں ۔۔۔۔کرتی ہوئی مست ہو چکی تھیں
۔۔۔۔۔۔میں دھکے پر دھکا مارتا جا رہاتھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ بھابھی کے مموں کو بھی مسل رہا تھا ۔۔۔ان کے نپلز سخت ہو کر پہلے سے بڑے لگ رہے تھے ۔۔۔ان
کی پوری کمر پر پسینہ چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔بیڈ بھی میرے جھٹکے کے آگے بری طرح سے کانپ رہا تھا ۔۔۔اور بھابھی کی مستی بھری آہیں اور سسکیوں سے کمرہ گونج رہا تھا
۔۔۔۔۔۔بھابھی کی آؤں ۔۔۔۔۔آؤں ۔۔۔۔۔کے ساتھ اوں ۔۔۔۔اوں ۔۔۔۔کی آواز بھی شامل ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔میرےجھٹکے کے جواب میں ایک باربھابھی آگے کے
گری تو اٹھ نہ سکیں ۔۔۔۔ویسے ہی لیٹی رہیں ۔۔۔۔اور پھر میں بھی ان کے اوپردونوں ہاتھوں کے بل پر پوزیشن لے چکا تھا ۔۔۔۔۔۔بھابھی کی گول گول گانڈ میری ناف کے
نیچے ٹکڑا کر تھپ تھپ کی آواز نکا ل رہی تھی ۔۔۔۔بھابھی نے بیڈ کی چاد ر کو اپنے ہاتھوں میں دبوچ رکھی تھی ۔۔۔۔۔منہ تھوڑا سا اوپر کو اٹھایا ہوا تھا جس سے آؤں
۔۔۔۔۔آوں ۔۔۔۔اوں۔۔۔اوں کی آواز نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔میرے جھٹکے اب اپنی آخری اسپیڈ پر تھے ۔۔۔میرے فارغ ہونے کا ٹائم قریب ہی تھا ۔۔۔۔اور بھابھی بھی
قریب ہی تھیں ۔۔۔۔اور یہی وقت تھا کہ میری پہلی غراہٹ نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی جھٹکا اپنی انتہائی اسپیڈ سے پڑا تھا ۔۔۔اور بھابھی کی آواز اور اونچی ہو گئی
۔۔۔آہ۔۔۔۔۔افف۔۔اوں ۔۔اوں۔۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میری غراہٹیں گونجنے لگیں تھی۔۔۔اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا ۔۔ہر چیز سلو موشن کے بجائے
فاسٹ موشن میں ہو جاتی تھی ۔۔۔۔اور آس پاس کی ہر چیز غائب ہو جاتی تھی ۔۔۔۔اب صرف بھابھی کی آوازیں اور ان کی پتلی کمر ہی نظر آرہی تھی ۔۔۔۔۔مجھے ایسا لگ رہا تھا
کہ پورا خون نیچے کی طرف کو اکھٹا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔میں نے بھابھی کے بال پیچھے کو کر کے پکڑ لیے تھے ۔۔۔۔۔اور جھٹکے پہلےسے دگنے کر دے تھے ۔۔۔۔بھابھی کی
افف۔۔۔آہ۔۔۔۔اوں کی آواز کے ساتھ گانڈ بھی اوپر نیچے ہو رہی تھی۔۔۔وہ بھی فارغ ہونے لگی تھی ۔۔۔۔اور پھر ایک زبردست چیخ کے ساتھ انہوں نے پانی چھوڑ
دیا۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے تین چار اور جھٹکے مارے او ر ان کے پیچھے ہی فارغ ہونے لگا۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تک میرا پانی نکلتا رہا اور میں بھابھی کے اوپر ہی ڈھیر ہوتا گیا۔۔۔۔
۔کچھ دیر بعد ہم ایک دوسرے سے لپٹ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ایک دوسرے کو چوم رہے تھے چاٹ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔بھابھی مجھے اچھے سے چوم چکیں تو اٹھیں
۔۔۔۔۔۔راجہ میں چلتی ہوں ۔۔تمہارے بھیا کبھی بھی آ سکتے ہیں ۔۔۔۔میں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔اور پھر کب نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔
اگلا دن میری برات کا تھا ۔۔۔سارا دن ہلا گلا میں گزرا تھا ۔۔۔۔۔سب لو گ بیحد خوش تھے ۔۔۔اسی خوشیوں میں ہم برات لے کر واپس آچکے تھے ۔۔۔۔میرا کمرہ بھائی اور بھابھی نےمل کر سجایا تھا
۔۔۔۔بیڈ سے لے کر ہر چیز نئی اور خوشبوؤں میں مہکی ہوئی تھی ۔۔۔بیڈ پر گلاب کے پھول کی لڑیا ں چاروں طرف سجی ہوئی تھیں ۔۔۔۔میں نیچے ہی تھا کہ ثناء کو اوپر میرے
کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر میں دودھ کا ایک گلاس بھی چاچی لے کر اوپر چلی گئیں ۔۔۔کافی دیر تک ان کی باتیں ہوتیں رہیں ۔ا س کے بعد مجھے اوپر آنے کا اشارہ
ہوا۔۔۔میں اندر داخل ہوا تو سرخ جوڑے میں ایک حور میری منتظر تھی ۔۔۔۔۔دروازہ بند کرکے میں بیڈ پر جا بیٹھا ۔۔۔۔۔ثناء گھونگھٹ ڈالے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔میں اس
کے قریب ہوا اور آہستہ سے گھونگھٹ اٹھا دیا ۔۔جھکی ہوئی نظر کے ساتھ ایک چاند چہرہ میرے سامنے تھے ۔۔۔میک اپ نے اس کے حسن کو اور دو آتشہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔میں
نے جیب سے انگوٹھی نکالی اور منہ دکھائی کے طور پر پہنا دی۔۔۔۔۔اسکے بعد کچھ دیر ہمارے درمیاں باتیں ہوتی رہیں ۔۔۔ہم دونوں کو یقین نہیں تھا کہ اتنی جلدی یہ دن آ
جائے گا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد میں نے ثناء سے کہا کہ جیولری اتار کر فریش ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔پھر آرام کرتے ہیں ۔۔۔وہ اٹھی اور جیولری اتار کر آنے لگی ۔۔۔میں نے کہا کہ کپڑے
بھی چینج کر لو ۔۔۔وہ گئی اور باتھ روم میں لٹکی ایک بلیک کلر کی نائٹی پہن کر آ گئی ۔۔جس میں سے چاندی جیسا جسم چمکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔وہ قریب آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی اور
دودھ کاگلاس تھام کر مجھے پکڑا دیا ۔۔۔میں نے آدھا پی کر باقی اسے دے دیا ۔۔۔ اور کچھ ہی دیر میں ہم بیڈ پر لیٹے ایکدوسرے سے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔اس کی مہکی ہوئی سانسیں مجھ تک پہنچ رہی تھیں ۔۔۔۔اور نشیلی آنکھوں کے دیکھ کر میں بھی مدہوش ہوئے جا رہاتھا ۔۔۔۔بلیک نائٹی میں اس کے جسم جھلک رہا تھا ۔۔مگر وہاں تک پہنچنے میں ابھی ٹائم تھا ۔۔۔۔میں نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کے چوما اور پوچھا کہ اب تو شرم نہیں آ رہی ۔۔۔اس ٹائم تو بہت شرما رہی تھیں ۔۔۔۔اس نے جواب میں میرے ہاتھوں کو اپنی نازک انگلیوں سے پکڑا اور چوم لیا ۔۔اور کہنے لگی کہ اب میں آپ کی ہی ہوں ۔۔۔۔جو بھی ہے آپ کا ہی ہے ۔۔چاہے تو دل میں بسا لیں ۔۔یا پھرقدموں میں بٹھا دیں ۔۔۔۔میں نے اپنا ایک بازو پھیلا کر ثناء کا سر اس پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔وہ پہلے سے اور قریب آ چکی تھی ۔۔۔اس کے جسم کی گرمی مجھے محسوس ہو ہی تھی ۔۔۔۔اور اس کے گالوں کو چومنے لگا ۔۔۔۔سرخی گلابی ہوئے اس کے گال کسی سیب کی طرح تمتما رہے تھے ۔۔میں بھی چومتا رہا ۔۔۔۔اس کی آنکھوں کو ۔۔۔۔اس کے کانوں کو ۔۔۔۔۔پورے چہرے کو چوم چوم کر دمکا چکا تھا ۔۔اس کے ہونٹ کسی گلاب کی پنکھڑی کی طرح تھے ۔۔۔۔وہ بھی آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔میں پھر اس کے ہونٹوں کے طرف بڑھا اور چوم لیا ۔۔وہ بے اختیار کانپ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔اس کے نازک سے بازو بیڈ پر رکھے ہوئے تھے ۔میں نے ایک بازو اٹھا کر اپنے اوپر رکھ دیا ۔۔اس کی شرماہٹ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کے کان اور گال لال ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔میں نے اس کی انگلیوں کو پکڑا اور اپنے منہ میں ڈال کر چومنے لگا ۔۔اور کچھ دیر بعد چوسنے لگی ۔۔۔اس نے آنکھ کھول کر کہا یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔پیار کرر ہا ہوں ۔۔۔منع ہے کیا ۔۔۔۔اس کے مہندی لگےہاتھوں کی خوشبو میری ناک میں مہک رہی تھی ۔۔۔اور اس کے بعد اس کے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دئے ۔۔۔وہ مستقل لرز رہی تھی ۔۔۔۔میں نےاٹھ کر لائٹ بند کر کے نائٹ بلب آن کر دیا تھا ۔۔جس کی لائٹ بلیو لائٹ مدھم پھیلی ہوئی تھی ۔میں اپنے کپڑے اتار کر۔۔ بیڈ پر واپس پہنچا اور اس کی نائٹی کی ڈوری کھولنے لگا۔۔۔۔ثناء خود میں سمٹنے لگی تھی ۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں اس کی سرخ برا ااور پینٹی بھی اتار چکا تھا ۔۔۔۔۔اوراس کے برابر میں آ کر لیٹ گیا ۔۔۔اس نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں ۔
خود سے بھی شرمانے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے اسے دوسری
طرف کروٹ دی اور بال پیچھے سے اکھٹے کرتے ہوئے اٹھادئیے ۔۔۔ساتھ ہی اس کی کمرکو چومنے لگا ۔۔۔اس کا منہ دوسری طرف تھا ۔۔۔۔۔اور اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر اس کی ٹانگوں پر رکھ دی تھی ۔۔۔۔۔۔اور آگے کو ہو کر پیچھے سے اس کو چپک چکا تھا ۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ آگے کو کیا اور اس کے نرم و نازک گول گول ممے تھام لیا ۔۔۔یہ بھابھی سے تھوڑے سے بڑے تھے اور نیچے کو جھکے سے ہوئے ۔گوشت سے بھرے ہوئے ۔۔اور نپلز تھوڑے سے لمبے گلابی رنگ کے اوپر کو اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جیسے ہی میرا ہاتھ مموں کو ٹچ ہوا ۔ثناء ایک مرتبہ پھر کانپ چکی تھی ۔۔۔۔۔میری پوری بوڈی اس سے مل چکی تھی میں اب اس کی گردن کو چوم رہاتھا ۔۔۔۔۔اور وہ بار بار سر دائیں بائیں کر کے مجھے ہلا رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے مموں کو چھو تے ہوئے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ نیچے لانے لگا تھا ۔۔۔۔۔اس کے پیٹ بالکل سیدھ میں تھا ۔۔ناف تھوڑی سی اندر کو ۔۔۔۔اس کے اندر انگلی گھماتے ہوئے ۔۔۔۔۔میں ناف سے نیچے جا چکا تھا ۔۔۔۔۔وہ مزید اپنے اندر سمٹ رہی تھی ۔۔۔۔ٹانگوں کو ہلا کر ہاتھ ہٹانےکی کوشش کر رہی تھی ۔۔مگر کچھ بھی سود مند نہیں تھا ۔۔۔میرا ہتھیار بھی فل کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔اور اس کی گانڈ کے درمیان اٹکا ہوا تھا ۔۔۔۔ثناء اس سے بھی بے چیں ہوئے جا رہی تھی ۔۔۔۔اس کی گانڈ نیچے سے گول گول ، گوشت سے بھری ہوئی ۔۔نرم نرم کسی بڑی سی ناشپاتی کیطرح دائرہ میں تھی ۔۔میں نے اب ثناء کو سیدھا لٹا دیا تھا ۔۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل سے میں زیتوں کے تیل کی شیشی اٹھالایا تھا ۔۔۔۔میں نے تیل نکالا اور کافی سارا اسکے سینے اور پیٹ پر ڈال دیا ۔۔۔۔میں اب اس کے اوپر آ کر دونوں پیر دائیں بائیں رکھ چکا تھا۔ اور دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے اور سینے سے نیچے تیل لگانے لگا۔۔۔۔مساج کرنے لگا۔۔۔اس کے ممے بھی تن کر کھڑےہو چکے تھے ۔۔تیل لگنے سے وہ بھی چمک سے رہے تھے ۔۔۔۔اس کے پورے جسم سے ایک گرم گرم سی لہریں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔۔میرا ہتھیار آگے کو جھکا ہوا اس کے پیٹ پر ٹچ ہو رہا تھا ۔۔۔ثناء کی آنکھیں اب تک بند تھی۔۔۔اور وہ آنکھیں بند کیے ہوئے آہستہ آہستہ آہیں بھر رہیں تھی ۔۔۔اس کے ہاتھ میرے بازوؤں پر پھر رہے تھے جو کہ اس کے سینے پر مساج کر رہے تھے ۔۔۔۔۔اس کے دل کی دھڑکن بہت تیزی سے ہو رہی تھی ۔۔۔جو مجھے صاف محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔میں آہستہ آہستہ پورے سینے پر تیل لگا چکا تھا ۔۔۔اور نیچے جانے سے پہلے ایک مرتبہ اوپر گیا اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا ۔۔۔وہ بے چیں ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔شاید اپنی یہ کیفیت سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر ہونٹ چوسنے کے بعد نیچے آگیا ۔۔۔۔اور کافی سارا تیل لے کر اس کےناف کے نیچے اور چوت کے اوپر ڈال دیا ۔۔۔اور پھر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔اس نے کمر کو تھوڑا سا اوپر کی طرف اٹھایا تھا ۔۔۔میں آہستہ تیل ملتا جا رہاتھا ۔۔۔کچھ دیر بعد چوت کے دانے کو مسلا ۔۔۔وہ پھر اوپر کو اچھلی تھی ۔۔اوئی کی سریلی آواز اس کے منہ سے نکلی تھی ۔۔یہ اس کمرے میں گونجنے والی اس کی پہلی آہ تھی ۔۔۔میں اب اس کی چوت کو باہر سے اچھے سے مساج کر چکا تھا ۔۔ایک انگلی میں نے اچھے سے گیلی کی اور اندر ڈالنے لگی ۔۔۔۔ثناء کی چوت کے لب آپس میں چپکے ہوئے تھے ۔۔۔۔انگلی بھی پھنستی ہو ئی جا رہی تھی۔۔۔۔ثناء کی ایک اور اوئی کی آواز نکلی تھی ۔۔۔۔میں نے ایک انگلی آگے پیچھے کرنا شروع کر دی تھی ۔۔۔اور تھوڑا اور تیل اندرڈال دیا تھا ۔۔۔۔ثناء کی آنکھیں اب تک بند ہی تھیں۔۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ نیچے کئے ہوئے بیڈ کی چاد رکو پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔میں نے دوسری انگلی بھی اکھٹی کی اور وہ بھی چوت میں ڈال دی ۔۔۔ثناء کی ایک اور اوئی نکلی تھی ۔۔۔۔۔اس نے چادر کو اور زور دے بھینچ لیا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں تیسری انگلی بھی ڈال چکاتھا ۔۔۔تیل کی وجہ سے اس کے چوت نرم ہوتی جا رہی تھی ۔۔اور ساتھ ساتھ پانی بھی چھوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔جو میرےہاتھ کو گیلا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی کرتا رہا ۔۔۔اور پھر اوپر کر اٹھ گیا ۔۔۔۔اپنے ہونٹوں کو میں نے اس کے ہونٹوں پر جما دیا تھا ۔۔۔اور نیچے سے ہتھیار پر تیل لگا کر اسے بھی تیار کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔ٹوپا چوت کے لب پر رکھ کر زور دینے لگا ۔۔تو وہ سلپ ہونے لگا۔۔۔۔ثناء کا رنگ زرد ہو چکا تھا ۔۔۔۔وہ لن کے ٹچ کے ساتھ ہی کانپ سی جاتی تھی ۔۔۔میں پھر نیچے کو ہوا اور لن کا ٹوپا اس کی چوت پر رکھ کر دباؤ بڑھا دیا ۔۔چوت تھوڑی سی کھلی تھی ۔۔۔باقی ٹوپے نے کھول دی تھی ۔۔۔ثناء کی ایک زوردار چیخ نکلی تھی ۔۔۔اس نے ایک ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر دبا دیا تھا ۔۔۔میں نے ٹوپا وہیں رہنے دیا اور چوت کے دانے کومسلنے لگا ۔۔۔۔۔۔ثناء کی آہیں نکل رہی تھی ۔۔ میں اسے اٹھ کر چوم بھی نہیں سکتا ورنہ یا تو لن نکلتا یا پھر اور اندر گھستا۔۔میں نے اب آہستہ سے لن کو اندر گھسانا شروع کر دیا تھا ۔دو انچ گھسانے کے بعد جھلی آ چکی تھی ۔میں اس کے اوپر بھی دباؤ بڑھاتا گیا ۔۔اس کی ایک اور چیخ نکلی تھی اور۔۔۔ثناء کی مستقل سسکیاں نکلنے لگیں تھی ۔۔۔یہ سسکاریاں تکلیف سے بھرپور تھیں۔۔ ۔۔۔اور وہ شاید رو بھی رہی تھ ۔۔۔۔قریب پانچ انچ میں اند ر گھسا کررک چکاتھا ۔۔۔ساتھ ساتھ اس کی رانوں کو سختی سے مساج کرنے لگا۔۔۔اور اس کی چوت کے اوپر بھی مساج اوردانے کو مسل رہا تھا ۔۔۔اس کی جھلی پھٹ چکی تھی۔اور خون باہر کو نکلتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔میں کچھ دیر اسے ہی ٹہرا رہا ۔۔۔۔اور پھر باہر کو آہستہ آہستہ نکالنے لگا۔۔/ثناء کی پوری بوڈی کانپ رہی تھی ۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ اس کی سسکیاں اور آہیں بھی میرے دل کو پریشان کر رہی تھیں ۔۔مین نے لن کو باہر نکالا ۔۔۔اور دوبارہ سے تیل سے بھگو دیا ۔۔۔۔اور کچھ دیر بعد لن دوبارہ گھسانے لگا ۔۔۔۔وہ اب ہاتھوں کو چوت پر رکھ کر سسک رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر بعد اتنا ہی گھسا کر رک گیا ۔۔۔۔۔۔اورآہستہ آہستہ ہلانے لگا ۔۔۔۔۔مجھے پانچ منٹ سے زیادہ ہو چکے تھے ۔۔۔میں نے ہتھیار باہر کھینچا اور اوپر کو ہو کر لیٹ گیا ۔۔ثناء کے آنسو ابھی تک نکل رہے تھے ۔۔میں نے اس کو پورا چہرہ چوم لیا ۔۔۔آنسو بھی پینے لگا ۔۔۔میری جان کو تکلیف ہوئی ہے ۔۔۔۔بس یہی تکلیف تھی ۔۔۔اب مزا آئے گا۔۔۔۔۔اس کےآنکھوں میں تکلیف اور شکوہ بھرہ ہوا تھا ۔۔۔میں نے اسے سمیٹ لیا اور اپنی بانہوں میں چھپا لیا ۔۔۔وہ سہار ا پا کر پھر سے سسک اٹھی اور بے اختیار رونے لگی ۔۔۔۔میں اسے چپ کروانے لگا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد اسے بمشکل نارمل کیا ۔۔۔۔بس جانو اب مزہ آئے گا ۔۔۔۔۔مگر وہ مستقل انکار میں تھی ۔۔نہیں ۔۔مجھے نہیں کرنا ہے ۔۔بہت درد کرتا ہے ۔۔۔میں اب آہستہ آہستہ اسے کے مموں کو ہلانے لگا۔۔۔نپلز پکڑ کر کھینچنے لگا۔۔۔۔وہ ابھی بھی جھجک رہی تھی ۔۔۔۔۔شرما رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر ایسے گذری تو میں پھر نیچے کو آ گیا ۔۔اب اس کی ٹانگوں کو موڑ کر تھوڑا سے اٹھا لیا ۔۔۔اور لن سمبھال کر اندر گھسانے لگا۔۔۔۔ثناء کے منہ سے اوئی امی ۔۔۔۔۔مر گئی ۔۔کی آواز نکلی ۔۔۔۔اور پھر وہ اوپر کو اٹھی تھی ۔۔۔میں دباؤ بڑھا تھا گیا ۔۔۔پہلے والے نشان تک اندر گھسادیا ۔اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا ۔۔۔۔اس کے ممے ہلکے ہلکے باؤنس ہو رہے تھے اور آنکھیں بند تھی ۔۔منہ کھلا ہوا تھا جس میں سے آہ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔کی سریلی آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔میں پانچ منٹ تک ایسے ہی جھٹکے دیتا رہا تھا ۔۔۔۔اور پھراس کی ٹانگیں اٹھا کر کندھے پر رکھ دی تھیں ۔۔۔۔۔اب جھٹکوں کی اسپیڈ کچھ تیز تھی ۔۔۔اور وہ ہر سانس کے ساتھ آہ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔کر رہی تھی ۔۔۔کبھی جھٹکا زور کا پڑتا تو ۔۔۔افف۔۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔۔۔اوئی ماں ۔۔۔۔۔افف۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں وہ نارمل ہوتی جارہی تھی ۔۔۔۔اب اس کے آہوں میں مزے کا تناسب بھی آنے لگا تھا ۔۔۔۔۔اس کے مموں کا ہلنا جلنا بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔۔میرے جھٹکے بھی ایک ردھم میں تھے ۔۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ فارغ ہو چکی تھی ۔۔۔میں ابھی تک باقی تھا۔۔۔۔ہتھیار اسی طرح کھڑ ا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر اسے چومنے اور چاٹنے کے بعد میں نے اسے گھوڑی بنا دیا تھا ۔۔۔وہ زندگی میں پہلی بار ایسی حالت میں جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اس کی گوری گوری گوشت سے گول مٹول گانڈ آہستہ آہستہ ہل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔می نے پیچھے سے لن گزار کر چوت پر ٹکا دیا تھا۔۔اور زور دیتے ہوئے ٹوپا اندر گھسا دیا ۔۔۔اس کی سسس۔۔آہ۔۔۔۔نکلی تھی ۔۔اس نے ابھی بھی چادر کو دونوں ہاتھوں میں دبوچا ہوا تھا ۔۔میں اس کی کمر کو پکڑتے ہوئے اور آگے کر بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔اور پھر آہستہ سے ردھم بڑھانے لگا۔۔۔۔۔ثناء کی سسکیاں بھی ساتھ ساتھ بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے اس کی کمر کو چھوڑ کو دونوں چوتڑوں کو تھام لیا ۔میرےجھٹکے بڑھتے جارہے تھے ۔۔۔۔۔ثناء کی سسکیا ں بتا رہی تھیں کہ وہ بھی فارغ ہونے والی ہے ۔۔۔۔کچھ دیر اور جھٹکے مارتا ہوا میں فارغ ہونے لگا۔۔۔۔میرے ساتھ ہی ثناء بھی فارغ ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم دونوں بیڈ پر لیٹ چکے تھے۔۔۔ثناء ایک مرتبہ پھر میری بانہوں میں خود کو چھپائے لیٹی تھی ۔۔۔۔۔اور میں اسے بے

اختیار چوم رہا تھا ۔۔۔۔اسکول کے زمانے سے چلنی والی اس محبت میں ایک نیا رخ آچکا تھا۔۔۔اور میاں بیوی کے اس تعلق کے بعد وہ اور بھی بڑھنے والی تھی ۔۔۔۔۔۔

ختم شد ۔۔۔۔۔۔
Read Full Story...

یار پُرانے


یہ اک قصہ ہے ؟ یہ اک کہانی ہے ؟ یا یہ اک افسانہ ہے ؟ میں یہ نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے ؟ جسے میں لکھنے جا رہا ہوں ، شاید کچھ ایسی جلتی ہوئی یادیں اور جلتے ہوے سوال ہیں ، جو جل جل کے نہ تو خود نہ ہی مجھے راکھ ہونے دیتے ہیں
احمد نام ہے میرا ، ہاں یاری ہی کام تھا میرا..ایک ہی دوست بنایا میں نے زندگی میں ، نبیل نام تھا اسکا.نبیل اور میں بچپن ہی کے یار تھے..سچی دوستی تب وجود میں آتی ہے ، جب عادتیں ایک سی ہوں ، جب سوچ ایک سی ہو ، سو عادتیں کیا سوچ کیا سب کچھ ہی ایک سا تھا ہمارا
ہم ایک ہی سکول اور کالج میں پڑھے ، اور پھر یونیورسٹی کا انتخاب بھی مل کے کیا.ہمارا زیادہ وقت ایک ساتھ ہی گزرتا تھا ، اور جب ایک دوسرے سے الگ ہوتے ، یعنی گھر جاتے تو اکثر فون پہ بھی لمبی لمبی گپیں ہانکتے رہتے ، جیسے اکثر لڑکیاں ایک دوسرے کو کال کر کے گھنٹوں دو دو سو میل لمبی باتیں کرتی رہتی ہیں
دوستی تو ادھوری سی ہوتی ہے لڑائی جھگڑے کے بنا ، تو پھر کیا تھا ، نبیل اور میں کیلنڈر پہ تاریخ بدلنے سے پہلے پہلے ایک جھگڑا ضرور کرتے.ہمارے جھگڑے زیادہ تر اس بات پہ ہوتے کے ڈرفٹنگ میں زیادہ ماہر کون ہے ، ہم میں سے زیادہ سمارٹ کون ہے اور ایسی ہی اور بہت سی بے تکی باتیں..یہ اور بات ہے کہ آپس کی اس تکرار میں غصّہ نام کا ہی ہوتا
بگڑے ہوے امیر زادے تھے ، سو زندگی میں سنجیدہ ہونے کا دور دور تک کوئی ارادہ نہ رکھتے تھے
یہ یونیورسٹی کہ دور کی ہی بات ہے ، کہ میرا یار اکیلا ، میرا شہزادہ ، میرا چیتا دوست نبیل سنجیدہ ہو گیا ، چپ چپ سا رہنے لگا وہ.ایک دن گزرا دوسرا اور پھر تیسرا ، اسکی سنجیدگی میں کوئی کمی نہ آئی.میرے پوچھنے پہ یہ کہہ دیتا کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے.پر بچپن کا دوست تھا وہ میرا ، میں جان گیا کے وہ مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے ، پر اسکی یہ بات مجھے پریشان سی کرنے لگی کہ آج تک اسنے جب ایسا نہیں کیا تو پھر اب وہ ایسا کیوں کر رہا ہے
ایک ہفتہ یوں ہی گزر گیا ، پر نبیل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی ، یعنی کہ اس کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہ آئی.سردیوں کا موسم تھا ، ہم دونوں یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں ایک سائیڈ پہ بیٹھے ، دھوپ سے سکوں پانے کی کوشش میں مصروف تھے..نبیل خاموش بیٹھا سر نیچے جھکاے ، جانے کن سوچوں میں گم تھا.میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا.میں جیسے پھٹ سا پڑا : حد ہو گئی بھائی ، اکیس سال کے ہو گے ہیں ہم دونوں ، چار سال بچپن کے نکال دو ، باقی بچے سترہ سال ، اوے سترہ سال کی دوستی کی تجھے قدر نہیں کیا ؟..نبیل میری تقریر کو سنتے سنتے ہلکا سا مسکرایا ، اور بولا : ڈرامے نہ کر کمینے ، آج ویسے بھی تجھے بتانے والا تھا میں..میں نے منہ بناتے ہوے کہا : بڑی مہربانی جناب آپ کی ، آپ کا یہ احسان اب میں کیسے چکا پاوں گا..نبیل نے مجھے جیسے مناتے ہوے لہجے میں کہا : اچھا سالی ( سالے ) اب نخرے نہ کر نہ ، اور سن دھیان سے..میں نے نبیل کہ چہرے کی طرف دیکھا تو وہاں پھر سے سنجیدگی عود آئی تھی
نبیل کچھ پل کو ٹھہرا اور پھر بولا : تجھے بتایا تھا نہ ابّا کہ ایک دوست بزنس کے سلسلے میں ہمارے ہی شہر میں شفٹ ہو گے ہیں ، اور ہفتہ پہلے وہ اور انکی فیملی ہمارے ہاں ڈنر پہ انویٹڈ تھی..میں جو بغور نبیل کی بات سن اور اسکے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا تڑپ کہ بولا : ہاں ہاں ہاں بھیا جی یاد ہے آپ نے بتایا تھا ، اور واسطہ تجھے ، سیدھا سیدھا بتا تیرے ساتھ مسلہ کیا ہے ، کیوں یہ لمبیاں لگا کے سسپنس سے میرا ہارٹ اٹیک کروانے پہ تلا ہوا ہے؟
نبیل کہ چہرے پہ وہی سنجیدگی اب بھی ویسے ہی قائم تھی ، جیسے سنجیدگی اور نبیل نے قسم کھا لی ہو ایک دوسرے سے رشتہ کبھی نہ توڑنے کی:یار ابا کہ دوست کی ایک بیٹی ہے ، جو اس دن انکے ساتھ آئی تھی ، یار مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی ، جب سے اسے دیکھا ہے ، یقین کر میرے ہوش اڑے اڑے سے رہتے ہیں ، یار احمد اک دھند سی چھائی رہتی ہے میری آنکھوں کے سامنے ، تو ناراض ہوتا ہے کہ میں اتنے دن سے تجھ سے کوئی بات چھپا رہا ہوں ، مجھے ہوش ہی کہاں تھی بھائی ، کہ تجھے کچھ بتاتا..نبیل جب اب کی بار بولا تو پھر بولتا ہی چلا گیا.سسپنس کی وجہ سے جو بےچینی تھی وہ تو ختم ہو گئی ، پر اسکی حالت کو دیکھتے ہوے میں بےتحاشا پریشان ہو چکا تھا.وہ میرے ساتھ تو تھا ، پر ایسا لگتا تھا کے اسکا جسم تو میرے ساتھ ہے ، پر اپنی روح کو وہ کہیں اور کسی اور کے حوالے کر آیا ہے.اسکی ہر وقت زندگی سے بھرپور چمکتی آنکھیں آج خالی خالی مردہ مردہ سی ہوئی پڑی تھی
کتنی ہی دیر گزر گئی پھر ، اداسی میں ڈوبی اک خاموشی سی چھائی رہی ، آخر میں نے ہی خاموشی کے اس سلسلے کو توڑا:تو اب کیا سوچا ہے پھر ؟ کرنا کیا ہے؟.. نبیل نے عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا ، ایسے جیسے میں نے فرنچ زبان میں اس سے کوئی سوال پوچھ لیا ہو ، جسکی اسے سمجھ نہ آئی ہو:کیا مطلب ہے تمہارا ؟.. میں نے اسکے بجھے بجھے چہرے کی طرف دیکھتے ہوے کہا : یار سیدھی سی بات ہے ، تمہیں محبت ہو چکی ہے ، تو اب اظہار نہیں کرو گے کیا اس سے ؟ اپنا حالِ دل بیاں کرنا ہے کہ نہیں ؟..میری بات سن کہ نبیل کہ چہرے پہ بےپناہ گھبراہٹ کے اثرات نمایاں ہو گے ، جیسے میں نے اسے گن کنپٹی پہ رکھ کہ ٹریگر دبا دینے کا حکم دے دیا ہو
وہ گھبرایا ہوا بولا : اگر اس نے انکار کر دیا تو ؟ اور یار انکار تو وہ تب کرے گی جب میں اس سے اظہار کروں گا ، مجھ میں نہیں اتنی ہمّت کے میں اس سے اپنے دل کی بات کہوں...شاید محبت کا ہر صدی میں یہی حال رہا ہے کہ ، اسکا اور ڈر کا ناطہ کبھی نہیں ٹوٹا..میرے ایک طویل لیکچر کہ بعد نبیل کو کچھ حوصلہ ملا اور اس نے سعدیہ(نبیل موصوف کی محبت ، جو کہ ہماری ہم عمر ہی تھی) سے اظہار کرنے کی حامی بھری ، پر گھبراہٹ کا دامن پھر بھی موصوف نے نہیں چھوڑا
رات کہ وقت مجھے نبیل کی کال آئی ، جوں ہی میں نے اٹینڈ کی تو ، اسکی خوشی سے جھومتی ہوئی آواز مجھے سنائی دی ، احمد اوے ، اوے احمد..میں نے مسکراتے ہوے کہا : ہاں ڈارلنگ بول..نبیل نے اسی طرح خوشی میں ناچتی آواز میں کہا : جانی تیرے مشورے کے مطابق میں نے ہمت کر کے اسے فیس بُک پہ ریکویسٹ سینڈ کی تھی ، ابھی تیرا بھائی اس سےایک گھنٹہ گپ شپ کرتا رہا..نبیل کو پھر سے خوش دیکھ کر مجھے یوں لگا جیسے اس نے نہیں میں نے بہت کچھ پا لیا ہو، اسے آج سے پہلے اتنا خوش میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا:تو پھر سنا ڈالا ، اپنا حال دل؟..نبیل نے جواب دیا : ابھی تو فارمل گپ شپ کی ہے یار ، پر اب لگ رہا ہے کے جلدی ہی کہہ ڈالوں گا ، اوه وہ پھر آن لائن آئی ہے ، چل تو اب چھٹی کر، بائے...اور میں اسکی اس حالتِ نازک اور پاگل پن کو محسوس کرتے ہوے ، مسکراتا ہی رہ گیا
صبح جب میں یونیورسٹی کی کار پارکنگ میں پہنچا تو دیکھا کہ نبیل اپنی کار کہ بونٹ پہ چڑھ کہ بیٹھا ہے ، مجھے دیکھتے ہی وہ اچھل کے بونٹ سے نیچے اترا اور مجھے کار سے نکلتے ہی گلے لگا لیا..میں اسکی سرخ ہوئی آنکھیں دیکھ چکا تھا ، جو اسکے رات بھر جاگنے اور اسکی جیت کا بھی علان کر رہی تھی : آ آہ ہ ہ ہ جانی تیرا بھائی آج بڑا ہی خوش ہے ، آج تو یار سب کچھ ہی بڑا اچھا اچھا لگ رہا ہے ، مزے کی بات تو یہ ہے کہ تو بھی مجھے بڑا اچھا لگ رہا ہے آج ، ہا ہا ہا ہا...میں نے مصنوعی غصے کا اظہار کرتے ہوے اسے اپنے سے علحیدہ کیا اور اسکی باغ باغ ہوتی شکل کو دیکھ کہ کہا : تجھے قسم ہے اپنی سعدیہ بی بی کی جلدی جلدی بتا کیسے ہوا اور اتنی جلدی ؟؟
نبیل نے اک گہری سانس لی اور اپنی رام کہانی جیسے ایک ہی سانس میں سنا ڈالی ، کہ کیسے اسے سعدیہ کہ ساتھ فارمل گپ شپ کرتے ہوے حوصلہ ملا اور محبت کی بیخودی میں بیخود ہوے کیسے اس نے اپنے دل کی بات اسے کہہ ڈالی ، پھر کچھ ہی دیر میں سعدیہ نے بھی اسے یہ بتا دیا کے جو حالت نبیل کی ہے وہی حالت اسکی بھی ہے ، یعنی کے وہ دونوں ہی پہلی ہی نظر والی محبت کہ گرفتار تھے ۔دن گزرتے گے ، اور مجھے یوں لگنے لگا کہ رانجھے کا پھر سے جنم ہو چکا ہے..ایک دن میں نے تنگ آ کہ کہا : یار نہ تو اس سے بات کرواتا ہے ، نہ تیری بندی فیس بک پہ اپنی کوئی فوٹو لگاتی ہے کہ میں وہاں سے اسے دیکھ سکوں ، آخر میں تیرا یارِ اول ہوں ، کب میرا اس کا انٹروڈکشن کرواے گا ؟؟..نبیل میری اس حالت سے محظوظ ہوتے ہوے بولا : جانِ جگر ، فوٹو یا فون پہ بات کو چھوڑ ، تیری لائیو ملاقات کرائی جائے گی..میں تو جیسے خوشی سے اچھل پڑا : واہ ، یہ کی نہ یاروں والی بات ، پر کب ؟..نبیل نے جواب دیا : بس تین دن بعد لنچ ایک ساتھ کریں گے..میں نے نبیل کو آنکھ مارتے ہوے کہا : میں سوچ رہا تھا کہ تو اس ڈر سے میری اس سے بات یا ملاقات نہیں کرواتا کے کہی تیری بندی مجھے نہ پسند کر بیٹھے...ہم دونوں دوستوں کا حساب سیر سوا سیر والا تھا ، نبیل فورن سے بولا : نا نا اسکی مجھے کوئی فکر نہیں ، تو اتنا بدصورت ہے کہ ، تجھے کوئی ایک آنکھ بھر کہ نہ دیکھے..پھر ایک ساتھ ہی ہم دونوں قہقہ مار کہ ہس پڑے
مقررہ دن پہ میں اور نبیل اپنے پسندیدہ ریسٹورنٹ میں بیٹھے ، سعدیہ کا انتظار کر رہے تھے ، کہ اتنے میں نبیل نے کہا : یار کافی دیر ہو گئی ہے..میں نے کہا : تو رانجھا جی ، فون کر کے پوچھ لو نہ..نبیل نے مسکراتے ہوے اپنی جیکٹ کی پوکٹ سے سیل فون نکالا اور ساتھ ہی شکل بناتے ہوے کہا : اوہ نو ، یار اپنا سیل دے ، میرے کی تو چارجینگ ہی ختم ہوئی پڑی ہے..پھر نبیل نے سعدیہ کو کال کی ، اور اس سے بات کر کے سیل مجھے واپس دیتے ہوے بتایا کہ وہ بس پہنچ ہی رہی ہے
انتظار کچھ ہی دیر میں ختم ہوا اور ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے سے مجھے ایک لڑکی داخل ہوتے دکھائی دی ، وہ ہماری ہی جانب آ رہی تھی ، اسکے قریب آنے پر میں یوں کھڑا ہوا ، جیسے عشق کے آنے پہ انسان کھڑا ہو جاتا ہے ، اور پھر اس میں گم ، ہاں گم سم سا ہو جاتا ہے.یوں لگا جیسے حُسن سے آج پہلی بار میں متعارف ہو رہا ہوں ، یوں لگا حُسن مجھے اپنی انتہا پہ ، ہاں یوں لگا ، یوں لگا مجھے حُسن لے آیا ہے مجھے اپنی سرحد پہ..سفید رنگت ، گلابی ہونٹ ، گنے بال جو کندوں سے کچھ نیچے تک ، اسکی آنکھوں میں جانے کیا تھا ، ایسا لگ رہا تھا جیسے میں گرفتار ہو چکا ہوں ان آنکھوں میں ، کُرتا اور جینز اسکے بھرے بھرے جسم پہ بہت جچ رہا تھا..مسکراتے ہوے سعدیہ نے پہلے مجھے سلام کیا اور پھر نبیل کو ، ہم نے سلام کا جواب دیا اور نبیل نے سعدیہ کو بیٹھنے کہ لئے کہا اور پھر ہم بھی بیٹھ گے..نبیل سعدیہ سے میرا تعارف کروانے لگا تو سعدیہ نے مسکراتے ہوے کہا : ابھی بھی کیا انکا تعارف باقی ہے؟؟..سعدیہ کی اس بات پہ ہم دونوں بھی مسکرا دئیے
اس ہلکی پلکی سلام دعا کہ دوران ، میں بھی کافی حد تک واپس دنیا میں تشریف لا چکا تھا..پھر سعدیہ مجھ سے مخاطب ہوئی اور بولی : نبیل نے آپکا اتنا ذکر کیا ہے کہ ، مجھے بھی آپ سے ملنے کا بہت شوق تھا ، ویسے میں نے یہ بھی سنا ہے کہ شوق آپکو بھی بہت تھا..سعدیہ کی اس بات پہ ہم تینوں ہی ہس پڑے..اچانک نبیل بولا : سعدیہ یہ آپ آپ سے یوں نہیں لگ رہا کہ جیسے ہم کوئی سمینار اٹنڈ کر رہے ہیں؟؟..نبیل کی اس بات سے ہم تینوں پھر سے ہس پڑے ، پھر ہم تینوں میں ایسی بے تکلفی سے بھرپور گفتگو شروع ہوئی اور ہم نے( آپ) لفظ کو یوں غائب کیا ، کہ ( آپ)لفظ بھی پریشان ہو گیا
رات کو اپنے روم میں لیٹے ہوے ، میں کسی کہ حُسن کہ جادو میں کھویا ہوا تھا ، ڈوبا ہوا تھا ، ہاں سعدیہ ہی کہ حُسن کہ جادو میں..پہلے تو مجھے کبھی کبھی نبیل کو دیکھ کہ اس کی باتیں سن کہ عجیب سا لگتا تھا کہ کوئی کسی کو اتنا پیار کیسے کر سکتا ہے ، پر اب ایسا نہیں تھا.سعدیہ ایک مکمل لڑکی تھی ، جہاں ایک طرف سعدیہ کہ حُسن کا سحر ہوش اڑا دینے والا تھا ، دوسری طرف اس کہ اندر کی خوبصورتی ، یعنی اسکی سیرت ، سامنے والے پہ اک گہری چھاپ چھوڑ جاتی تھی.. ابھی میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ نبیل کی کال آ گئی.. نبیل نے چہکتے ہوے پوچھا : کسی لگی سعدیہ ؟؟(سعدیہ نے نبیل کہ کہنے پر اپنے ڈرائیور کو واپس بیج دیا تھا ، اور بعد میں نبیل اسے ڈراپ کرنے چلا گیا ، سو نبیل سے سعدیہ کہ مطلق بات ہی نہ ہو سکی..)میں نے مسکراتے ہوے کہا : بھائی لکی ہے تو ، جو تجھے سعدیہ جیسی لڑکی ملی ،کمال کی بندی ہے یار ، جیسی وہ خوبصورت ہے ویسا اسکا دل بھی..نبیل نے شرارت بھرے لہجے میں کہا : میں جانتا ہوں تو اس سے بہت متاثر ہوا ہے تیری حالت میں نے نوٹ کی تھی ، جب تو اس سے مل رہا تھا ، ہا ہا ہا ، یوں لگ رہا تھا کہ تو گر کر بیہوش ہونے والا ہے..میں نے شرمندگی سے ہستے ہوے پوچھا : اچھا چھوڑ ان باتوں کو ، یہ بتا کچھ پیش رفت بھی ہوئی یا .... ہا ہا ہا ؟؟؟؟...نبیل نے سنجیدہ ہوتے ہوے کہا : کیسی باتیں کر رہا ہے یار ، نہ تو وہ ایسی لڑکی ہے ، اور نہ ہی میں ایسا اسکے بارے میں سوچ سکتا ہوں ، وہ تیری بھابی بنے گی ، اور جب بنے گی یہ تب کی باتیں ہیں..میں نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا : سوری بھیا..نبیل نے مسکراتی ہوئی آواز میں کہا: یہ سوری مار اپنے سر پہ ، اچھا چل میں نے ابھی اس سے بات کرنی ہے ، کل یونیورسٹی ملتے ہیں ، بائے جانِ من
وقت کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں ، لمحہ ، سیکنڈ ، منٹ اور گھنٹہ ، شاید اسی لئے اسکی رفتار بہت تیز ہوتی ہے، شاید اسے لئے اس کے گزر جانے کا احساس بھی نہیں ہوتا..چھ مہینے گزرے اور یونیورسٹی میں گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئی..نبیل ایک مہینے کے لئے اپنے اماں ابا کے ساتھ امریکہ کی ہوا لگوانے چلا گیا..نبیل تھا نہیں ، سو میرا وقت بھی زیادہ تر گھر پہ ہی گزرتا تھا..ایک دوپہر میں اپنے روم میں بیڈ پہ لیٹا ، ٹی وی پہ ایک ایکشن مووی لگاۓ دیکھ رہا تھا کہ ، میرے سیل فون پہ سعدیہ کا ٹیکسٹ آیا : احمد کیسے ہو؟..سعدیہ نے پہلی بار یوں مجھے ٹیکسٹ کیا تھا ، میں نے جواب دیا : ٹھیک ہوں ، تم کیسی ہو ؟..سعدیہ:ٹھیک ہوں ، سوری تمہیں ڈسٹرب کیا ، نبیل کا سیل کل سے بند ہے ، میں بہت پریشان ہوں ، کیا اس نے تم سے کوئی رابطہ کیا؟..میں :نہیں ، پر تم پریشان مت ہو ، کہی پھسا ہو گا..سعدیہ : ٹھیک ہے ، اس سے اگر تمہارا کوئی رابطہ ہوا تو اسے کہنا مجھے کال کرے پلیز..میں : ڈونٹ وری ، جب وہ ایزی ہوا تو مجھ سے پہلے تمہیں ہی کال کرے گا ، ہی ہی ہی..سعدیہ : ہی ہی ہی ، تھنکس احمد اب میں کافی بہتر محسوس کر رہی ہوں..میں : گڈ..سعدیہ :بائے..میں: بائے
سعدیہ سے ہوئی پہلی ملاقات کا جو مجھ پہ اثر ہوا تھا ، وہ بہت عرصہ رہا ، پھر میں نارمل ہو گیا، دوبارہ اس سے ملاقات کا کبھی اتفاق ہی نہ ہوا..پر اس سے یوں ٹیکسٹ کر کے ، جانے پھر مجھے کیا ہونے لگا ، ایک عجیب سی بےچینی میرے اندر مجھے محسوس ہونے لگی ، ہاں اس عجیب سی بےچینی میں بہت سی خوشی بھی شامل تھی..پر اس خوشی اور بےچینی کی وجہ تب میری سمجھ سے باہر تھی..رات کو گیارہ بجے کے قریب پھر سے سعدیہ کا ٹیکسٹ آیا : نبیل نے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا ، پتا نہیں وہ کسی پرابلم میں ہو شاید ؟؟..میں:نہیں سب ٹھیک ہو گا ، تم پریشان کیوں ہوتی ہو..سعدیہ : احمد تم تو جانتے ہو نہ سب ، بھلہ پریشان کیوں نہ ہوں..میں : جانتا ہوں ، اچھا کیا میں تمہیں کال کر سکتا ہوں؟ ایزی ہو تم ؟..سعدیہ : ہاں کرو میں ایزی ہوں..میں نے سعدیہ کو کال کی ، اور اس نے اٹینڈ کی : ہیلو..باقی ہر چیز کی طرح اس کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی۔میرے اندر وہی خوشی وہی بےچینی پھر سے اجاگر ہو چکی تھی ، اور اب کی بار تو پہلے سے بھی بے پناہ: ہیلو ، تو جناب پریشان ہیں؟..سعدیہ : ہاں نہ احمد..میں: وہ ٹھیک ہو گا بابا ، تم آویں پریشان ہو رہی ہو ، چلو مجھ سے وعدہ کرو اب پریشان نہیں ہو گی..سعدیہ کچھ پل کو خاموش ہو گئی ، شاید میرے اندر کا کچھ تھا ، جو لفظوں میں چھلک آیا تھا:ٹھیک ہے ، وعدہ...میں بھی پل بھر کو کچھ گبھرا سا گیا ، پھر سنبھلتے ہوے بولا : گڈ گرل ، اچھا کیا کر رہی تھی.کچھ نہیں بس ، سوچوں کو ادھر ادھر کرنے کے لئے مووی دیکھ رہی تھی ..میں اپنے بیڈ سے اٹھا اور ٹی وی اور لائٹ آف کرتے ہوے بیڈ پہ واپس آ گیا ، جانے کیوں روم میں اندھیرا کرنے کو جی چاہ رہا تھا:اوہ ، گریٹ ، موویز دیکھنا تو میرا پسندیدہ مشغلہ ہے..سعدیہ: میرا بھی..میں نے خوش ہوتے ہوے کہا : گڈ ، اور کیا مشغلہ ہے پسند ؟..سعدیہ نے جواب دیا : فٹ بال دیکھنا..میں نے چہک کے کہا : انٹرسٹنگ ، میرا بھی..یوں ہی ہم فٹ بال اور موویز پہ ڈسکس کرتے رہے اور ایک گھنٹہ گزر گیا ، پھر سعدیہ بولی : نبیل تمہارے بارے میں سہی بولتا تھا ، وہ بہت لکی ہے جو اسے تم جیسا دوست ملا ، تمہیں پتہ ہے ، ایک بار میں نے اس سے بہت ہی سٹوپڈ سا سوال کیا ، کہ اگر میں کہوں تو کیا وہ تمہیں چھوڑ سکتا ہے ، میں نے سوچا وہ کہے گا کہ وہ چھوڑ سکتا ہے ، پر وہ خاموش ہو گیا
کچھ دیر بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو بائے بول کے کال کٹ کی..وہ رات دو احساسوں کے بیچ ایک جنگ سی لگی رہی ، میں اتنا بزدل سا محسوس کرنے لگا اپنے آپ کو کہ ، مجھے اپنے ہی اندر جھانکنے کی ہمت نہ پڑی ۔نیکسٹ ڈے مجھے نبیل کی کال آئی : اور سنا جانی ، رات کو بڑی باتیں ہوتی رہی ہیں پھر..مجھے اچھا نہیں لگا کے سعدیہ نے ہماری بات چیت کے بارے میں نبیل سے ذکر کیا ، میں نے زبردستی مسکراتے ہوے کہا :ہاں یار..نبیل بولا:بہت تعریف کر رہی تھی تمہاری ، اور کہہ رہی تھے کہ تم نے اتنی پریشانی میں اسکی بہت ہیلپ کی
دوپہر کہ وقت مجھے سعدیہ کا ٹیکسٹ آیا: رات کو تمہاری ٹیم کا میچ ہے میری ٹیم کہ ساتھ ، کیا کہتے ہو پھر کون جیتے گا ؟..(ان دنوں فٹ بال ورلڈ کپ میچز سٹارٹ تھے)..میرا موڈ نبیل کی کال کہ بعد سے کافی خراب تھا ، پر سعدیہ کا ٹیکسٹ دیکھ کہ پھر سے خوشی کے رنگ میرے چہرے پہ بکھرنے لگے..میں نے جواب دیا :ظاہر سی بات ہے میری ہی ٹیم جیتے گی، ہی ہی ہی..سعدیہ : نا نا نا ،میری ٹیم جیتے گی..میں : اچھا لگ جائے پھر شرط؟..سعدیہ :اوکے ، کیا شرط لگائیں..اک لہر نے میرے اندر انگڑائی سی لی : جیتنے والا ہارنے والے سے جو مانگے گا ، وہ اسے دینا پڑے گا..سعدیہ:منظور ہے جناب ، پر تیار رہنا کیوں کے میں ہی جیتوں گی
رات کو میچ کہ دوران ہم ایک دوسرے کو ٹیکسٹ کر کے خوب تنگ کرتے رہے ، پر آخر ہوا یہ کہ میں ہی جیت گیا..میں نے فورن سعدیہ کو کال کی دوسری جانب سے اسکی لٹکی ہوئی آواز سنی دی : تم جیت گے احمد..میں نے خوشی سے بھرے ہوے لہجے میں کہا : یہ تو ہونا ہی تھا..سعدیہ نے ہلکا سا ہستے ہوے کہا : اچھا مانگو جو مانگنا ہے بچہ..میں نے سنجیدہ ہوتے ہوے کہا : سوچ لو؟..سعدیہ نے پُراعتماد لہجے میں کہا :سوچ لیا جناب ، آپ مانگ کہ تو دیکھیں..میری آواز میرا ساتھ دینے سے جیسے انکار سا کرنے لگی:سعدیہ تمہیں کسَ کرنی پڑے گی مجھے..کچھ پل کو دوسری جانب خاموشی سے چھا گئی ، پھر مجھے سعدیہ کی غصے اور دکھ میں ملی جُلی آواز سنائی دی : میں تم سے کبھی بھی اس بات کی توقع نہیں کرتی تھی ، شیم آن یو..یہ کہہ کہ اسنے کال کٹ کر دی ۔سعدیہ نے اتنی بیدردی سے میری امیدوں کا خوں کیا کہ ، میرے اندر نا سنائی دینے والی چیخوں نے اک طوفان سا برپا کر دیا..میں نے سیل فون زور سے دیوار پہ دے مارا
کتنے ہی دن میں نے اپنے روم میں گزر دئیے ، اماں ابا الگ پریشان کہ بندے کو آخر ہوا کیا ہے ، باہر نکلنے کا من ہی نہ کیا..ایک دن باہر نکلا اور مارکیٹ گیا اور وہاں سے نیا سیل خریدا ، اور ڈرتے گھبراتے اسکو آن کیا ، ہاں من کا چور ڈرا رہا تھا ، پریشاں سا کر رہا تھا یہ چور من کا..گھر واپس آ کہ میں ابھی روم میں پہنچا ہی تھا کہ نبیل کی کال آ گئی.مجھے ہمت ہی نہ پڑی کہ اسکی کال پک کر سکوں ، میں جانتا تھا کے اب تک سعدیہ اسے سب کچھ بتا چکی ہو گی ، جب اس نے تیسری بار پھر کال کی تو ، میں نے اپنے نیم بےجان ہاتھ سے اسکی کال اٹنڈ کی اور سیل کان سے لگایا ، نبیل نے پریشان لہجے میں کہا : بھائی صاحب کدھر غائب ہیں ، اتنے دن سے آپ کا نمبر بند جا رہا ہے..میں اپنی نظر میں جیسے گرتا چلا گیا ، شاید بہت دن بعد میں نے اپنے اندر جھانکا تھا ، خود سے روبرو ہونا تو چھوڑ دیا تھا نہ میں نے
نبیل جب امریکہ سے واپس آیا تو ، اسی دن مجھے ملنے چلا آیا ، اماں ابا سے مل کے وہ سیدھا میرے روم میں آ گیا..میں اسے ملنے کے لئے کھڑا ہوا تو وہ آگے بڑھتے ہوے میرے گلے لگ گیا اور بولا : یار قسم سے ٹھنڈ پڑ گئی ، بور ہو گیا تھا تیرے بغیر..اسکی اس محبت کو محسوس کر کہ مجھے یوں لگا کہ جیسے میرا سینہ پھٹنے والا ہے ، میرا دل کیا میں زور زور سے چیخیں مار کے رو پڑوں ، جو میں کر بیٹھا تھا ، ویسا میں تھا تو نہیں ، میرا وہ روپ تو میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا
ایک شام نبیل کی کال آئی :اوے سنیما پہنچ جلدی..میں: اچانک پروگرام کیسے بنا یار؟..نبیل :سعدیہ کے اماں ابا آوٹ آف سٹی گے ہیں ، گھر بور رہی تھی تو میں نے یہ پلان بنا لیا ، چل شاباش پہنچ تو..میں سعدیہ کا نام سنتے ہی گھبرا گیا ، پر اپنے لہجے کو کنٹرول کرتے ہوے بولا: نہیں یار میرے سر میں درد ہے..نبیل غصہ ہوتے ہوے :بکواس نہ کر ، اور پہنچنے والی بات کر ، وہ بھی رستے میں ہی ہے ، اور میں بھی سنیما کہ قریب ، چل بائے
عجیب امتحان میں بار بار ڈال رہی تھی مجھے یہ زندگی
سنیما کی پارکنگ میں ہی سعدیہ اور نبیل میرا انتظار کر رہے تھے
وہ تھی ہی ایسی اتنے ہجوم میں بھی سب سے منفرد ، اسے دیکھنے کہ بعد کچھ اور نظر ہی نہیں آتا ، اگر کچھ نظر آتا ، تو وہ بس اسی کا ہی وجود..پنک رنگ کہ کُرتا شلوار میں ملبوس وہ حُسن کی دیوی لگ رہی تھی..میرے قریب پہنچنے پر اس نے بمشکل ہونٹوں پہ مسکراہٹ لائی اور ہیلو کہا ، نبیل ہمیشہ کی طرح خوش اور چہک رہا تھا ، رسمی بات چیت کہ بعد ہم نے ٹکٹس خریدے اور سیڑیوں سے اترتے ہوے ہال میں داخل ہو گے..کچھ ہی دیر میں مووی شروع ہوئی..میری نظریں سکرین پر تھی ، پر دھیان ؟ دھیان میرے اختیار سے باہر تھا ، وہ تو کہیں اور بھٹک رہا تھا..جلن ، حسد ، اک آگ سی لگانے کہ درپے تھے میرے اندر..جس رات سعدیہ سے میری پہلی بار فون پہ بات ہوئی تھی ، اس رات جو دو احساس آپس میں محوے جنگ ہوے تھے ، وہ احساس بھی پھر سے جاگ اٹھے تھے ، ہاں اک احساس خوائش ( سعدیہ کو پانا ) تھی ، اور دوسرا احساس وفا ( نبیل سے فرضِ دوستی نبانا )..خوائش وفا کا خوں کر دینا چاہتی تھی اور وفا خوائش کا..تب جلن میرے اندر سے مجھ سے مخاطب ہوئی: ارے میں کیا کہہ رہی ہوں ، وہ بھی تو سن لو
کچھ دیر بعد میں نے کُن آنکھوں سے سعدیہ کی جانب دیکھا ، جو نبیل کہ ساتھ بیٹھی تھی ، تو ایک غیر متوقع منظر مجھے دیکھنے کو ملا ، سعدیہ بھی کُن آنکھوں سے مجھے ہی دیکھ رہی تھی ، میں نے فورن پھر سے سکرین پہ نظریں جما لی..جہاں پہلے ہی بہت سارے احساسوں کی جنگ میں میرا وجود مبتلا تھا ، وہاں اب بہت سے سوالوں کی جنگ بھی میرے اندر شروع ہو گئی..میری تو سوچ بھی یہ نہیں سوچ سکتی تھی ، کہ یہ منظر بھی مجھے دیکھنے کو میسر ہو گا
مووی ابھی ختم ہوئی ہی تھی کہ ، نبیل کہ گھر سے کال آئی جسے سن کر نبیل کچھ پریشان سا ہو گیا ، سعدیہ کہ پوچھنے پہ اس نے بتایا کہ: ابا کی طبیعت کچھ خراب ہے اور اماں مجھے گھر بلا رہی ہیں ، احمد میں نے سعدیہ کے ڈرائیور کو واپس بیج دیا تھا ، تو پلیز سعدیہ کو گھر ڈراپ کر دے..زیادہ نہیں بس ہلکا سا خوشی کا پسینہ میرے ماتھے پہ محسوس ہوا مجھے ۔ رات کہ دس بج چکے تھے
نبیل گھر کو نکل گیا ، اور سعدیہ میری کار میں آ بیٹھی..رستے میں ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی..ایک خوشبو سی میرے حواس پہ چھائی ہوئی تھی ، جس سے میں پگلا کہ رہ گیا تھا۔
سعدیہ کا بینگلو ایک پوش علاقے میں تھا ، جب کار اسکے بینگلو کہ باہرجا کہ رکی تو ہارن بجانے کہ کچھ ہی لمحے بعد گیٹ کھلتا چلا گیا ، گیٹ کہ پلرز پہ نصب کیمرے سے واچ مین نے سعدیہ کو دیکھ لیا تھا
سعدیہ سے منسلک ہر چیز ہی میرے دل کو بھا رہی تھی ، اسکے پورچ تک پہنچتے ہوے ڈرائیو وے کی دونوں جانب جتنے بھی پودے ، پھول آے ، وہ سب ہی جانے کیوں مجھے اندر سے تروتازہ سا کر رہے تھے..پورچ میں کار روک کہ میں نے سعدیہ کی جانب دیکھا ، وہ کار کی ونڈ سکرین سے باہر کو دیکھ رہی
تھی ، اسنے میری طرف دیکھتے ہوے بہت ہی مدہم سے لہجے میں کہا : کافی پیو گے؟..میں اسکے سحر کا مارا ہوا ، اسکے حسن کا غلام ، اسکے مدہم لہجے میں کھویا ہوا بولا : ہاں..سعدیہ کچھ نہ بولی اور کار سے اتری ، میں بھی کار سے اترتے اور اسکے پیچھے چلتے اندر کو داخل ہو گیا
اندر لیونگ ایریا میں بیٹھاتے ہوے سعدیہ نے مجھے کہا:میں ملازم کو کافی کا کہہ کہ آتی ہوں..میں نے کچھ سوچتے ہوے کہا:رہنے دو ، کوئی کولڈڈرنک ہی لے آو..سعدیہ نے خود ہی تھوڑی دیر میں مجھے کولڈڈرنک سَرو کر دی ، اور میرے سامنے موجود صوفہ پہ بیٹھ گئی..مجھے یوں لگ رہا تھا کہ ساری زندگی بیت جائے گی یہ کولڈڈرنک ختم کرتے کرتے..دماغ پہ اک عجیب سی تہہ اور اس تہہ کا ہلکا ہلکا بوجھ محسوس کر رہا تھا میں.. میری نظریں سعدیہ کی طرف اٹھی ، وہ اپنے سامنے رکھے میز کو دیکھ رہی تھی ، کہ اتنے میں اسکی نظریں بھی اوپر کو اٹھی..ہم دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے الجھ کہ رہ گئی..اسکی آنکھوں کی اتھاہ گہرایوں میں ڈوبتے ہوے میں نے کہا :مجھے اپنا روم نہیں دکھاؤ گی..وہ جواب دئیے بغیر ہی اٹھی اور لیونگ ایریا سے ہی اوپر کو جاتی سیڑیوں کی طرف چل پڑی..میں بھی گلاس ٹیبل پہ رکھتے ہوے اسکے پیچھے چل پڑا
سعدیہ کہ پیچھے جب میں روم میں داخل ہوا تو ، اسکے روم میں پنک مدھم روشنی پہلے سے آن تھی..وہ روم کی مین لائٹ آن کرنے لگی تو میں نے اسے منع کر دیا.پنک لائٹ میں مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں کسی ڈریم ورلڈ میں آ گیا ہوں..روم کی ہر چیز نفاست سے رکھی اور سجائی گئی تھی..میں نے سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوے کہا :تم سے میں نے ہاری ہوے شرط کہ بدلے کچھ مانگا تھا..اسنے دروازے کی جانب بڑھتے ہوے کہا:تم اب جاؤ احمد..میں نے آگے بڑتے ہوے سعدیہ کا دائیاں ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی جانب کھنچا ، اسکا جسم پیچھے کو ہوا اور میرے جسم سے آ ٹکرایا
اسکے چہرے پہ گھبراہٹ کہ آثار نمایاں تھے ، میرا چہرہ آگے کو ہوا اور میں نے اپنے ہونٹوں کو اسکے ہونٹوں پہ رکھ دیا..کتنی ہی دیر گزر گئی یوں ہی..میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر کی جانب لایا اور ان ہاتھوں کی انگلیوں کو اسکے بالوں میں الجھا بیٹھا..میں نے اسکے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ذرا سے فاصلے پہ کیے اور ٹوٹی ہوئی آوازمیں کہا : تم نے کہا تھا جو مانگوں گا دو گی..اور پھر میں نے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں سے جوڑ دئیے..اب کی بار اس نے اپنے ہونٹ کھولے اور ان سے میرے ہونٹوں کو پکڑنا چاہا ، جذبات کی شدت سے میرا جسم ہلکے سے کانپنے سا لگا..میں اسکے بھرے بھرے گلابی ہونٹوں کو
چومنے لگا ، ہاں اوروہ میرے..وہ اپنے ہونٹوں میں جب میرے ہونٹ لے کر دباتی ، انہیں بھگوتی اپنے ہونٹوں کہ رس میں تو یوں لگتا جیسے میں ہواؤں میں اڑتا پھر سا رہا ہوں
میرا بایاں ہاتھ نیچے کو آیا اور میں نے اسے سعدیہ کی بھری ہوئی کمر کہ گرد لپیٹ لیا..اور اسے اپنے ساتھ لیتے ہوے بیڈ پہ لیٹ گیا ،( یعنی اگر میں سیدھا لیٹا ہوں تو سعدیہ میری لفٹ سائیڈ پہ ہو ) بیڈ پہ لیٹنے سے پہلے میں نے پاوں سے ہی اپنے جوتے اتر دئیے ، سعدیہ کے نفیس سنڈلز بھی بیڈ سے نیچے گر چکے تھے..ہم دونوں ایک دوسرے کی جانب منہ کئیے لیٹ چکے تھے اور پہلے کی طرح ہی ایک دوسرے کہ ہونٹوں سے ہونٹ ٹکرا رہے تھے..میرا دایاں ہاتھ جو اسکے بالوں میں تھا، اسے وہاں سے ہٹایا ، اور سعدیہ کا بایاں ابھار پکڑ لیا..ایسا کرنے پہ اسنے میرے ہونٹوں کو زور سے دبایا اور پھر ، دبا دبا کے میرے ہونٹوں کو چومنے لگی.. کچھ ہی دیر میں میرا ہاتھ اسکے کُرتے کہ نیچے سے اوپر کی جانب بڑھا ، جوں ہی میرا ہاتھ اسکی برا سے ٹکرایا ،تو اسنے کُرتےکہ اوپر سے ہی اپنے بائیں ہاتھ سے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، میں مزے سے بے حال ، ہوش کی دنیا سے کوسوں دور جا چکا تھا..میں نے اپنے ہاتھ کو آگے بڑھاتے ہوے سعدیہ کا ابھار برا کہ اوپر سے ہی تھام لیا..کچھ پل بعد ہی میں نے اپنا بایاں ہاتھ جو کہ اسکی کمر سے لپٹا اسکے نیچے دبا تھا ، اسے وہاں سے نکالا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں سے جدا کئیے.پھر اپنے بائیں ہاتھ سے اسکے کُھلے کُرتے کو اوپر کی جانب کر دیا
سعدیہ نے آنکھیں کھولی ، اسکی پرکشش آنکھیں ، اپنے سحر میں جکڑ لینے ، گرفتار کر لینے والی آنکھیں ، نشے میں ڈوب کہ اور بھی زیادہ قہر برپا کر رہی تھی:پلیز احمد تم چلے جاؤ ، پلیز ، میرا اور امتحان مت لو..میں لذت کی اک حسین وادی میں محوے پرواز تھا : اوکے چلا جاؤں گا ، پہلے تم اپنے ہاتھ سے اپنی اس گول چیز کو میرے منہ میں ڈالو..یہ کہہ کہ ساتھ ہی میں نے اپنا منہ کھول دیا..ہم دونوں کے سر ایک ہی سرہانے پہ تھے اور غرق سے ہوے پڑے تھے ہم ایک دوسرے کی آنکھوں کی مستی میں..سعدیہ نے اک بار پھر التجا کی ""پلیز ..میں نے اسکے کُرتے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اسکی گردن تک فولڈ کر دیا..""آؤ نہ سعدیہ ..سعدیہ تھوڑا سی اوپر کی جانب اٹھی ، اسنے دائیں بازو کی کہونی کو سرہانے پہ رکھا اور بائیں ہاتھ سے اپنی پنک برا کو اوپر کی جانب کر دیا..آہ ہ ہ ہ ہ ، اس کے گول موٹے ابھار میری آنکھوں کے سامنے آے تو بس میں انھیں دیکھتا ہی رہ گیاکمرے میں ہوئی پنک روشنی میں اسکے سفید ابھار اور پنک نپل اک عجب ہی جادو کا
سا سما پیش کر رہے تھے..سعدیہ نے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں والے ابھار کو تھاما اور میرے چہرے پہ جھکتے ہوے ، اسے میرے کھلے ہوے منہ میں ڈال دیا..اک آہ ہ ہ ہ ہ ہ سی نکلی اسکے منہ سے..مجھے یوں لگا جسے میں نے شہد کا پیالہ منہ سے لگا لیا ہو
اسنے اپنے ہاتھ سے تھامے رکھا اپنے ابھار کو اور میں اسے چومتا رہا ، گیلا کرتا رہا ، ہاں ساتھ میں اسکے نپل کو بھی...سعدیہ جیسے دیوانی ہو چکی تھی ، اسکی مزے اور نشے سے بھرپور ہلکی ہلکی آوازیں میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھی ، اور اپنے ساتھ مجھے بھی دیوانہ کر رہی تھی..ہوش تو میں پہلے ہی کھو چکا تھا ، اب میں لذت کی دیوانگی کا سب سے اونچا مقام پانا چاہتا تھا..میں نے آہستہ سے منہ اسکے ابھار سے ہٹایا ، اپنا دایاں ہاتھ اسکی کمر پہ رکھتے ہوے اور بایاں ہاتھ اسکے کندے کی بیک پہ رکھتے ہوے میں نے سعدیہ کو بیڈ پہ الٹا لٹا دیا..میں جو دیوانگی کہ اونچے مقام کو پانے کو تیار تھا ، تب میرے اندر اک خوائش جاگی..میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سعدیہ کی کمر کو دونوں سائیڈوں سے پکڑا اور اسے کہا:یہاں سے اپنا جسم تھوڑا اوپر اٹھاؤ..وہ نشے میں مست ہوئی میری بات سنتے ہی تھوڑا اوپر کو ہوئی.اب اس کا ماتھا سرہانے پہ ٹِکا تھا ، اسکے ہاتھ اور کہونیاں بیڈ پہ تھی ، گھٹنے سے پاؤں تک ٹانگیں بیڈ پہ اور آپس میں ملی ہوئی تھی میری دونوں ٹانگوں کے بیچ میں آ چکی تھی اسکی ٹانگیں ، ہاں اور ابھار بھی بیڈ سے ٹکرا رہے تھے اسکے..میں نے اسکے کُرتے کو کمر تک اوپر اٹھا دیا ، اور اسکی شلوار کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا..اسکی آواز کہیں بہت دور سے آتی سنائی دی مجھے ، جیسے لذت اسکی زبان کو بولنے کی اجازت نہ دے رہی ہو :احمد مت کرو ایسا ، آہ ہ ہ ، سن لو نا ، میری بھی..اسکی باتیں اسکا لہجہ جیسے مجھے پاگل سا کئیے جا رہا تھا
میں نے آہستہ سے اسکی شلوار کو گھٹنوں تک نیچے کر دیا..مجھے یوں لگا جیسے میں حُسن اور خوبصورتی کی اک حِسین وادی کا نظارہ کر رہا ہوں..میرے تصورات سے کہی بڑھ کہ خوبصورت تھی سعدیہ کی گانڈ..میں جم سا گیا ، نظریں جم سی گئی..پنک کُرتے شلوار کہ بیچ اسکی موٹی ، چوڑی ، گول گانڈ اپنے جلوے بکھیر رہی تھی..سعدیہ کی گانڈ کہ نظارے میں لہکتا ، مہکتا ، بہکتا چلا جا رہا تھا..اسکی گانڈ کے دونوں پیس جہاں آپس میں ملاپ کر رہے تھے ، وہاں ایک گہری لکیر وجود میں آ رہی تھی ، جو گانڈ کہ حُسن کو جانے چار سے بھی کتنے زیادہ چاند لگا رہی تھی..میرا چہرہ آگے کو بڑھا ، اور میں نے اپنے ہونٹ سعدیہ کی گانڈ کہ ایک پیس پہ رکھ دئیے ، اسکی گانڈ کی نرمی میں میرے ہونٹ دبتے ہی چلے گے.ایک


خوبصورت خواب سا لگ رہا تھا یہ سب..میں نے اس پیس کو چوما ، ہاں ہاں بہت ہی چوما..سعدیہ کی مستی بھری آوازیں میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھی ، یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی میٹھا سا راگ سن رہا ہوں میں..اسکی نرم موٹی گانڈ کہ دونوں پیس میں نے دانتوں میں لے کے ہلکے ہلکے سے کاٹے بھی میری زبان مجھے کہہ رہی تھی کہ مجھے بھی تو موقع دو ، دیکھو پھر کیسے تم دونوں کو لطف کی گہرایوں کی سیر کرواتی ہوں ""...مجھ سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا ، کیوں کہ زبان تو تب کچھ اور ہی کام کرنا چاہتی تھی ، بمشکل ہی بول پایا میں:سعدیہ تھوڑا اور اوپر ہو..اب باقی جسم ویسے ہی تھا ، بس ماتھا سرہانے سے اٹھ چکا تھا ، ابھار اب بیڈ سے ٹکرا نہیں رہے تھے ، بلکے ہوا میں جھول رہے تھے ، ٹانگیں ذرا سی کھل چکی تھی ، ہاں اب اسکی گانڈ پہلے سے کافی اوپر کو آ گئی تھی..کچھ اور دلکش نظارے میرے منتظر تھے اب.. میری زبان اسکی گانڈ کی لکیر میں داخل ہوئی اور پھر وہاں سے نیچے کی جانب اس نے آہستہ آہستہ سفر شروع کر دیا..پھر ہوا یوں کہ زبان سعدیہ کی بند گیلی پھدی سے ٹکرائی ، اب کی بار سعدیہ کی مدہوسش سسکیاں ایسی بلند ہوئی کہ جسے کمرے کہ جادوئی ماحول کو بھی دیوانہ کرنے پہ تُلی ہوئی ہوں..اسکی بند گیلی پھدی کے ہونٹوں کو کھولتے ہوے میری زبان اندر کو داخل ہوئی ، اور پھر وہاں اسنے لذت کا بازار گرم کر دیا..سعدیہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں کا سہارا لیتے ہوے بولی: احمدددددد ، مزےے سے میری ی ی جان نکلنے والی ہے ، احمدددددد تم نے مجھے ننگا کیا ، تم نے میرے سے مزے لوٹے ، تم م م م م بہت کمینے ہو احمددددددد..زبان اپنا وعدہ پورا کررہی تھی ، سعدیہ کی مدہوش سسکیاں ، اسکی لذت بھری باتیں ، اسکی گیلی پھدی کا لذت بھرا ذائقہ ان سب کو محسوس کرتے ہوے میں لطف کی گہرایوں میں ڈوبتا ہی چلا جا رہا تھا
میں پیچھے کو ہوا اور میں نے چند ہی پلوں میں اپنی جینز اور شرٹ اتار پھینکی..نشے میں جھومتے دائیں بائیں ڈگمگاتے موٹے لمبے لوہے کی ماند سخت ہوے اپنے لن کو میں نے بائیں ہاتھ میں تھاما اور سعدیہ کی پھدی سے جا لگایا..سعدیہ نے سرور میں ڈوبی سسکاری لیتے ہوے کہا:پلیز کچھ کرنا مت ، شادی کہ بعد نبیل کو پتا چل جائے گا..اسکی بات سن کے مجھے لذت اور سرور سے بھرا غصہ آ گیا ، میں نے دائیں ہاتھ سے زور کا تھپڑ اسکی گانڈ کہ دائیں پیس پہ مارا ، تھپڑ کی اور سعدیہ کے منہ سے نکلی مستی بھری آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی آواز پورے کمرے میں گونجی ، اسکی پھدی سے لگا میرا لن میں نے وہاں پھیرا اور کہا:دو گی مجھے اپنی پھدی یا نہیں ؟..اسنے بہکی بہکی آواز میں کہا:نہیں دوں


گی تمہیں..میں نے پھر سے ایک زور کا تھپڑ اسکی موٹی باہر کو نکلی گانڈ پہ دے مارا اور کہا : بولو دو گی یا نہیں..سعدیہ نے لذت سے کراہتے ہوے کہا:نہیں دوں گی ، یہ پھدی صرف میرے نبیل کی ہے..پھر تھپڑ اسکو جا پڑا ، اور وہ مستیوں میں ناچتی آہوں میں کھوتی چلی گئی
میں نے اپنے لن کو اسکی پھدی پہ ایک مخصوص جگہ رکھتے ہوے ، ایک زور کا جھٹکا آگے کی جانب مارا ، سعدیہ کی درد بھری چیخیں بلند ہوئی ، کچھ دیر بعد ایک جھٹکا اور مارا میں نے ، وہ تو ابھی پہلے جھٹکے کی تکلیف سے ہی گزر رہی تھی کہ اسے دوسرے کی تکلیف بھی سہنی پڑی ، کچھ دیر اسکی ہلکی ہلکی چیخیں مجھے سنائی دیتی رہی ، پھر وہ بیڈ پہ الٹی ہی لیٹ گئی اور میں پیچھے سے اسکے اوپر لیٹ گیا..اسکی نرم موٹی گانڈ میرے جسم کے نیچے دبنے سے اور چوڑی ہو گئی تھی..اب کمرے میں ہم دونوں کی سرور اور نشے سے بہکتی ہوئی سسکیاں سنائی دے رہی تھی
اس دن میں نے جانا کہ دھوکے میں کتنی لذت ، کتنا نشہ ، کتنا سرور ہے..سعدیہ اپنی محبت کو دھوکہ دے کے لذت ، نشہ اور سرور پا رہی تھی ، اور میں اپنے یار پُرانے کو
ہاں جب دھوکہ انسان کو یہ سب کچھ دے رہا ہوتا ہے ، تب وہ اس سب کہ بدلے اک چیز چھین بھی رہا ہوتا ہے ، وہ ہے انسان کی انسانیت ، انساں کو تو تب خبر بھی نہیں ہوتی ، کہ اصل میں اس کہ ساتھ ہو کیا رہا ہے ، جب خبر ہوتی ہے ، تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے..حال ماضی میں بدل چکا ہوتا ہے ، سب دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں ، اگر کچھ بچتا ہے تو وہ ہیں چند جلتی ہوئی یادیں ، چند جلتے ہوے سوال


the END
Read Full Story...

خونی رشتے (part 13)


میں وقار کے اسکول سے نکل کر گھر پہنچا تو یہی ارادہ تھا کہ کھانا کھا کر شام میں خالہ کے ہاں جاؤں گا ۔۔۔گھر پہنچا تو سامنے ہی امی اور بہنیں تیار بیٹھیں تھی ، میں ان کے سامنے پہنچا تو ایک دم کھڑی ہو گئیں ۔۔یہ کیا ہوا ہے کیا کر کے آئے ہو ! ۔۔۔۔ایک دم تو میں بھی پریشان ہی ہو گیا تھاکہ ایسا کیا ہوا تھا ۔۔۔۔شیشے کی طرف بڑھا تو چہرے پر کافی خراشیں پڑی ہوئی تھیں۔۔میں نے بتایا کہ بائک سلپ ہو گئی تھی ، بس کچھ چوٹ لگ گئی ۔۔امی قریب آ گئیں تھی ، پہلے تو مجھے سر سے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا ، جہاں انہیں ابھرا ہو ا گومڑ بھی محسوس ہو گیا ۔۔۔اور پھر انہوں نے بھابھی کو آواز دی کہ دودھ میں ہلدی ڈال کر لے آؤ ، بھابھی جلدہی لے کر آ گئیں اور پھر مجبورا مجھے یہ بھی پینا پڑا تھا میں بار بار کہتا جا رہا تھا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں یہ بس چند خراشیں ہی ہیں ، اور کچھ نہیں ہے ۔۔ آپ لوگ تیار ہیں دیر ہو رہی ہے ۔چلیں خالہ کی طرف چلتے ہیں ۔۔مگر امی نے منع کر دیا کہ تم گھر میں آرام کرو ۔ ہم ہو کر آ جاتے ہیں ۔۔۔میں نے پھر کہا تو انہوں نے زور دے کر کہا اور بھابھی کو کہا کہ اسے پین کلر بھی کھلا دینا ، کھانے کے بعد ۔۔۔۔۔اور مناہل اور ربیعہ کو لے کرخالہ کی طرف چلی گئیں ۔۔۔میں بھی اوپر آیا اور اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔یہ سعدیہ کے چکر میں چہرے پر نشان پڑگئے تھے جس نے اچھا خاصا بکھیڑا ڈال دیا تھا ۔۔۔بھابھی کچھ ہی دیر میں اوپر آ گئیں تھی ۔۔۔۔ان کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار تھے ، ۔۔پوچھنے لگی کہ کیا زیادہ چوٹیں آئیں ہیں ۔۔میں نے کہا کہ نہیں بس چہرے پر ہی نشان ہی پڑے ہیں ۔۔۔پھر میں نے معصومانہ چہرہ بنا کر کہا کہ ایک کپ چائے مل جائے گا ۔۔سر میں بہت درد ہے ۔۔۔وہ جلدی سے اٹھیں کہ ابھی لائی ۔۔۔بھابھی نیچے چائے بنانے کے لئےچلی گئیں ۔۔۔میں اٹھا اور چاچی کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔وہ بیڈ پر آنکھیں بند کئے ہو لیٹی ہوئی تھیں ۔۔۔میں ان کے قریب جا کر پیشانی چومی اور ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔۔۔چاچی نے آنکھیں کھول دی تھیں ۔راجہ تم یہاں ۔۔مجھے دیکھ کر اٹھنےلگیں تو میں نے لٹا دیا ۔۔چاچی تھکی تھکی لگ رہی تھیں۔۔رات والی تھکن ابھی تک اتری نہیں تھی ۔۔۔میرے چہرے کا پوچھا تو میں نے بتا دیا ۔۔کہ بائک سلپ ہو گئی ۔۔۔ان کی آنکھو ں میں تشویش تھی ۔۔میں نے بتایا کہ کچھ خاص نہیں ۔۔بس ایسے ہی خراشیں ہیں ۔۔ ۔۔۔انہوں نے آگے کو کھسک کر مجھے جگہ دی اور میں ان کر برابر ہی لیٹ گیا ۔۔۔۔اور ان کو بھی اپنی طرف کروٹ دے دی تھی ۔۔۔اپنےدائیں بازو پر ان کا سر رکھ کران کا چہرہ اپنے قریب کردیا ۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھو ں میں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ان کی آنکھو ں میں میری محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔اور ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ چھپی ہوئی تھی ۔۔۔ہم ایک ہی تکیے پر تھے جہاں ان کا سر میرے دائیں ہاتھ کے نیچے تھے ۔۔۔اور ہمارے درمیاں اتنا ہی فاصلہ تھا کہ ایک دوسرے کے جسم کی گرمی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔میرا دل ان کو چومنے کا کر رہا تھا ۔۔۔میں انہیں بے اختیار چومنے لگا تھا ۔۔۔پھر میں نے پوچھا کہ رات کو میں نے آپ سے زیادتی کر دی تھی ، مجھ سے آپ کی ایسی حالت دیکھی نہیں جا رہی ۔۔۔چاچی نے کہا دھت ۔۔مجھے کچھ نہیں ہوا ۔۔میں نے زندگی میں پہلی بار اتنا مزہ پایا تھا ۔۔۔۔تو پھر ابھی تک آپ بستر پر ہی لیٹی ہوئی ہیں ۔۔۔اور اتنی گرم بھی لگ رہی ہیں ۔۔۔شاید بخار بھی ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ارے نہیں راجہ یہ سب تو تمہارے چاچا کے نخرے اٹھانے کے لئے تھا ۔۔ورنہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔آج وہ سارا دن میرے ساتھ ہی رہے تھے ۔۔۔میرا پورا خیال رکھ رہے تھے ۔۔چاچی بھی میری کمر پر ہاتھ پھیر رہی تھی ، جن سے گرمی نکلتی ہوئی صاف مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔ہم دونوں اک دوسرے کے ساتھ لیٹے ہوئے ایک دوسرے کی روح تک محسوس کر رہے تھے ۔۔اور شاید یہ سچ بھی تھا کہ اب تک مجھے سب سے زیادہ مزہ چاچی کے ساتھ ہی آیا تھا ۔۔۔ان کی گرماہٹ ۔۔ان کی شدت ۔۔۔۔ان کے طوفانی چاہت ۔۔۔۔ان کے مجھے میں ڈوب جانا اور میرا ان میں ۔۔یہ سب مجھے کہیں اور نہیں ملا تھا ۔۔۔۔کہیں تو وہ مجھے اپنےبچے کی طرح ڈھانپ لیتی تھی ۔۔جیسے مجھے ہر پریشانی سے دور بچا لینا چاہتی ہوں ۔۔میں ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا اور میری آنکھوں میں ان کی محبت کی لائٹس پورے جوبن پر تھیں اور ان کی چمک چاچی کے چہرے پر بھی پڑ رہی تھی ۔کہنے لگی کہ راجہ کیا سوچ رہے ہو ۔۔میں نے انہیں بتا دیا کہ آپ سے مجھے سب سے زیادہ مزہ اور سکون ملتا ہے ۔۔۔میری کوئی بھی ضد ہو ، ، کوئی بھی چاہت ہو ، کوئی بھی ضرورت ہو ۔ایسا لگتا ہے کہ آپ پوری کر دیں گی ۔۔جتنی بھی ٹینشن ہو آپ کے قریب آ کر سکون میں آ جاتا ہوں ۔۔۔جیسی بھی تپتی ہوئی گرمی ہو ۔۔آپ میں مجھے سب ٹھنڈک مل جاتی ہے ۔۔چاچی نے بھی میرا منہ چوم لیا ۔۔میرے راجہ میری بھی یہی کیفیت ہے ۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ میں تمہارے پیار میں ڈوبتی جارہی ہوں ۔۔اور شاید تم پر مرنے بھی لگی ہوں ۔۔میں نے ان کو ہونٹ پر اپنے ہونٹ رکھ کر بند کر دئیے ۔۔ایسا نہیں بولتے ۔۔۔اتنے میں دروازہ کھلا ۔۔۔بھابھی اندر داخل ہوئیں تھی ۔اور نظارہ دیکھ کے انکا منہ لال ہوچکا تھا ۔۔۔انہوں نے زور سے اپنے پاؤں زمیں پر پٹخےاور کہا
۔۔۔آج ہی چوٹ کھا کر آئے ہو اور جناب کو رومانس سوجھ رہا ہے ۔ایک دن آرام نہیں ہو سکتا کیا۔۔میں نے چائے تمہارے کمرے میں رکھ دی ہے ۔۔۔چاچی بھی جھینپ چکی تھی ۔۔کہنےلگی کہ جاؤ راجہ آرام کرو ۔۔۔کل ملتے ہیں ۔۔میں نے انہیں آنکھ ماری اور اٹھ گیا ۔۔۔۔بیڈ سے اترتے ہوئے میں نے اپنا سر پکڑ لیا جیسے درد ہو رہا ہو ۔۔۔اور ایکٹنگ کرنے لگا جیسے چکر آ رہا ہے ۔۔۔چاچی اٹھ کر بیٹھ گئی تو میں نے ان کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری ۔۔وہ سمجھ گئیں اور بھابھی سے کہنے لگیں ۔۔جاؤ صوفیہ اسے روم تک چھوڑ آؤ ۔۔۔بھابھی نے ایک نظراپنی امی پر ڈالی اور بڑبڑائی کہ یہ کام بھی مجھے ہی کرنا ہوگا ۔۔۔اور ساتھ آ کر میرا ہاتھ تھام لیا اور کہا چلیں راجہ صاحب !۔۔۔۔میں اٹھا اور اسکے ساتھ چلتا ہوں اپنے کمرے تک آ گیا ۔۔۔اپنے بیڈ تک پہنچا تو مجھے دوبارہ چکر آ چکا تھا ۔۔۔۔بھابھی نے میرے کندھے پکڑ کر مجھے تھام لیا اوربیڈ پر تکیے رکھ کر بٹھا دیا ۔۔ساتھ ہی چائے لا کر سامنے رکھ دی ۔۔۔ایک پلیٹ پر بسکٹ بھی رکھے ہوئے تھے ۔۔میں نے دوبارہ سے اپنا سر تھام لیا ۔۔افف ۔۔چکر آرہے ہیں ۔۔۔بھابھی کچھ اور قریب آ گئی تھیں ۔۔اور کہنے لگیں کہ بہت درد ہے کیا ۔۔۔میں نے کہا کہ بہت زیادہ ہے ۔۔۔کہنے لگی کہ یہ بسکٹ کھا لو پھر پین کلر دیتی ہوں ۔۔۔۔میں نے کہا کہ خود ہی کھلا دیں ۔۔مجھے سے تو نہیں کھایا جا رہا ۔۔۔وہ مجھے دیکھنے لگی کہ میں ایکٹنگ تو ہیں کر رہا ۔۔مگر میں دونوں ہاتھو ں سے سر تھامےایسا معصوم بیٹھا تھا کہ جسے کچھ پتا ہی نہ ہو ۔۔۔۔بھابھی نے ایک بسکٹ اٹھایا اور چائے میں ڈبو کر منہ میں ڈالنے لگی ۔۔۔میں آہستہ آہستہ کھانے لگا ۔۔میری نظریں نیچے ہی تھیں ۔۔ڈر تھا بھابھی کو دیکھا تو ہنسی چھوٹ جائے گی ۔۔۔۔بسکٹ ختم کر کےمجھے چائے پلانی لگیں ۔۔جو میری حرکتوں کی وجہ سے پینٹ پر گر چکی تھی ۔۔۔بھابھی اب شاید سمجھ چکی تھیں کہ میں ڈرامہ کر رہا ہوں ۔ اس کے بعد مجھے پین کلر دے دی ۔۔۔میں نے ان سے کہاکہ تھوڑا سر بھی دبا دیں ۔۔بہت درد ہے ۔۔۔وہ کچھ دیر مجھے دیکھتی رہیں پھر قریب آ کر بیٹھ گئی اور سر دبانے لگی ۔۔۔میں نے اب نظریں اٹھا کر ان کے چہرے پر جما دی تھیں ۔۔۔وہ خاموشی سے
سر دبانے لگیں تھیں ۔۔۔کچھ ہی دیر میں میرا سر بھی بھاری ہونے لگا ۔۔۔اور میں نیند کی وادیوں میں ڈوبتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے کوئی 2 بجے تھے کہ میری آنکھ کھلی تھی ۔۔۔چاچی میرے ساتھ ہی لیٹی ہوئی تھی ۔۔میں بھی اچانک اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔چاچی جاگ رہی تھیں ۔۔۔اٹھ گئے راجہ ۔میں نے کہا جی۔۔۔آپ یہاں کیسے ۔۔کہنے لگی کہ ٹھہرو ۔۔تم نے کھانا نہیں کھایا تھا ، میں کھانا لے کر آتی ہوں ۔۔اور اٹھ کر نیچے چلی گئیں ۔۔۔میں اٹھ کر ہاتھ منہ دھو کر بیڈ پر واپس آ گیا ۔۔۔یہ چوٹیں بھی کتنی عجیب ہوتیں ۔۔درد اتنا دیں یا نہ دیں ۔۔مگر اپنوں کو حد سے قریب لے آتے ہیں ۔۔۔جو عام حالات میں بہت مشکل ہوتے ہیں ۔۔۔چاچی کھانا لے کر آچکی تھیں ۔۔اور اب میرے سامنے بیٹھیں مجھے کھلا رہی تھیں ۔۔۔میں نے امی کا پوچھا توکہنے لگیں کہ رات خالہ کے ہاں سے سیدھی یہیں آگئیں تھیں ۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے تمہارے ابو بھی آگئے ہیں تو ان کے ساتھ نیچے گئیں تھیں ۔۔۔کل تک شاید شہریار بھی آ جائے ۔اورتمہارے چاچا آج کھیت پر ہی ہیں ۔۔۔میں نے پوچھا کہ یہ سب کس لئے ؟ میرے لئے ہے کیا ؟ کہنے لگیں تمہارے لئے بھی ہے اور ایک سرپرائز بھی ہے جو کل ملے گے تمہیں ۔۔۔میں نے کہا کہ آپ بتا دیں ، کل کا کون انتظار کرے گا ۔۔۔مگر چاچی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بات کچھ ایسی ہے کہ بڑے بھائی خود ہی بتائیں گے تمہیں۔۔سب کو سختی سے منع کیا ہے ۔۔ کھانے کے بعد چائے آ گئی تھی ۔۔۔چائے پی کر ہم وہیں ایکدوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر لیٹ گئے تھے ۔۔۔چاچی میرے بالوں میں انگلیا ں پھیر رہی تھیں ۔۔۔۔میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہا تھا ۔۔۔چاچی بھی موڈ میں تھیں ۔۔راجہ کچھ چاہئے تو نہیں ۔۔۔۔میں نے کہا نہیں کچھ خاص نہیں ۔سب کچھ تو ہے میرے پاس۔اور یہ آپ کو کیا ہوا جو مجھ سے میری خواہشیں پوچھ رہی ہیں ۔۔بس آج دل کر رہا ہے کہ سب کچھ تم پر لٹا دیا جائے ۔۔۔پھر بھی کوئی خواہش ہو جو پوری کرنے چاہتے ہو۔۔میرےبس میں جوہوا کروں گی ۔۔۔میں انہیں دیکھ رہا تھا ۔۔ان کا انداز دلبرانہ تھا ۔۔۔دل لٹا دینے والا تھا ۔۔ میں کچھ دیر دیکھتے رہا اور پھر ان سے لپٹ گیا کہ آپ ہیں تو میرے ساتھ ،مجھے اور کیا چاہئے ۔۔۔وہ ایک ہاتھ کی انگلیاں میرے سر پر پھیر رہی تھیں اور دوسرے ہاتھ سے میرے کمر کو سہلا رہی تھی ۔۔۔میں ان کے سینے پر چہرہ چھپا کر ان میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔اور پھر کچھ دیر بعد ان کی آواز ابھری ۔۔۔میری بیٹی صوفیہ کیسی لگتی ہے تمہیں ۔۔۔۔میں ایک دم تو اچھل ہی گیاتھا ۔۔۔سر اٹھا کر ان کو دیکھا تو ان کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں ۔۔ٹھیک ہے ، اچھی ہیں ۔۔۔خوبصورت ہیں ۔۔۔۔میرا خیال بھی رکھتی ہیں ۔۔مگر آپ کیوں پوچھ رہی تھیں ۔۔۔میں کسی اور طرح سے پوچھ رہی ہوں ۔۔۔۔اور پھر میرے تصور میں وہ منظر چھم سے آگیا تھا ۔۔۔جب پہلی بار میں نے انہیں بھیا کے ساتھ دیکھا تھا ۔۔۔ان کے اوپر بیٹھتے ہوئے ۔۔ان کے آگے گھوڑی بنے ہوئے ۔۔۔ان کی آواز ۔۔۔ان کا انداز سب کچھ تو میرے دل میں بسا ہوا تھا ۔۔۔چاچی میری آنکھوں میں میری تصور کو شاید پڑھ رہیں تھیں ۔۔۔کہنے لگیں ہاں راجہ اب صحیح سوچ رہے ہو ۔۔۔میں نے کہا کہ آپ کو کیسے پتا ۔۔۔۔بس پتا چلا گیا ۔۔اس رات کو جب تم باہر ان کے دروازے پر تھے ۔۔ کچھ نہ کچھ تو تمہارے دل بھی کر رہا ہو گا۔۔میں نے ایک سانس کھینچی ۔۔ہاں چاہتا تو میں بھی ہوں ، مگر وہ مجھ سے الرجک ہیں شاید ۔۔جہاں میں جاؤں وہاں سے بھاگ جاتی ہیں ۔۔شاید مجھے پسند نہیں کرتیں ۔۔۔چاچی نےکہاکہ اس کے دل میں بھی تمہارے لئے چاہت جاگ چکی ہے ۔۔۔اسی لئے تو وہ یہ سب کرتی ہے ۔۔چلو چھوڑو ۔۔تم نے کرنا ہے یا نہیں ۔۔۔میں کہنے لگا کہ بھابھی تو مجھے بھی بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔مگر یہ سب کیسے ہوگا ۔۔انہوں نے کہا کہ تمہاری رانی ہے نا ۔۔بس دیکھتے جاؤ ۔۔تم چینج کر لو ۔میں برتن رکھ کر ابھی آئی ۔۔چاچی نیچے برتن رکھنے چلی گئیں اور میں سوچنے لگا کہ یہ سب کیسے ہوگا۔۔۔کچھ دیر میں چاچی اوپر آئیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگیں ۔۔کچھ دیر میں ہم بھابھی کے دروازے پر تھے ۔۔چاچی نے آرام سے دروازہ کھولا ۔۔اور اندر جھانکا ۔۔۔اور پھر مجھے اندر آنےکا اشارہ کر دیا ۔۔۔بھابھی بیڈ پر سو رہی تھیں ۔۔۔دروازہ بند کر چاچی نے مجھے صوفے پر بٹھا دیا ۔۔۔اور خود بیڈ پر چلی گئیں تھیں۔۔۔میرے سامنے بھابھی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں ۔۔۔بکھرے ہوئے کالے بالوں کے درمیان سے کسی چاند کی طرح روشن چہرہ تھا ۔۔قاتلانہ بڑی بڑی آنکھیں ۔۔لمبی پرغرور ناک ۔۔۔پتلے پتلے گلابی ہونٹ ۔۔۔گالوں پر بننے والے ڈمپل ۔۔۔چاچی اب بیڈ پر بھابھی کے برابر لیٹ چکی تھیں ۔۔۔چاچی ان کے ماتھے کو چوم کر ایک ہاتھ سے ان کے بال سہلا رہی تھیں بھابھی کی کروٹ بھی چاچی کی
طرف تھی ، اور جب تک کروٹ نہ بدلتیں ، تب تک مجھے نہ دیکھ پاتیں ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں بھابھی نے آنکھیں کھول دی تھی ۔۔۔امی آپ یہاں ۔۔۔چاچی نےکہا کہ بس اپنی جان کی یاد آ رہی تھی ۔۔۔۔کیوں وہ راجہ نہیں آپ کے پاس ۔۔۔۔بھابھی سخت روٹھی ہوئی تھی مجھ سے بھی اور اپنی امی سے بھی ۔۔۔۔چاچی نے ایک ہاتھ بھابھی کے سر کے گر گھمائے اور ان کے ہونٹوں کو چومنے لگیں ۔۔۔بھابھی نے بھی ان کی ٹانگوں پر ٹانگیں رکھ کر ان کا ساتھ دے رہی تھیں ۔۔۔چاچی بھابھی کے اوپر جھک سی گئی تھیں ۔۔اور ان کے ہونٹوں کو چوس رہی تھی ۔۔۔بھابھی دونوں ہاتھوں سے ان کی کمر کو سہلا رہی تھیں۔۔۔کمرے کی گرمی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں چاچی نے بھابھی کی قمیض کے اوپر سے ہی ان کے ممے تھام لئےاور دبانے لگی ۔۔۔بھابھی کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔وہ بھی اب بڑھ کر چاچی کے ممے تھامنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی انہوں نے لیٹے لیٹے چاچی کی قمیض اوپر کی اور اتارنے لگی۔۔۔چاچی نےاپنے ہاتھ اوپر کئے اور بھابھی نے قمیض اتار دی ۔۔اب بلیک کلر کی برا میں ان کے بڑے بڑےممے سامنے تھے ۔۔۔بھابھی نے چاچی کی برا بھی اتار دی تھی اور اب چاچی کے ایک ممے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے ،دوسرے ممے کا دودھ پینے لگیں ۔۔میرا جسم بھی گرم ہوتا جا رہا تھا ۔۔میں نے بھی نہایت آہستگی سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دئے تھے ۔۔۔چاچی کی بھی اب آہیں نکل رہی تھی۔۔۔انہوں نے بھی بھابھی کو اٹھاتے ہوئے ان کی قمیض اتارنا چاہی ۔۔۔اور کچھ دیر میں ہی ان کا چاندی جیسا چمکتا ہوا جسم میرے سامنے تھا،سفید کلر کی برا میں مچلتے ہوئے ممے بھی میں صاف دیکھ رہا تھا۔۔۔چاچی ان کے اوپر جھکی ہوئی ان کے ہونٹ چوس رہی تھیں ۔۔اب نیچے کو کھسک کر ان کے مموں پر آچکی تھیں ۔۔۔۔کیا خوبصورت ممے تھے ۔۔۔چاندی سے رنگ کے چمکتے ہوئے ، چھوٹے چھوٹے سے ۔چاچی اب بھابھی کی برا بھی کھول چکی تھی ۔۔۔۔اور سفید و سرخ مموں پر گلابی رنگ کے نپلز میرے سامنے تھے ۔۔۔چاچی نے پہلے تو انہیں بڑے پیار سے چوما اور پر ہاتھ سے تھامتے ہوئے ایک نپل کو منہ میں ڈال لیا ۔۔۔بھابھی کا منہ اوپر کی طرف اٹھا ۔انہوں نے ایک سسکی لی اور دونوں ہاتھ اپنی امی کے سر پر رکھ دئیے ۔۔چاچی اب انصاف کے ساتھ دونوں سنگترے جیسے مموں کو چوس رہی تھیں ۔۔۔۔۔چاچی نے اب ان کے ممے چوستے ہوئےایک ہاتھ سے ان کی شلوار اتارنی شروع کر دی تھی ۔۔اور کچھ ہی دیر میں بھابھی لباس فطرت میں تھیں ۔۔۔۔ان کی گوشت سے بھری ہوئی مست رانیں ۔۔متناسب ٹانگیں ۔۔۔اور گورے گورے پاؤں ، سب میرے سامنےہی تھا ۔۔۔۔چاچی اب بھابھی کے سر کے گرد اپنے بازو لپیٹتے ہوئے انہوں اپنے اوپر سوار کروا چکی تھی ۔۔۔بھابھی کا سر ابھی بھی چاچی کی بانہوں کے درمیان تھا اور ہونٹ اسی طرح چاچی کے ہونٹوں سے ملے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔چاچی کے بڑے بڑے دودھ سے بھرے ممے بھابھی کے چھوٹ اور گول مموں میں دھنسے ہوئے تھے ۔۔۔بھابھی اب چاچی کے دونوں مموں کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے ان کے ہونٹوں کو چوس رہی تھی ۔۔۔اوربھابھی کی اوپر کو اٹھی ہوئی گول گول گانڈ مجھے کھینچ رہی تھی ۔۔۔۔۔بھابھی گھٹنے کے بل چاچی کے اوپر تھیں ۔۔اور پیچھے کو دائرہ بناتی ہوئی گانڈ ۔۔۔۔کیا منظر تھا ۔۔۔چاچی نے بھی ہاتھ بڑھا کران کی کمر کو تھام لیاتھا ۔۔ساتھ ساتھ ان کے چوتڑ کو بھی مسل رہی تھی ۔۔۔میں شرٹ تو اتار ہی چکا تھا ۔۔۔اب آہستہ سے پینٹ کے بٹن بھی کھولنے لگا ۔۔۔۔اور کچھ دیر میں پینٹ بھی اتر چکی تھی ۔۔۔۔۔۔میرا دل بھی بھابھی پر ٹوٹ پڑنے کا ہو رہا تھا مگر میں صرف چاچی کے اشارے کامنتظر تھا ۔۔۔۔اور پھر میری برداشت جواب ہی دے گئی میں اٹھا اور بھابھی کے پیچھےسے بستر پر چڑھ گیا ۔۔۔۔بھابھی کو شاید احسا س ہو گیا تھا ۔۔۔۔انہوں نے مجھے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔ان کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں ۔۔۔ان کے منہ سے چیخ کے ساتھ نکلا ، امی یہ کیا ہے ؟ اور انہوں نے تیزی سے چاچی کے اوپر سے اترنے کی کوشش کی ۔مگر چاچی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر انہیں اپنےاوپر سے ہلنے نہیں دیا ۔۔کچھ نہیں بیٹا ۔۔۔راجہ ہی تو ہے ۔۔کوئی غیر تھوڑا ہی ہے ۔۔۔میں بھی پیچھے سے بھابھی کے اوپر جھکتے ہوئے ان کی کمر کو چومنے لگا ۔۔ان کے کالے لمبے بالوں کو سمیٹا اور لپیٹتا ہوا ان کی کمر پر رکھ دئے اور بالوں کے ساتھ ساتھ ان کی کمر کو بھی چومتا رہا ۔۔۔۔بھابھی کچھ دیر تک مچلتی رہیں تھی ، مگر چاچی نے ان کی ایک نہ چلنے دی ۔۔۔۔میں بھابھی کی نرم نرم گوری کمر کو چوم رہا تھا ۔۔۔چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ ان کے چوتڑوں کو سہلا بھی رہا تھا ۔۔اور چاچی نیچے سے ان کے ہونٹوں کو چوم چوم کر تسلیاں دے رہی تھیں ۔۔ مگر بھابھی کی بے قراری بتارہی تھی کہ انہیں چین نہیں ہے ۔۔وہ بار بار چاچی کے بازوؤں کے گھیرنے سے نکلنے کی کوشش کرتیں تھیں ۔۔۔۔میں ان کے پیچھے ہو گیا اور ان کی دونوں ٹانگیں پھیلا دیں ، پچھلی طرف سے ان کی چوت کے لب نظر آرہے تھے ۔۔میں نے انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے ان کی چوت کے دانے کو سہلانا شروع کیا ۔۔۔بھابھی کی لات پیچھے بڑی تیزی سے آئی تھی ۔۔وہ مجھے نیچے گرانا چاہ رہی تھی ۔۔مگر ایسا نہ ہوسکا ۔۔میں نے انکی وہ لات پکڑ لی تھی ۔۔۔دوسری لات حرکت میں آئی اور اسے بھی دوسرے ہاتھ سے پکڑ لیا ۔۔۔۔اور اب اپنے منہ کو اپنی چوت پر رکھنے لگا ۔۔وہ برے طریقے سے دائیں بائیں ہل رہی تھی ، مگر ان کی کوئی کوشش کامیا ب نہیں جا رہی تھی ۔۔۔چاچی نے بھابھی کو سائیڈ پر گرا یا اور ان کے اوپر آ گئیں تھی ۔۔۔بھابھی اب بھی مچل رہی تھیں ۔۔۔چاچی ان کے اوپر بیٹھے ہوئے ان کے مموں کو دبا رہی تھی ۔۔اور میں پیچھے سے ان کو چوت کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا ۔۔بھابھی کی ایک سس نکلی ۔۔وہ پھر سے مچلنے لگیں تھی ۔۔۔۔میں نے اپنی زبان ان کی چوت کے دانے پر رگڑنا شروع کردی ۔۔۔بھابھی کی اب سسکیاں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کی گوری گوری رانوں کو دبا رہا تھا ۔۔۔۔۔جو نرمی اور گوشت سے بھرپور تھیں ۔۔۔کچھ دیر بعد میں نے چاچی کو نیچے آنے کا کہا اور خود اوپر آ گیا ۔۔۔۔اف کیا
نظارہ تھا ۔۔بھابھی کی آنکھیں کسی خوف ذدہ ہرنی کی طرح چمک رہی تھیں ۔۔۔۔میرے دونوں ہاتھ ان کے دائیں بائیں بازوؤں پر رکھے ہوئے تھے ۔۔۔وہ بار بار سر دائیں بائیں کرتی ہوئی نیچے سے ہلتی تھیں ۔۔۔میں ان کے چہرے پر جھک گیا ۔۔اف ان کے بالوں کے درمیان ان کا چہرہ کسی خوشبودار پھول کیطرح نرم تھا ۔۔۔میں نہایت نرمی سے ان کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ دئے ، پھر ان کی آنکھوں پر ۔۔پھر ان کے دونوں گالوں کو چومتا رہا اور پھر ٹھوڑی کو چومتا ہوا ان کے ہونٹوں پر آ گیا ۔۔۔ہونٹ کیا تھا ، ریشم کا کوئی ٹکڑا تھے ۔۔۔۔۔گرم گرم ، لرزتے ہوئے ۔۔میں نےان کے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا ۔۔ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں کو اور پورے چہرے کو پھر سے چومتا ۔۔یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا ۔۔۔بھابھی کی مزاحمت اب دم توڑ چکی تھی ۔۔ان کی آنکھیں اور چہر ہ بھی شہوت اور مزے سے لال ہو چکا تھا ۔۔۔۔میرے ہونٹوں سے نکلنے والا محبت اور چاہت کی لہروں نےانہیں بھی گرما دیا تھا ، نرما دیا تھا ۔۔۔۔میں اپنی زبان اب ان کے منہ میں ڈالنے لگا تھا ۔۔۔کچھ دقت کے بعد بھابھی نے اندر گھسانے کی اجازت دے ہی دی ۔۔۔میں پوری شدت سے ان کی زبان کو چوس رہا تھا ۔۔۔۔۔بھابھی اب بے چین سی ہونے لگیں تھیں ۔۔میں نے ان کے ہاتھ چھوڑ دئے جو میرے سر پر آ جمے اور مجھے سہلانے لگے ۔۔۔۔میں نےان کے چہرے کو تھام لیا اور ان کی زبان کو اور مزے سے چوسنے لگا ۔۔۔چوس چوس کی آوازیں آ ہی رہی تھیں کہ نیچے سے چاچی نے بھابھی کی
چوت میں اپنی زبان داخل کر دی ۔۔۔۔۔بھابھی کی افف۔۔آئی ۔۔۔۔۔آہ نکلی اور پھر وہ سسکاریاں لینے لگیں ۔۔میں بھی تھوڑا سا نیچے ہو کر ان کے مموں کو دیکھنے لگا ۔۔کیا گول گول نرم و ملائم ممے تھے ۔۔۔اتنے نازک کہ ایسے لگتا تھا کہ اگر زور سے پکڑا تو کہیں پگھل نہ جائیں ۔۔میں نیچے چومتا ہوا آیا اور ان کے ایک ممے کے نپلز پر اپنے ہونٹ رکھ دئے ۔۔بھابھی کا منہ اوپر کو اٹھا اور ایک زوردار سسکاری لی ۔۔۔۔۔۔چاچی نے اب نیچے سے اپنی زبان کو حرکت دینی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔بھابھی کی سسکاریں بڑھتی جارہی تھیں اور ساتھ ساتھ میرے سر پر رکھے ہوئے ان کے ہاتھوں کو بھی ۔۔۔۔میرا ہتھیار بھی اب پھنکاریں مارنے لگا ۔۔خون کی زیادتی اور جوش سے پھول چکا تھا ۔۔۔اور ٹوپے پر مجھے ہلکا درد بھی محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔میں نے بھابھی کے مموں کو چوسا ، اور چوسا ۔۔اور چوسنے کی حد کر دی۔۔میں بڑی شدت اور جذبات سے اپنے ہونٹوں سے ان کے مموں کو دبوچتا اوراوپر کو کھینچتے ہوئے نپلز پر رک جاتا ۔۔اور پھر نپلز کو کچھ دیر تک اپنی زبان سے مسلتا رہتا ۔۔۔۔بھابھی کا جسم اب جھٹکے کھا رہا تھا۔۔ان کی سسکیاں بڑھتے جا رہی تھیں ۔۔چاچی لگتا ہے زبان سے ان کی چوت کو چود رہی تھیں ۔۔۔اور کچھ دیر بعد بھابھی کی سسکاری اور تیز نکلی اور آہیں بھرتیں ہوئی وہ جھڑنے لگیں ۔۔۔۔چاچی نے نیچے سے میرا انڈر وئیر اتار دیا تھا ۔۔اور میرا ہتھیار بھی اب بھابھی کی پیٹ کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔اس سے بھی بھابھی کو جھٹکے لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔میرا ہتھیار اب پھٹنے والا ہو گیا ۔۔۔۔نیچے سے چاچی بھی یقینا گرم ہو چکی تھی ۔۔۔۔میں نے ٹائم ضائع نہ کیا اور چاچی کو اوپر آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔چاچی اوپر آ کر بھابھی کے برابر میں لیٹ چکی تھیں ۔۔۔میں نے چاچی کی ٹانگیں اٹھائیں اور نیچے سے ٹوپے کو چوت پر سیٹ کر دیا ۔۔۔چاچی اور بھابھی دونوں میرے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔بھابھی بڑی عجیب نگاہوں سے مجھے اور اپنی امی کو دیکھ رہی تھیں ۔۔میں نے ہلکا سے دباؤ بڑھا کر چاچی کی چوت میں لن گھسا دیا ۔۔۔چاچی کی آہ نکلی ۔۔۔۔وہ تھوڑا سا اٹھیں۔۔۔۔میں نے تھوڑا سا زور اور دیا اور لن آدھا اندر گھسا دیا ۔۔چاچی کی پھر افف ۔۔۔آہ ۔۔۔ اوئی نکلی ۔۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی وہ بھابھی کو اپنے اوپر لانے لگیں ۔۔بھابھی بھی اب اٹھیں اور چاچی کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے ان کے دونوں دودھ سے بھرے ممے تھام لئے ۔۔نیچے سے میں شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔چاچی کی ہمت تھی کہ کل کی کمر توڑ چدائی کے بعد ابھی بھی چد رہی تھیں ۔۔اور یہ سب ان کی بیٹی کے لئے ہی تھا کہ وہ بھی تھوڑی ہمت پکڑے ۔۔۔میں نے آدھے لن کو ہی آگے پیچھے کرنا شروع کر دیاتھا ۔۔چاچی بھی اب افف۔۔آہ ۔۔کر رہی تھی۔۔۔میری اسپیڈ تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔بھابھی بھی پوری شدت سے اپنی امی کے ہونٹ چوس رہی تھی ۔۔ساتھ ساتھ اس کی امی کے ہاتھ اس کو گول گول مموں کو بھی مسل رہے تھے ۔۔۔کچھ پانچ منٹ ہوئے تھے کہ میں رکنے لگا۔۔چاچی سے میں نے کہا کہ آپ الٹی ہو جائیں ۔۔چاچی الٹی ہو کرلیٹ گئیں اور میں نے پیچھے سے ان کی چوت کے لب پر لن سیٹ کیا اور اندر دھکیل دیا ۔۔چاچی کی پھر سے آہ نکلی تھی ۔۔۔۔میں اب لن گھسا کر دھکے لگائی جا رہا تھا ۔۔۔۔بھابی اب پیچھے آ کر میرے برابر میں گھٹنوں پر کھڑی تھی ۔۔ایک ہاتھ وہ میرے سینے پر پھیرنے لگیں ۔۔۔اور پھر انہیں کیا سوجھی کہ میرے چہرے سے لپٹ گئیں۔۔ان کے ہونٹ میرے پورے چہر ے کو گیلا کر رہے تھے ۔۔مجھے سے یہ کیفیت برداشت نہیں ہو ئی ۔۔اور میں نے چاچی پر دھکے بڑھا دیا ۔۔چاچی کی سسکیاں اب بڑھ کر زوردار کراہوں میں تبدیل ہو گئی تھی ۔۔صاف پتا چل رہا ہے کہ وہ تکلیف میں ہیں ۔۔بھابھی اب بھی میرے پورے چہرے کو چومتی جا رہی تھی ۔۔۔پانچ منٹ اور گزرے ہوں گے کہ چاچی کی زوردار آہوں میں ان کی چوت نے پانی چھوڑ
دیا ۔۔میں نے انہیں سیدھا کیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے ۔۔میں ان سے لپٹ گیا، ان کے چہرے کو چومنے لگا ۔۔۔ان کے سارے آنسوؤں کو میں پی چکا تھا ۔۔۔بھابھی بھی میری جذباتیت دیکھ رہی تھی ۔۔میرا فوکس اب بھابھی کی طرف ہو چکا تھا ۔۔بھابھی کا ہاتھ پکڑ کر میں نے انہیں چاچی کے برابر میں لٹا دیا تھا ۔۔۔وہ بھی سہمی ہوئی لیٹی ہوئی تھی۔۔چاچی بھی خود کو سمبھال کر اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔بھابھی کو میں نے لٹا کر ان کی دونوں ٹانگیں پھیلا دی تھی۔۔۔۔چاچی ان کے پاس بیٹھی ان کے ممے سہلا رہی تھیں ۔۔میرا ہتھیار فل تنا ہوا تھا ۔۔ میں اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل پر گیا اور ویزلین اٹھا لیا ۔۔۔ویزلین اچھے سے لن پر مل کر اسے چمکا دیا تھا ۔۔۔اور کچھ ویزلیں بھابھی کی چوت پر بھی مل دی تھی ۔۔۔۔بھابھی چاچی کے ہاتھوں کو پکڑ کر خوب دبا رہی تھی ۔۔۔شاید منع کر رہی ہوں ۔۔۔مگر ۔۔رکنا اب مشکل ہی تھا۔۔۔بھابھی کی چوت کے لب بالکل آپس میں ملے ہوئے تھے ۔۔۔میں ان کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ہتھیار سمبھال کر میں نے ٹوپا چوت کے لب پر رکھ دئیے اور دباؤ بڑھانا شروع کیا ۔۔بھابھی اپنی ٹانگیں دائیں بائیں کئے ہوئے مجھے دیکھ رہی تھی ۔چہر ہ رونے والا ہواوا تھا ۔۔۔میں نے دباؤ بڑھایا تو ٹوپا اوپر کی طرف پھسل گیا ۔بھابھی کے منہ سے اوئی کی آواز نکلی ۔چاچی اب بھابھی کے منہ کو چوم رہی تھیں ۔۔جیسے تسلیاں دے رہیں ہو ں ۔۔۔میں اب ٹوپا چوت کے لب پر رکھ کرزور لگاتا اور وہ چوت کے دانے کو مسلتا ہوا ااوپر کی طرف سلپ ہو جاتا ۔۔کچھ دیر میں ایسا ہی کرتا رہا ۔۔پھر اس کے اوپر سلپ ہونے کے بجائے اندر سلپ ہونے کا وقت آگیا ۔۔۔لن چوت پر رکھ کر زور بڑھادیا تھا ۔۔اورٹوپے کی نوک اندر گھس چکی تھی ۔۔تھوڑا اور زور دیا اور ٹوپا چوت کو چیرتا ہوا اندر گھس چکا تھا ۔۔۔بھابھی کی چیخ نکلی تھی ۔۔اوئی امی مر گئی ۔۔۔آہ۔۔۔۔افف مر گئی ۔۔۔چاچی تیزی سے اس کے چہرے کو چوم رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی نیچے ہاتھ بڑھا کر چوت کے پر ہاتھ پھیرنی لگی ۔۔جہاں میرا لن برے طریقے سے پھنسا ہوا تھا ۔۔۔چاچی ساتھ ساتھ اس کے دانے کو بھی
مسل رہی تھی ۔۔۔۔بھابھی بار بار درد سےکراہتی اور اوپر اٹھ کر لن نکالنے کی کوشش کرتی تھیں ۔۔مگر ان کا اوپر کو جسم چاچی کے ہاتھ میں تھا اورنیچے سے ٹانگیں میں نے تھامیں ہوئی تھی۔۔۔میرے لن کی ٹوپ اندر چوت میں پھنسی ہو ئی پھڑک رہی تھی ۔۔خون کا زور مجھے ٹوپ میں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔کچھ دیر بعدمیں نےتھوڑا سا زور اور دیا ۔۔چوت تھوڑی اور چری تھی ۔۔۔بھابھی اب دونوں ہاتھ چوت پر رکھے اٹھنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔نہیں امی ۔۔۔۔یہ نہیں ہوسکتا ہے ۔۔بہت درد ہے ۔۔۔میں مرجاؤں گی ۔۔۔چاچی اسے تسلیاں دے رہی تھیں ۔۔چوم رہی تھیں ۔۔۔مگر بھابھی کے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔وہ بار بار ترس بھری نگاہوں سے اپنی امی کو دیکھتی مگر چاچی کو ترس نہیں آ رہا تھا ۔۔۔چاچی اب نیچے کو جھک کر اس کی چوت کے دانے کو چوم رہی تھیں ساتھ ساتھ میرے لن پر بھی تھوک پھینک رہی تھیں۔۔۔۔میں نے تھوڑا اور زور لگا یا
تو بھابھی کی پھر افف میں مر گئی ۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔سس ۔۔۔آہ ۔۔۔اوہ ہ ۔۔۔۔نکلی ۔۔۔چاچی پوری ذمہ داری سے کبھی بھابھی کے منہ کو چومتی ، ساتھ ساتھ ان کے مموں کو مسلتی اور کبھی نیچے آ کر چوت کے دانوں کو چومنے لگتی ۔۔کچھ دیر ٹہرنے کے بعد میں نے زور بڑھا دیا ۔۔۔اور تین انچ تک اندر گھسا دیا
۔۔۔افف۔۔۔آہ۔۔۔اوئی۔۔۔۔چاچی پھر اسے سمبھالتی ۔۔۔۔امی آپ بولیں راجہ کو ۔۔۔کہ بس کردے ۔۔آگے جگہ نہیں ہے ۔۔۔میں اور نہیں لے سکتیں ۔۔چاچی پھر
ان کو چومتی اور تسلیاں دیتی ۔۔۔۔۔پھر مجھے کیا ہوا تھا ۔۔۔مجھے لگا کہ ایک مرتبہ ہی گھسا دینا بہتر ہے ۔۔میں نے لن کو پیچھے سے پکڑا اور تھوڑا سے آگے کو جھکتاہو ا آدھے سے زیادہ لن گھسا دیا ۔۔۔بھابھی کی ایک زور دار چیخ نکلی ۔۔۔۔امی میں مر گئی ۔۔۔۔اور پھر انہوں نے رونا شروع کردیا ۔۔امی روکیں اس راجہ کو ۔۔میں نے نہیں کرنا ہے ۔۔۔چاچی باربار اسے چوم رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی رک رہا اور پھر آہستہ آہستہ باہر نکالنا لگا ۔۔۔۔باہر کا سفر بھی اتنا ہی پھنس پھنس کر ہو رہا تھا ۔۔۔ٹوپے تک باہر نکال کر میں آہستہ آہستہ دوبارہ گھسانے لگا ۔۔۔اور وہیں تک پہنچا کرپھر باہر کھینچا اور دوبارہ گھسا دیا ۔۔۔۔۔چاچی نے اب بھابھی کے مموں پر اچھا خاصا تھوک پھینک کر اسے چوس رہی تھی۔۔جتنی شدت سے وہ نپلز کو کھینچتی ہوئی اٹھتی تھی۔۔اس سے بھابھی کا دھیان اس طرف ہو چکا تھا ۔۔۔۔میں نے بھی آہستہ آہستہ سے ہتھیار کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد بھابھی کی چوت پانی چھوڑ رہی تھی ۔۔۔۔جس پوری چوت بھی گیلی ہو رہی تھی اور ساتھ ساتھ میرا ہتھیار بھی گیلا ہو ا وا تھا ۔۔۔۔۔جب جب
میرا ہتھیار آگے کو جاتا ۔۔بھابھی اوپر کی طرف ہوتیں ۔۔۔منہ کھولتا اور بند ہو تا ۔اور ساتھ ہی اوئی ۔۔۔افف کی سریلی آواز گونج جاتی ۔۔۔۔میں پھر کھینچتا اور دوبارہ سے گھسا دیتا ۔۔۔۔بھابھی کی افف ۔۔آہ ۔۔۔سس بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے لن پورا باہر نکال دیا تھا ۔۔اور بھابھی کی ٹانگیں جو دائیں بائیں پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔انہیں جوڑ کر بھابھی کے سینے لے لگا دی تھی ۔۔۔بھابھی نے ہاتھ بڑھا کر اپنی ٹانگیں پکڑ لی تھی ۔۔۔۔اور میں ان کے اوپر چھا چکا تھا ۔۔چاچی میرے پیچھے ہی آئی تھی ۔۔میرے ہتھیار پر بہت سارا تھوک لگا کر گیلا کیا اور ٹوپے کو اپنی بیٹی کی چوت پر رکھنے لگیں ۔۔۔۔۔اور دوسرے ہاتھ سے بھابھی کی چوت کو مسل رہی تھی ۔۔۔چاچی نے ٹوپا اوپر رکھا ہی تھی کہ میں نے جھٹکا دے دیا ۔۔۔۔ٹوپا اندر گھس چکا تھا۔۔بھابھی کی پھر اوئی ۔۔۔اوہ ۔۔۔۔سس۔۔۔۔آہ ۔۔نکلی تھی ۔۔۔انہوں نے اپنے ہونٹوں پر دانت گاڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں پھر آہستہ آہستہ زور بڑھا تا چلا گیا۔۔۔۔چاچی میرے پیچھے آ کر میری پشت سے لپٹ چکی تھی ۔۔۔۔ان کے بڑے بڑے دودھ سے بھرے ممے مجھے اپنی کمر میں گھسے ہوئے صاف محسوس ہور ہے تھے ساتھ ساتھ وہ میرے سینے پر بھی ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔۔میں نے گھسایا ہو لن پھر نکالا اور دوبارہ گھسا دیا ۔۔اور اب ہلکی اسپیڈ میں ایک ردھم کے ساتھ ساتھ اندر باہر کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔بھابھی کی سسکیوں اور آہوں سے کمرہ گونج رہا تھا ۔۔۔۔وہ بڑی ہی سریلی آواز سے گا رہی تھی ۔۔۔افف۔۔آہ۔۔۔۔اوئی
۔۔۔۔اوہ ہ۔۔۔۔۔کچھ دیر اور میں اسی ردھم سے مشین چلاتا رہا ۔۔۔۔بھابھی نے اب ٹانگیں اٹھی چھوڑ کر اپنے دونوں ممے تھامے لئےتھے ۔۔ساتھ ساتھ اپنی زبان بھی باہر ہونٹ پرپھیرتی ۔۔۔اور پھر اوئی ۔۔۔افف۔۔۔۔آہ۔۔۔۔سس ۔۔۔۔سسکیاں لینے لگتیں ۔۔ان کی کمر بھی اب اوپر کی طرف جھٹکے مار رہی تھی۔۔۔میں نے بھی اپنے لن کے اسپیڈ تھوڑی بڑھا دی تھی ۔۔۔۔۔بھابھی کی سسکیا ں اب زور دار ۔اوہ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔آہ۔۔۔میں تبدیل ہو گئی ۔۔۔تھی ۔۔۔۔
ان کا رونا دھوناختم ہو گیا ۔۔۔اور مزا شروع تھا ۔۔۔۔جسے وہ پورے دل جان سے انجوائے کر رہی تھی ۔۔۔ادھر چاچی بھی مجھے بھرپور مزہ دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔بھابھی کی اوہ ۔۔آہ ۔۔۔۔اب اور تیز اونچی ہو چکی تھی ۔۔۔ان کے جھڑنے کا وقت آ چکا تھا ۔۔۔۔اور ادھر میری بھی حالت کچھ ایسی ہی تھی ۔۔۔۔میں نے لن باہر نکالا اور اوربھابھی کو الٹا گھوڑی بننے کا کہا ۔۔۔بھابھی بھی جلدی سے گھوڑی بن گئی ۔۔۔افف ۔۔ان کو وہی گول گول گانڈ میرے سامنے تھی ۔۔۔چھوٹی سی ۔۔۔اور پوری پیچھے کو گول ہوئی وی ۔۔۔۔یہ دیکھ کر میرا ہتھیار بھی جھٹکے کھانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔چاچی آگے کو آئیں اور لن کو ایک دو دفعہ آگے پیچھے کیا اور پھر بھابھی کی گانڈ سے گزار کر چوت پر ٹکانے لگی ۔۔۔۔۔۔جیسے ہی مجھے محسوس ہو ا ۔۔میں نے دبا ؤ بڑھا دیا۔۔۔بھابھی کی ایک اور سریلی آواز گونج گئی ۔۔۔اوئی ۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میں نے آدھا لن اندر گھسا دیا ۔۔۔بھابھی کی سریلی آوازیں اب اور زیادہ گونجنے لگیں ۔تھی ۔۔۔ہم دونوں جھڑنے کے قریب ہی تھے مگر پوزیشن تبدیل ہونے سے ہمیں اور ٹائم مل گیا ۔تھا ۔۔بھابھی اپنے کہنی نیچے ٹکا کر پیچھے سے اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔میں نے لن گھساتے ساتھ ہی اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔۔۔۔اور ساتھ ہی ان کے بال پیچھے کو کرتے ہوئے تھام لیے تھے ۔۔۔بھابھی کی آوازیں بڑھی رہی تھی ۔۔۔او ر کچھ ہی دیر میں ان کے منہ سے آؤں ۔۔۔۔۔آؤں کی سریلی آواز نکلی ۔۔۔یہ وہی آواز تھی جو میں نے پہلی مرتبہ میں سنی تھی ۔۔۔شہوت اور لسٹ میں ڈوبی ہوئی ایسی آواز ۔۔۔۔جس میں مزے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کی لالچ بھی تھی ۔۔جذبہ بھی تھا ۔۔اور وہی ہوا یہ آواز سن کر میرے جھٹکے پہلے سے طوفانی ہونے لگے ۔۔۔مجھے آس پاس کچھ سنائی اور دکھا ئی نہیں دے رہا تھا ۔۔بس بھابھی کی پتلی کمر کے نیچے سے گول ہوتی گانڈ اور ان کی آؤں ۔۔۔۔آؤں ۔۔۔۔۔آؤں ۔۔۔۔۔میں پوری اسپیڈ سے دھکے مار رہا تھا ۔۔۔۔۔بھابھی ہر جھٹکے کے ساتھ آگے کو جھکتیں ۔۔۔پھر واپس پیچھے کو اٹھتی ۔۔۔۔۔اور میرا گلا جھٹکا انہیں دوبارہ آگے جھکا دیتا ۔۔۔آؤں ۔۔۔۔آؤں۔۔۔سننے کے بعد میری آنکھیں بند سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور جھٹکے پوری شدت کے ساتھ ۔۔۔جو درمیان میں بھابھی کی آؤں ۔۔۔۔۔آؤں کے ساتھ آہ۔۔۔۔افف بھی نکال رہے تھے ۔۔بھابھی نے اب کہنی سے اٹھ کر ہاتھ کے زور پر گھوڑی بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔بھابھی کی افف اوہ ۔۔۔۔بڑھ رہی تھی ۔۔۔اور کچھ دیر میں ایک زور دار آہ کے ساتھ پانی جھڑنے لگی ۔۔۔میں نے بھی دھکوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔۔اور ایک سیکنڈ میں تین چار دھکے مارتاہوں ایک زوردار جھٹکے سے ان کے اندر فارغ ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔میرا آخری جھٹکا بہت زور کا تھا اور میں خود بھی بھابھی کے اوپر لیٹتا چلا گیا ۔۔وہ بھی مجھے محسوس کر کے نیچے کو لیٹتی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔میرا لن ابھی بھی ان کے اندر فارغ ہو رہا تھا ۔۔۔۔چاچی آگے آ کر لیٹ چکی تھیں ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد میں بھی لن نکال کرساتھ میں لیٹ گیا ۔۔۔۔۔بھابھی اٹھی تھی۔۔اور مجھے پر لیٹ چکی تھیں ۔۔وہ میرے منہ کو چوم رہی تھی ۔۔۔۔۔چاٹ رہی تھی ۔۔۔۔پھر سینے کی طرف آئیں اور پورے سینے کوچومنے لگی ۔۔چاچی بھی گھسٹ کر قریب آ گئیں اور بھابھی کی کمر پر ہاتھ
پھرینے لگیں ۔۔۔۔بھابھی کی چوت کو اپنے قریب محسوس کر کے ہتھیار پھر سے تننے لگا۔۔۔اور اوپر کو اٹھتے ہوئے بھابھی کی چوت سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔۔بھاھی ایک دم اوپر کو اچھلی ۔۔۔اور لن کو تیار ہوتے دیکھ کر گھبرا گئیں۔۔۔اور بے اختیار بولیں ۔۔راجہ اسے سمبھالو۔۔آج کے لئے بس ۔۔۔۔۔میں بہت تھک گئیں ہوں ۔۔آج ہمت نہیں اور ۔۔۔۔پھر قریب آ کر اسے تھامنے لگی ۔۔۔ان کے پتلےپتلے خوبصور ت ہاتھ میں میرا ہتھیار اپنی پوری شان سے تنا ہوا کھڑا تھا ۔۔اور وہ بھی اس حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اورساتھ ہی اسے چومنے لگیں ۔۔۔۔ہم سب بہت تھک چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔صبح کے چار بج چکے تھے اور ابا جان بھی گھر آئے ہوئے تھے ۔۔۔اور پتا نہیں کہ سرپرائز کیا تھا ۔۔۔میں نے چاچی سے جانے کا کہا اور اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔
Read Full Story...

خونی رشتے (part 12)





چاچی کے کمرے سے کپڑے اٹھا ئے میں سیدھااپنے کمرے میں نکلتا گیا تھا ۔۔آ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔اور کچھ دیر سانس برابر کرنے کے بعد نہانے چلا گیا ۔۔ واپس آ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔چاچا نے چاچی کو مناتے ہوئے جو جو وعدے کئے تھے ، انہوں نے چاچی کے موڈ اور انداز پر کافی بہتر اثرات مرتب کئے تھے ، اور ان کی سوچ کے مطابق چاچا باہر کے سب تعلق توڑ چکے ہیں اور اب گھر میں آیا کریں گے ۔۔۔۔اگر یہ سب ہو جاتا تو بہت ہی اچھا تھا ۔۔۔۔دیکھتے ہیں کہ چاچا اپنے وعدے پر قائم رہتے ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔اور اس کےبعد ثناء میرے خیالوں میں چھن سے آ گئی ۔۔۔مسکراتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ پوچھتی ہوئی کہ مجھے یاد کئے بغیر کیسے سو پاؤ گے راجہ ۔۔۔میں کل کا پلان سوچنے لگا کہ امی اور بہنوں کو لے کر خالہ کا چکر ضرور لگا ؤں گا ۔۔۔اور پھر نیند کی گہرائیوں میں ڈوبتا چلا گیا ۔۔۔
صبح اٹھا اور نہا دھو کر ناشتے کے لئے نیچے آ گیا ۔۔۔۔ آج کا ناشتہ بھابھی نے بنایا تھا ۔۔۔۔چاچی آرام کے موڈ میں تھیں ۔اورچاچا انہی کے ساتھ اوپر تھے۔۔۔۔میں بھی خاموشی سے بیٹھ گیا ۔ امی اور بہنیں بھی آ چکی تھیں ۔۔۔۔مجھے کل ہی امی نے بتایا تھا کہ مناہل وقار کے ہاں ٹیوشن پڑھنے جا تی رہی تھی ۔۔۔میں نے مناہل اور ربیعہ کو بھی بتا دیا کہ کل میں ثناء کے ہاں گیا تھا وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہے ۔۔۔۔امی بول پڑیں کہ آج تم گھر پر ہیں رہنا ، شام میں ہم سب ساتھ میں چلیں گے ۔۔۔میں نے بھی کہا کہ ٹھیک ۔۔۔۔بھابھی مجھے اگنور کرنے کی ایکٹنگ میں مصروف تھیں ۔۔۔میں امی سے باتیں کرتا تو وہ مجھے دیکھ رہی ہوتیں اور جب میں ان کی طرف دیکھتا تو نظریں دائیں بائیں ایسی گھماتیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہو ۔۔میں دل ہی دل میں مسکر ارہا تھا ۔۔۔میں نے بھابھی سے کہا کہ ایک گلاس پانی پکڑائیے گا ۔۔۔پانی کا گلاس بڑھاتے ہوئے وہ حسب معمول دائیں بائیں نظر گھمار رہی تھی ۔۔۔۔میں نے گلاس تھامتے ہوئے ان کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔انہوں نے چونک کر مجھے دیکھا۔گلاس چھوڑا تو میں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا اور گلاس ٹھاہ کرٹیبل پر گر چکا تھا ۔ وہ جلدی سے اٹھ گئیں اور اسفنج لے کر پانی خشک کرنے لگی ، میرے قریب ہی کھڑی تھیں ، میں نے بھی چپل سے پیر نکال کر ان کے پیروں کے اوپر رکھ دئیے ، انہوں نے دوبارہ مجھے چونک کر دیکھا۔ اور پاؤں کو نیچے سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔کچھ دیر ایسےہی کرنے لگیں ۔۔۔پھر میں نے پاؤں اٹھا دئے تو وہ کچن کی طرف چل پڑی تھیں ۔۔۔واپس پر وہ مجھے بری طریقے سے گھور رہیں تھیں ناشتہ ختم کر کے میں نیچے ہی بہنوں کو پاس بیٹھ گیا تھا ، ٹی وی آن کر کے ہم کچھ پروگرام دیکھنے لگےکچھ ہی دیر میں بھابھی چائے لے کر آچکیں تھیں ، چائے دے کر ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئیں ، مناہل اور ربیعہ آگے کی طرف تھے ،اور ان کے منہ ٹی وی کی طرف تھے ،، بھابھی کہنے لگیں کہ یہ سب نہیں چلیں گے ، میں نے پوچھا کہ کونسے۔۔۔یہی مجھ پر لائن مارنے والے ، مجھے یہ سب پسند نہیں ہیں ۔۔۔توپھر کونسے کام پسند ہیں ؟ ۔۔۔بھابھی نے نظریں دوبارہ گھما لی ۔۔۔میں نے پوچھا کہ رات کو مزہ آیا تھا دیکھنے میں ؟ وہ غصیلی نگاہوں سےمجھے دیکھنے لگیں اور پاؤں پٹختی ہوئی اپنی چائے لے کر چلی گئیں ۔۔۔۔ میں مناہل اور ربیعہ کی طرف متوجہ ہوا انہیں آوا ز دی تو وہ لپکتی ہوئی آگئیں اور آ کر میرے صوفے کے دائیں بائیں ٹک گئیں ، ۔۔میں پہلے بتا چکا تھا کہ مناہل میڑک کے امتحان اور ربیعہ نہم کے امتحان کے بعد اب فارغ تھیں ، چھٹیوں کے بعد ہی ان کی اگلی کلاسز شروع ہونی تھی ۔۔مناہل دھیمے مزاج کی اور ذمہ دار لڑکی تھی ، اور ربیعہ شوخی اور چنچل سے بھرپور تھی ۔۔۔اکثر غلطیوں پر مناہل اور امی سے ڈانٹ کھاتی رہتی مگر کرتی اپنی مرضی ہی تھی ۔۔۔۔ربیعہ نے اپنے بازو میرےکندھوں کے گرد رکھتے ہوئے بولی ، بھیا آپ شہر جا کر کتنا بدل چکے ہیں ، آپ کو اپنی بہنیں یاد ہی نہیں آتیں ، سارا دن باہر رہتے ہیں اور پھر اوپر اپنے کمرے میں ۔۔ہم کتنا انتظار کرتیں ہیں آپ کےجلدی آنے کا۔۔۔۔۔مگر آپ ہیں کے آتے ہیں نہیں ۔۔۔میں نے کہا کہ اچھا بابا جو ہو گیا سو ہو گیا ، اب میں ٹائم پر آ جایا کروں گا ۔۔۔اور اس کے بعد ان کے فرمائشی پروگرم شروع تھے ، جس میں ایک عدد شہر لے جا کر شاپنگ تھی ، ایک دن وہاں ان کے ساتھ سی سائیڈ دیکھنی تھی ، انہیں ایک اچھے والا موبائل اور لیپ ٹاپ بھی چاہئے تھے ۔بہت سارے دھی بڑے اور گول گپے کھانے تھے۔۔اور شہر میں رہنے والی ایک دوست سے ملوانا تھا ، ۔۔۔ابا کے پاس بھی لے کر جانا تھا ۔۔۔اور یہ فرمائشیں جاری ہی تھی کہ میرے موبائل کی بیل بجی ، نمبر دیکھاتو وقار کا تھا۔۔۔میں نے کال ریسیو کی تو کہنے لگا کہ راجہ تو پھر آج اسکول آ رہا ہے نا ۔۔۔میں نے کہا کہ بس آدھے گھنٹے بعد آتاہوں ۔۔فون بند کیا تو ربیعہ منہ بسور کر بیٹھی ہوئی تھی ، پھر سے آگیا آپ کے دوست کا فون ،، اب رات سے پہلے تو آپ نے نظر نہیں آنا ۔۔۔میں اس کے سر کو سہلاتا ہوا بولا ، بس تھوڑی دیر میں آتا ہوں ، تم تیار رہنا پھر خالہ کے ہاں چلیں گے ۔۔وہ خوش ہو گئی تھی۔۔مناہل ہمیں خاموشی سے دیکھ رہی تھی ، میں نے اس سے پوچھا کہ تمھیں کچھ چاہئے ، وہ کہنے لگی کہ بھائی آپ بس ٹائم پر جلدی آ جائیے گا ، یہ نہ ہو کہ ہم انتظار کرتے رہیں ۔۔میں نے ہاں میں سر ہلایا اور اوپر اپنے کمرے کی طرف آیا ، ، کمرے میں داخل ہونے کے پہلے بھابھی کے دروازے پر دستک دی اور اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔کچھ دیر بعد بھابھی کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔۔۔۔اور پھر ایک زوردار آواز کےبند ہو گیا ، ۔۔میں مسکرا کر چینج کرنے لگا۔۔۔اور وقار کے اسکول کی طرف نکل گیا ۔۔۔
اسکول میرا جانا پہچانا تھا، اس کے ہر حصے سے ہماری یادیں وابستہ تھیں ۔۔حد سے زیادہ مستیاں کرنا ۔۔۔ٹیچرز کو تنگ کرنا۔۔۔سب سے زیادہ مارنے والی مس کو کسی سر کی طرف سے لو لیٹر لکھی کر دے آنا ۔۔آفس کا کہ کر اسکول سے باہر نکل جانا ۔۔۔کیمسٹری کی مس کو لیب میں تنگ کر نا ۔۔اور بائیولوجی کی مس کے مینڈک کے جار کھول دینا ۔۔۔میں اسکول میں داخل ہوا تو بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں تھی۔۔آفس میں آیا تو نظارہ ہی دوسرا تھا ، وقار نے کافی اچھا انٹیرئیر سجا یا تھا ۔۔۔۔سامنے کی طرف ایک بڑی ایل سی ڈی لگی ہوئی جس میں اسکو ل کے اندر کے منظر چل رہے تھے ۔ایک طرف صوفہ جس کے سامنے ایک بڑی سی میز کے پیچھے وقار بیٹھا تھا۔۔وقار سے مل کر میں صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔اور وہ مجھے اسکول میں کی گئی تبدیلیوں کے بارے میں بتا نے لگا ۔۔۔جس میں سے ایک اچھے ٹیچرز کو شہر سے بلوا کر یہیں رہائش دینا تھی، انہیں شہر سے دگنی تنخواہیں دینی تھیں ، اور شارٹ سرکٹ کیمرے جس سے وہ تمام ٹیچرز کو مانیٹر کرتا رہتا تھا۔۔میں سب سن رہا تھا ، کچھ دیر میں چائے آ گئی۔۔۔میں نے کہا یہ سب تو ٹھیک ہے مگر سمر کیمپ کا بتاؤ کہ کیاکیا ہےاس میں ۔۔۔۔سمر کیمپ میں سوئمنگ کی کلاسز تھیں ، ساتھ ہی کراٹے کی کلاسز ۔۔۔اسپیچ کمپیٹیشن اور لڑکیوں کے ہینڈی کرافٹ کی کلاسز تھی۔ ساتھ ہی جنرل نالج کے بھی مقابلے تھے ۔۔۔۔میں نے چائے پیتے ہوئے سامنے ایل سی ڈی کی طرف نظر جما دی تھی ۔۔جہاں ایک طرف گراؤنڈ میں کراٹے کی ورزشیں ہو رہی تھیں ۔۔۔ اور باقی مناظر میں ہینڈ کرافٹ اور دوسری کلاسز تھیں ۔۔۔۔اتنے میں وقار نے بیل بجائی اور ماسی سے کہا کہ مس سعدیہ کو بلائیں ۔۔۔۔۔میں نے وقار کی طرف سوالیہ نظروں سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ بھی شہر سے ہی بلوائی تھی سمر کیمپ کے لئےکراٹے کی ٹیچر ہے، کافی غصیلی اور نک چڑھی ہے ۔۔اپنے کام سے کام رکھتی ہے ۔۔۔کسی آرمی والے کی بیٹی ہے اور کافی میڈل بھی جیت چکی ہے ۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ آفس میں آ چکی تھی ۔۔۔آرمی ٹراؤز میں بلیک ٹی شرٹ پہنے ، سر پر پی کیپ جمائے ہوئے ۔ایتھیلیٹ باڈی تھی ۔۔سر آپ نے بلایا ۔۔۔۔وقار نے ایک پیپر اس کی طرف بڑھا دیا ہے ، جی یہ مقابلوں کا نوٹس ہے ۔۔۔آج آپ لوگوں کا پہلا مقابلہ ہے ، دو بجے تک گاڑی آ جائے گی لینے کے لئے ۔۔۔آپ لوگ تیار رہئے گا ۔۔۔۔مجھے سعدیہ پسند آ چکی تھی ۔اس نک چڑھی حسینہ کو کون نہیں قابو میں کرنا چاہے گا۔۔۔ساتھ ہی میں وقار کو میسج کرچکا تھا ۔۔۔۔اس نے بات کرتے ہوئے میسج پڑھا اور سعدیہ سے کہنے لگا کہ یہ آپ کے نئے اسٹوڈنٹ ہیں ۔۔کسی اسکول سے ٹرانسفر ہوئے ہیں اور انہیں سمر کیمپ میں شمولیت کو بڑا شوق ہے ۔آپ ان کو ٹرین کریں ۔۔۔۔سعدیہ نے ایک نظر میرے طرف دیکھا اور کہنے لگی سر ابھی تو تمام کلاسز ختم ہو چکیں ہیں اب ہم صرف مقابلوں کی ریہرسل کر رہے ۔۔۔ان کے سیکھنے کے لئے تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔ وقار نے کچھ سختی سے کہا کہ آپ انہیں اپنے ساتھ شامل کریں ، ۔۔اگر چل سکا تو ٹھیک ہے ورنہ نکال دیجئے گا ۔۔۔۔سعدیہ جی سر کر کے مڑی اور مجھے کہنے لگی کہ آ جائیں میر ے ساتھ ۔۔۔میں نے وقار کو آنکھ ماری اور سعدیہ کے پیچھے چل پڑا ۔ باہر نکل کر وہ مجھے گھورنے لگی کہ آپ مجھے اسٹوڈنٹ تو نہیں لگتے ۔۔۔میں نے دنیا جہاں کی معصومیت چہر ے پر لا کر کہا کہ مس اسکول میں ہی پڑھتا تھا بس کھاتے پینے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں ۔۔وہ مجھے لے کر گراؤنڈ میں آ گئی جہاں ایکسرسائز ہو رہی تھی ۔۔اس نےنوٹس پڑھ کر سب کو سنایا ۔۔۔لڑکے سب مقابلے کا سن کر خوش تھے ۔۔۔اور شاید ان کا اسکول پچھلے سال اسی اسکول سے ہار کر بھی آیا ہوا تھا ۔۔۔خیر میں بھی لائن میں لگ گیا۔میں ڈریسنگ روم سے چینج کر کے آگیاتھا۔۔سامنے ایک چھوٹا اسٹیج بناہوا تھا ۔۔۔جہاں سعدیہ کھڑی ایکسرسائز کروارہی تھی ۔۔۔ہمارے وقت میں تو ایک آرمی کے ریٹائر ہوتے تھے اور بڑی گندی ایکسر سائز کرواتے تھے اور یہاں ۔۔۔مس سعدیہ ۔۔۔۔کافی اچھی تبدیلی آئی تھی ۔۔۔مس سعدیہ نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے ۔۔۔میں نے کہا کہ راجہ ؟ سعدیہ کا منہ غصے میں لال ہو گیا تھا ، کہنے لگی کہ کس ریاست کے راجہ ہو ۔۔۔اصل نام کیاہے ۔۔۔میں نے جواب دیا کہ رضوان ۔۔
آئندہ سے یہاں کے تمام اصول کے آپ پابندی کریں گے ، اور کسی بھی رولز کو توڑنے پر سخت سزا دی جائے گی ۔۔۔میں نے زور سے کہا ۔۔یس ٹیچر۔۔
اس کے بعدایکسرسائز شروع ہوئی ۔۔میں نہایت اطمینان سے تمام ایکسر سائز دیکھ رہا تھا ۔کہ مس کی آواز آئی ۔۔اؤ ے صرف دیکھنے آئے ہو کیا ۔چلو تم بھی کرو ساتھ ۔




میں سعدیہ کو کچھ دیر دیکھتا رہا اور پھر ڈپس کے لئے جھک گیا۔۔۔۔باقی لڑکے ٹھیک کر رہے تھے ۔۔اور میں تھوڑا سا اٹھ کر واپس جھک جاتا تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں سعدیہ آئی اور اپنے شوز میری پیٹھ پر رکھ کر زور دے دیا ۔میں مٹی پر لیٹ گیا ۔۔صحیح سے کرو ، ورنہ اوپر دوسرے لڑکے بٹھا دوں گی ۔۔۔۔میں جی مس کہ کر اٹھا اور اب پاؤں کے بل ڈپس لگانے کے بجائے اپنےگھٹنے ٹکا کر ڈپس لگانا شروع کردئیے ۔اب میں پوری طرح سے اوپر اٹھ رہا ، سعدیہ دوبارہ میری طرف آئی تھی اور میرے گھٹنے پر ایک لات پڑی ۔۔اس اوپر اٹھاؤ ۔۔۔۔۔تمام لڑکے ہنس رہے تھے ۔۔۔۔اب سعدیہ میرے قریب آ کر بیٹھ چکی تھی ۔۔اس کا ایک ہاتھ میرے کندھے سے کچھ اوپر تھا ۔۔۔یہاں تک آپ نے اپنے شولڈر کو ٹچ کرنا ہے ۔۔ٹھیک سے اٹھیں۔۔۔۔میں چہرے پر بیزاریت اور تکلیف کے آثار پیدا کر کے اٹھنے لگے ۔۔۔جب اسپیڈ تھوڑی اور کم ہوئی تو اس نے میرے سینے کے نیچے ہاتھ رکھا اور مجھے اٹھانے میں ہیلپ کرنے لگی ۔۔۔باقی لڑکے اس کی آواز پر ساتھ ساتھ ڈپس لگا رہے تھے ۔۔۔۔میں تھوڑا تھکنے لگا تو اس نے تھوڑا اور قریب آ کر زور لگایا اور اس وقت اس کے بدن کی مست خوشبو میرےنتھنوں میں گھسی تھی ۔۔۔کیا غضب کی مست گرم مہک تھی ۔۔۔۔سعدیہ نے بھی میرے سونگھنے کو محسوس کرلیا تھا ۔۔وہ اٹھ کر سامنے اسٹیج پر چلی گئی ۔۔اور اگلی ایکسرسائز شروع کر تھی ۔۔۔جمپنگ میں باقی لڑکے تو اپنی جگہ پر جمپ کر رہتے تھے اور میں تھا کہ جمپنگ کرتے ہوئے پورے گراؤنڈ میں گھوم رہاتھا ، سعدیہ بار بار آتی اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی جگہ پر کھڑا کرتی ۔۔اسے بھی اندازہ ہو رہا تھا کہ میں اسے تنگ کر رہا ہوں ۔۔۔مزید غصے اسے میرے گھورنے پر تھا ۔جو میں بڑی عاشقانہ انداز سے کر رہا تھا ۔۔۔۔قریب ڈیڑھ گھنٹا بعد ایکسرسائز ختم ہوئی اور شو فائٹنگ کی ریہرسل شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔سعدیہ کو مجھ پر غصہ اتارنے کا ایک موقع مل گیا تھا ۔۔اس نے کلاس کے سب سے اچھے فائٹر کے ساتھ میری فائٹ کا نام لیا ۔۔۔۔وہ لڑکا بھی حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔فائٹ شروع ہوئی تو اس کے تابڑ توڑ حملے شروع تھے ۔۔پہلی لات میری پسلیوں کی طرف آئی تھی ۔۔۔اور میں بلاک کرتے ہوئے زمیں پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔سعدیہ کی دوبارہ آواز ابھری ۔۔۔کیا لڑکیوں کی طرح لڑ رہے ہواٹھو مقابلہ کرو ۔۔میں سمبھلتا ہوا اٹھا توایک گھومتی ہوئی لات منہ پر کھا کر دوبارہ لیٹ گیا ۔۔۔۔سعدیہ مجھے غصیلی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔جیسے کہ رہی ہو ۔دیکھا مجھے گھورنے کا انجام ۔۔۔ میں دوبارہ اٹھا ۔۔۔مجھے سے پہلے ہی وہ لڑکا اچھل چکا تھا اور اب کی بار سر پر پڑنے والی لات نے مجھے دن میں تارے دکھا دئے ۔۔۔اور میں دوبارہ سے لیٹ گیا تھا ۔۔۔۔اور اٹھ کر دونوں ہاتھ اٹھا دئے ۔۔۔اور مقابلے سے پیچھے اٹھ گیا ۔۔۔۔میرے بال بکھر چکے تھے ، ایک گال پر سرخ نشان بنا ہوا تھا ۔۔۔۔اور سرکے ایک طرف ہلکا سا گومڑ نکل رہا تھا ۔۔۔میں اٹھا اور ہاتھ منہ دھو کر واپس وہیں آگیا ۔۔جہاں باقی لڑکوں کی فائٹس ہو رہی تھی ۔۔سب کی اچھی تیار ی تھی ۔۔۔۔۔سب پرجوش تھے ، سوائے میرے جو درد سے کراہ رہا تھا ۔۔۔سعدیہ مجھے طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے بھی اسے گھورتے ہوئے آنکھ مار دی ۔ ۔۔۔خیر فائٹس ختم ہوئی اور ہلکا سا ریفریشمنٹ کا دور چلا ۔۔۔میں نے وقار کو میسج کر دیا تھا کہ میں بھی انہی کے ساتھ دوسرے اسکول جاؤں گا اور واپس پر ملاقات ہو گی ۔۔۔ریفریشمنٹ کے بعد ایک کوسٹر آ گئی تھی۔۔۔ہم سب تیار ہو کر اندر جا کر بیٹھ گئے تھے ۔۔۔مجھے سب سے پیچھے لمبی سیٹ پر بٹھا یا گیا اور سعدیہ آگے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔کچھ دیر میں ہم مقابلے والے اسکول پہنچ چکے تھے ۔۔۔گراؤنڈ میں تین طرف سے کیمپنگ ہوئی وی تھی اور سامنے ہی ایک رنگ بنایا ہوا تھا۔۔۔ہمیں ایک کیمپ مل گیا تھا اور ہم سامان رکھ کر آرام کرنے لگے ۔۔سعدیہ تمام لڑکوں کو پوائنٹس اور فائٹ کی ٹپس دے رہی تھی ۔۔۔اور میں اس کےجسم کے پوائنٹس گن رہا تھا ۔جوکہ سو سے کم ہرگز نہیں تھے۔۔۔۔وہ میرے گھورنے سےڈسٹرب ہو رہی تھی ۔۔۔مجھے دیکھنے کر کہنے لگی کہ اور آپ مسٹر رضوان ان کو پانی وغیرہ پلائیں گے ۔۔۔۔اور انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ پوری کریں گے ۔۔میں نے کہا جی ٹیچر ۔۔۔مقابلے شروع ہو چکے تھے ۔۔کل پانچ مقابلے ہونے تھے جن میں پتا چلنا تھا کہ کوں اگلے راؤنڈ کے لئے کوالیفائی کرے گے ۔۔۔۔اور ہارنے والا اسکول مقابلے سے باہر ہو جانا تھا۔۔سعدیہ نے نمبرنگ کر دی تھی ۔۔جس فائٹر نے مجھے ہرا یا تھا اسے سب سے آخر میں رکھا گیا تھا ۔۔۔۔پہلی فائٹ ہمارا اسکول ہار گیا تھا ۔۔لڑکا رنگ میں گھبرا گیا تھا ۔میں وہیں رنگ کے برابر میں اسے پانی پلا رہا تھا ۔۔۔دوسری فائٹ ہمارا اسکول جیتا تھا ۔۔تیسری فائٹ ہم دوبارہ ہار چکے تھے ، ۔۔چوتھی فائٹ میں سعدیہ نے لاسٹ والے نمبر کو بھیج دیا تھا ، اور وہ جیت کر آ گیا ۔اب دو اور دو سے فائٹس برابر تھیں ۔۔اور لاسٹ فائٹ پر پورے میچ کا انحصار تھا ۔۔۔۔۔لاسٹ والے اسکو ل نے اپنا سب سے بیسٹ فائٹر اتار ا جو عمر میں بھی بڑا لگتا تھا ۔۔اور شکل سے بھی خوفناک لگ رہا تھا ۔۔۔۔سعدیہ اب گھبرائی ہوئی تھی ۔۔بیسٹ فائٹر وہ پہلے بھیج چکی تھی ۔۔اور پیچھےسب نارمل تھے جو صرف ڈیفنس ہی کر سکتے تھے ۔۔ان کا اسکول پہلے ہی مقابلے میں باہر ہونے والا تھا ۔۔اس نے جس لڑکے کو سیلیکٹ کیا تھا وہ رنگ تک بمشکل آیا تھا ۔۔صاف لگ رہا تھا کہ مقابلہ ان فئیر ہو رہا ہے ۔۔۔سعدیہ اس لڑکے کو رنگ میں بھیج کر زرد چہرے سے کیمپ کی طرف جا کر بیگ پیک کرنے لگی تھی ۔۔۔میں کچھ دیر تک یہ سب دیکھتا رہا ۔اور پھر حرکت میں آنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔اس لڑکے کو روک کر میں رنگ میں اتر چکا تھا ۔۔ہمارے لڑکے سب پریشان تھے ۔۔۔۔وہ میری ہار دیکھ چکے تھے ۔۔۔۔اور اب وہی دوبارہ ہونے والا تھا ۔۔۔سامنے والا لڑکا کافی اچھل کود کررہاتھا ۔۔۔ریفری نے ہمارے ہاتھ ملائے اور فائٹ شروع ہو گئی ۔۔۔لڑکے نے شروع میں ہی جمپ بیک کک رسید کی تھی ۔۔وہ ہوا میں اچھلا اور اس کی لات گھومتی ہوئی میرے چہرے کی طرف آئی تھی ۔۔میں نہایت اطمیناں سے بیٹھتا ہوا اس کے قدموں کو زمین پر گرتا دیکھ رہا ہے ۔جیسے ہی اس کے پیر زمین کے قریب پہنچے۔میں ایک تیز سوئپ کک کی مدد سے اس کے پیروں کو زمین پر لگنے سے پہلے ہی گھسیٹ چکا تھا ۔۔وہ اپنے پورے زور سے نیچے گرا تھا ۔۔۔جلد ہی دوبارہ اٹھ کر کینہ توز نگاہوں سے گھورنے لگا۔۔۔۔وہ دوبارہ جمپنگ کرتا ہوںمیرے دائیں بائیں حرکت کر رہا تھا ۔۔۔۔اس کی دو چار سائیڈ ککس میں نے بلاک کی تھیں۔اب میں اس کی طرف سائیڈ کک کے لئے بڑھ رہا تھا۔میری کک اس کے چہرے کی طرف بڑھی تھی اور اس نے بلاک کرتے ہوئے مجھے ہی میرا داؤ مارا تھا نیچے جھک کر سوئپ کک۔۔۔میرا ایک پاؤں ہوامیں اور ایک زمین پر تھا ۔۔اگر یہ کک مجھ لگ جاتی تو میں بھی اس کی طرح زمین پر گرتا۔۔۔اس سے پہلے کہ اسکی کک مجھے چھوتی ، میں اپنے اسی پیر کو ہوا میں اچھالتا ہوااس کے سینے پر رسید کر چکا تھا ۔۔وہ لڑ کھڑا کر پیچھے کو گیا تھا ۔۔۔ہم دونوں دوبارہ سے ایکدوسرے کے سامنے تھے ۔۔ہمارے لڑکے اب حیرانگی سے ہماری فائٹ دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔وہ لڑکا اب کافی غصے میں تھے اور ڈیفنس بھول کر صرف اٹیک کرنے کے چکر میں تھا جو کہ میری مشکل ہی آسان کر رہا تھا ۔۔ایک دفعہ وہ اٹیک کے لئے قریب آیا تومیری راؤنڈ ہارس کک اس کے چہرے پر پڑی تھی ۔وہ سنمبھل ہی رہا تھا کہ کہ میں اس کی طرف پشت کر کے کھڑا ہوا اور ایک اونچی جمپ کی ، میں ہوا میں گھوما تھا اور میرے دونوں پیر ہوا میں گھومتے ہوئے اس کی کنپٹی پر پڑے تھے ۔۔۔وہ تیورا کر گرا تھا ۔۔۔یہ فائنل کک تھی ۔۔اس کے بعد اس کا اٹھنا مشکل تھا ۔۔۔۔اور وہی ہو ا ، ریفری نے میرے جیت کا اعلان کیا ۔۔۔ہمارے لڑکے رنگ میں داخل ہوئے اور اور مجھے کندھوں پر اٹھا لیا ۔۔ہم پہلا راؤنڈ جیت چکےتھے ۔۔سب کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی ۔۔وہ مجھے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہی کیمپ کی طرف چلے گئے جہاں سعدیہ بیگ پیک کئے بیٹھی تھی ۔۔شور سن کر وہ باہر آئی اور حیرانگی سے مجھے ان کے کندھوں پر دیکھنے لگی ۔۔لڑکوں نے شور مچا دیا تھا کہ ہم جیت گئے ہیں ، ہم جیت گئے ۔۔۔وہ خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی ۔۔۔لڑکے سب خوش تھے اور اب مجھے سے فری ہو چکے تھے ۔۔کچھ ہی دیر میں ہمیں اگلی فائٹ کی ڈیٹ ملی اور ہم واپسی کے لئے کوسٹر پر بیٹھے گئے ۔۔ایک دو لڑکوں نے میری فائٹ کی ویڈیو بنائی تھی وہ انہوں نے سعدیہ کو دکھائی ۔۔سعدیہ نے میری طرف نظر بھر کر دیکھا اور شیشے سے باہردیکھنے لگی ۔۔اب اس کی نظروں میں سے طنز ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔میں نے بس سے ہی وقار کو ایک میسج کردیا تھا ۔۔۔۔اسکول کے قریب لڑکے تو گھر جانے کے لئے اتر گئے اور سعدیہ آفس کی طرف چلی گئی وقار کو بتانے کے لئے ۔۔۔میں بھی پیچھے ہی تھا ۔۔وقار کو آفس میں نہ پا کر وہ مڑنے ہی لگی تھی کہ میں نے آگے بڑھ کراسے تھام لیا ۔۔۔اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتے ہوئے میں اس کی بیک کو ٹیک لگا چکاتھا ۔۔۔وہ کسمسائی اور چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔مگر میری گرفت مضبوط تھی ۔۔میں نے اس کی پشت سے لپٹتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے بالکل قریب کر چکا تھا ۔۔کچھ ہی دیر میں اس کی کوشش تھک چکی تھی ۔۔۔کون ہو تم اور یہ سب کیوں کیا تم نے ۔۔۔۔میں نے اس کے کانوں میں بتا یاکہ میں وقار کا دوست تھا اور اسے آفس میں دیکھا وہ مجھے اچھی لگی تو میں اسٹوڈنٹ بن گیا ۔۔۔۔اور وہ جو تم نے یہاں مارکھائی تھی وہ ؟؟مس سعدیہ آپ کا پیار پانے سے پہلے مار کھانا بھی ضروری تھا۔۔بس وہ سب وہی تھا ۔۔وہ دھیمی آواز سے بولی اگر سب پہلے بتا دیتے تو زیادہ اچھا تھا ۔۔میں نے کہا کہ کم اچھا تو اب بھی نہیں ہے ۔اور اس کے کانوں کو اپنے ہونٹو ں کو دبا کر چومنے لگا ۔۔اس نے ہلکا سےچہرہ میری طرف موڑا ۔۔اس کی نگاہوں میں بھی اب میرے لئے پسند کی لہریں نظر آرہی تھی ۔۔اگر وقار آگیا تو۔۔میں نے اسے سیدھا کرتے ہوئے اس کے گرد بازو لپیٹ چکا تھا ۔۔۔وہ نہیں آئے گا۔۔اور ساتھ ہی اس کے ہونٹ چومنے لگا ۔۔۔اس کاجسم جس طرح ورزشی اور کسا تھا ، ہونٹ اتنے نرم اور ملائم تھے ۔۔۔۔اس کی بیک آفس کی ٹیبل سے لگی ہوئی تھی اور ہاتھ میرے کمر کے گرد ۔۔۔۔اور میری پوری شدت سے اس کے ہونٹوں کا رس کشید رہا تھا ۔۔۔۔کھلی ڈلی ٹی شرٹ میں سینے کی دونوں چٹانیں سختی سے تنی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔میں پورے دل جمعی سے اس کے چہروں کو تھام کر اس کے ہونٹ چوم رہے تھے ۔۔۔۔ساتھ ساتھ آگے کیطرف زور بھی دے رہا تھے ۔۔جہاں اس کی بیک ٹیبل سے لگی ہوئی تھی ۔۔۔اس نے اپنی ٹانگیں قدرے پھیلا دی تھی ۔۔۔اور ہاتھ میری کمر پر حرکت کر رہے تھے ۔میں ہونٹ چومتے ہوئے اس کی ناک اور گالوں کو کاٹ بھی رہا تھا ۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ اٹھ کر میرے سر پر پھسلنے لگے۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں ہی اس کی آنکھیں بھی نشیلی ہونے لگی تھیں ۔۔۔اس نے بھی آگے بڑ ھ کر میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے ۔۔۔۔ہم دونوں باری باری ایک دوسرے کے ہونٹ چوس رہے تھے ۔۔۔اس مرتبہ وہ خود میرے مقابلے میں آئی تھی اور شاید ہارنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں ۔۔۔اس کے ہونٹ چوسنے میں شدت آئی تو میں نے بھی زور بڑھا دیا۔۔ساتھ ہی اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اٹھایا اور ٹیبل پر بٹھایا دیا۔۔۔اس کی پھیلی ہوئی دونوں ٹانگو ں کے درمیان میں کھڑا اسکی شدتوں کا سامنا کر رہاتھا ۔۔۔اس کی ناک سےنکلنے والی گرم گرم سانسیں میرے چہرے سے ٹکرائے ہوئے تھی ۔۔وہ پلٹ پلٹ کر جھپٹ رہی تھی ۔۔۔اور میرا اس سے ہارنے کو کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔وہ جتنا شدت سے میری چہرے پر لپک رہی تھی ، جوابی حملہ اس سے کہیں زیادہ شدت والا تھا ۔۔اب میں نے اپنی زبان نکال کر کر اس کے منہ میں ڈال لی تھی ۔۔جسے وہ بڑے مزے سے چوس رہی تھی ۔۔ساتھ ہی اپنی زبان کا رس بھی مجھے پلا رہی تھیں ۔۔۔میرا ایک ہاتھ اب اس کے سینے پر گردش کر رہا تھا۔۔جہاں ٹی شرٹ میں پھنسے ہوئے دو سختی سے تنے ہوئے ، اٹھے ہوئے ممےمجھے بلا رہے تھے۔ میں اوپر سے ہی انہیں دبا رہا تھا ۔۔۔۔سعدیہ اب میرے بالوں کو کھینچ رہی تھی ۔۔اس کی آہیں آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔میری بھی برداشت جواب دینے لگی ۔۔۔میں اس کی ٹی شرٹ پر ہاتھ ڈال چکا تھا ۔۔اس نے اپنے ہاتھ اٹھا دیا اور کچھ ہی سیکنڈ میں بلیک کلر کی اسپورٹس برا میں پھنسے ہوئے دودھ کے پیالے میرے سامنے تھے ۔۔۔سختی میں تنے ہوئے تھے ، صاف پتا چل رہ تھا کہ وہ کافی سخت ورک آؤٹ کی عادی ہے ۔۔مموں کی رگیں ابھری ہوئی تھی ۔۔ جلد ہی میں نے اس کی برا بھی اتار دی ۔۔۔۔۔نہایت متناسب ، فل مسلز سے تنے ہوئے ، کوئی ایکسٹرا فیٹ نہیں ۔۔۔اوراپنی پوری اٹھا ن کے ساتھ اٹھے ہوئےممے سامنے تھے ۔۔۔۔میں سعدیہ کو ٹیبل پر لٹا چکا تھا ۔اس نے میری کمر کے گرد اپنی ٹانگیں لپیٹ دی تھیں ۔۔۔۔اورمیں اب اس کے دونوں سخت مموں کو باری باری مسل دبا رہا تھا ۔۔۔اور یہ میرا پہلے تجربہ تھا ۔۔اس قسم کے سخت سخت مموں کو چھونے کا ۔۔۔۔اور میں اس کو پورا فائدہ اٹھا رہا تھا ۔۔۔اس کی سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔۔اس کے نپلز چھوٹے چھوٹے اور نوکیلے تھے ۔۔۔۔میں نے بھی وقت ضائع کیے بغیر انہی اپنے منہ میں سمبھال لیا ۔۔۔ممے چوسنے میں مجھے مشکل کا سامنے تھا ۔۔۔ممے اتنے نرم نہیں تھے کہ منہ میں سما جاتے ۔۔۔سختی کے وجہ سے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا تو دانتوں سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔میں بھی تنگ آکر ٹیبل پر چڑھ گیا ۔۔۔وہ بھی مسکرا کر مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔جیسے دعوت دے رہی ہو کہ قابو کر کے دکھاؤ ۔۔۔۔میں اوپر چڑھ کر اس کا سر اپنی رانوں پر رکھ دیا اور مموں پر دوبارہ حملہ کرنے لگا ۔۔میں اپنے ہاتھ کی پوری گولائی سے اس کا ایک مما پکڑتا ہے اور اسے دباتا ہوا منہ کی طرف لے جاتا مگر صرف اپنے ہونٹ ہی ٹھیک سے پھیر پاتا ۔۔۔باقی ممے ایسے ہی باہر رہتے ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں اس کے دونوں ممے میرے تھوک سے گیلے ہو چکے تھے ۔۔۔میں اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرنے لگا جہاں سکس پیک مجھے کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔۔اس کی پوری بوڈی شریڈڈ تھی ۔۔۔کہیں پر ایک انچ بھی ایکسٹرا فیٹ نہیں چھوڑا تھا جوان کی بچی نے ۔۔۔ایک بار تو مجھے لگا تھا کہ کوئ مشینی جسم ہے مگر اس کے گرمی اور شہوت سے بھری آوازیں بتا رہیں تھیں کہ اندر سے وہ بھی ایک عام لڑکی کی طرح جذبات رکھتی ہے ۔۔۔۔میں اس کے سکس پیک اور تنے ہوئے ممے دیکھ کر ایک مرتبہ پھر جذباتی ہو چکا تھا اور اس کے اوپر بیٹھتے ہوئے اس کو ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا تھا ۔۔اس کے چہرہ کا کوئی حصہ باقی نہیں بچا تھا جسے میں نے چوسا اور چوما نہ ہو۔۔۔۔وہ بھی اپنی ہاتھوں کو میری کمر پر رکھ کرنیچے کی طرف پھیرتی ۔۔۔۔اب اس نے اپنے ہاتھ بڑھا کر کراٹے کی بیلٹ کھولی اور میری شرٹ اتارنے لگی ۔۔۔۔کچھ یہ دیر میں میرا چوڑا سینہ اس کے سامنے تھا ۔۔۔۔وہ تعریفی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ، پھر مجھے اشارہ کرتے ہوئے نیچے لٹا دیا ۔۔اور میرے اوپر بیٹھ گئی ۔۔۔۔وہ بھی اتنی ہی شدت سے میرے چہرے کو چوم اور چاٹ رہی تھی ۔۔۔اوریہاں تک میں اپنے کانوں کو بھی اس کے تھوک سے گیلا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔میں بڑی بے دردی سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہا تھا ، جہاں سختی اور ابھرے ہوئے مسلز نمایاں محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔وہ تھوڑا نیچے ہو کر میرے سینے کو چومنے لگی تھی ۔۔اور کچھ ہی دیر میں میرے نپلز بھی چوس رہی تھی ۔۔مجھے گدگدی کے ساتھ کے ایک انرجی نیچے کو جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔میرا ہتھیار اس ٹراؤز میں پھنسا ہوا تھا ، اورنکلنے کے لئے پھڑپھڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔سعدیہ نے میرے پورے سینے کو چوم چوم کر گیلا کر دیا ، سیکس اور شہوت میں وہ کچھ بھی کم نہیں تھی ۔۔اپنا حصہ وصول کرنے والی ، خود کو اس میدان میں بھی منوانے والی تھی ۔۔وہ اب نا ف سے اور نیچے جانا چاہ رہی تھی ، مگر میں نے اس کے ہاتھ پکڑے اور اپنے اوپر کھینچ لیا ۔۔اس کے سخت ممے پوری فورس سے میرے سینے میں کھبے تھے اور وہ میرے سر کے گرد اپنے ہاتھ لپیٹ کر دوبارہ چومنے لگی ۔۔۔۔میں نے نیچے ہاتھ لے جا کر اس کے ٹراؤزر کی ڈوری کھولی اور نیچے کرنے لگا ۔۔۔۔اس نے میں بھی میری مدد کی اور کچھ دیر میں پینٹی سمیت اتار چکا تھا ۔۔۔اس کے دونوں چوتڑ اسی طرح سختی سے ابھرے ہوئے ، ایک ایک چوتڑ کسی خربوزے کی طرح گول مٹول اور سختی میں بھرئے ہوئے تھے ، بے اختیار میرے ہاتھ کا ایک ایک ہلکا سے تھپڑ اس کے چوتڑ پر پڑا تھا ۔۔۔۔جس نے ایک ہلکا نشان چھوڑ دیا ۔۔۔سعدیہ کچھ کم تو تھی نہیں اس نے میرے ہونٹوں کو اس زور سے کاٹا کہ میں بلبلا اٹھا ۔۔۔اب میں اس کے دونوں چوتڑوں کو دباتا اور رانوں پر ہاتھ پھیرتا ۔۔اور پھر ہاتھ واپس لا کر اس کی کمر پرگول گول دائرے بنا رہا تھا ۔۔۔۔۔نیچے سے میرا ہتھیار کھڑا ہو کر سلامی دینے لگا تھا ۔۔۔۔۔جس کا اسے بھی احساس تھا ۔۔۔۔وہ اٹھی اور الٹی ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔اب اس کاچہرہ میرے نچلے حصے کی طرف تھا ۔۔اور میں اس کی بیک کو بغور دیکھ رہا ۔۔۔کسی ایتھلیٹ کی طرح ابھرے ہوئے مسلز ، پتلی سی کمر اور نیچے متوازن اور گول سی گانڈ میرے سامنے تھے ۔۔۔جو میرے دونوں ہاتھوں میں دبی ہوئی تھی ۔۔۔سعدیہ میرا ٹراؤز اتارنے لگی تھی ،۔۔اور کچھ ہی دیر میں اس کی حیرت میں ڈوبی ہوئی چیخ میرے سامنے تھے ۔۔۔افف۔۔اتنا بڑا ۔۔۔اس نے بے اختیار اسے منہ میں لینے کی کوشش کی مگر بامشکل ٹوپا ہی لے پا رہی تھی ۔۔۔۔۔اس نے دوبارہ سے اپنی کلائی میرے ہتھیار کے ساتھ لگا ئی۔۔۔دونوں میں کچھ خاصی کمی نہ تھی ۔۔۔اس کی کلائی تھوڑی پتلی تھی ۔۔اور میرا ہتھیار گول مٹول ، گوشت سے بھرا ہوا ۔۔۔لمبائی میں قدرے برابر ۔۔۔۔وہ اب تھوڑی اٹھ کر اپنی چوت میرے چہرے کی طرف اٹھا چکی تھی ۔۔۔جہاں مہکتے ہوئے دو ریشمی لب میرے سامنے تھے ۔۔۔میں نے اس کی کمر پر دونوں ہاتھ رکھے اور اس تھوڑ ا جھکا کر اپنی زبان اس کی چوت پر رکھ دی ۔۔۔اس کی ایک سسکاری نکلی اور اس نے بھی ایک بڑا سا تھوک کا گول میرے ہتھیار پر پھینکا اور اپنے دونوں ہاتھو ں سے ملنے لگی ۔۔میرا ٹوپا اس نے دوبارہ اپنے منہ میں پھنسا لیا تھا ۔۔۔۔اوراسی سے اپنا تھوک گرا رہی تھی جو تیرتا ہوا نیچے تک آ جاتا تھا۔۔اور ادھر میں اس کے چوت کے دانے کو ہونٹوں میں دبا رہا تھا ۔۔۔۔کبھی زبان سے چاٹتا۔۔کچھ دیر میں میں نےاپنی زبان کی نوک بھی اندر داخل کردی ۔۔اس کی چوت بھی اس کی طرح ٹائیٹ تھی ۔۔۔۔میں بھی چہرہ اٹھا اٹھا کر زبان اندر باہر کر رہا تھا ۔۔اور دوسری طرف اس نے پورا لن اپنے تھوک سے نہلا دیا ۔۔شرر شرر ۔۔۔امم امم کی آوازیں پورے آفس میں گونج رہیں تھی ۔۔۔۔اس کا انداز جارحانہ ہوتا جا رہاتھا تو میں نے بھی اس کے چوتڑ پر ہاتھ رکھے اور دبا کر اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔ہمیں اسی پویشن میں پانچ منٹ ہو چکے تھے ، اب اس کی چوت تھوڑی دیر بعد اوپر اٹھنے لگتی اور میں دوبارہ اسے دباتا ۔۔۔۔کچھ دیر اور گذری تھی ۔۔۔۔کہ اس کے زوردار سسکیاں نکلی اور وہ اٹھتی ہوئی سائیڈ پر ڈھیر ہو گئی ۔۔۔۔میں اٹھا اور اسے بانہوں میں اٹھا کر صوفے پر بٹھا چکا تھا ۔۔۔میرا ہتھیار ابھی تک کھڑا ہوا ہوشیاری سے لہرا رہا تھا ۔۔۔اس کا کمر تک جسم صوفے پر تھا اور اس سے نیچے ٹانگیں نیچے کی طرف تھی ۔۔میں سعدیہ کے ہونٹوں پر جھک کراس کے ہونٹوں کو چوم رہا تھا ۔۔۔اس کے بال پوری طرح سے بکھر چکے تھے ،،آنکھیں لال نشیلی ہوئی تھیں ۔۔۔اور جسم سے اٹھنے والی گرمی مجھے بھی تپا رہی تھی ۔۔۔۔۔کچھ دیر ہونٹے چوسنے کے بعد مموں پر مساج شروع کر دئیے جن پر تھوک خشک ہو چکا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں اس کی سسکیا ں دوبارہ سے بلند ہونے لگیں ۔۔۔ٹانگیں اٹھانے کا ٹائم آ چکا تھا۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں سمبھال لیں تھیں ۔۔۔اس کی نگاہیں مجھ پر جمی ہوئی تھی ۔۔۔ساتھ ہی اس نے تھوک اکٹھا کر کے لن کے ٹوپے پر مل دیا تھا ۔۔۔میں نے اسے ہی اشارہ کیا تو اس نے اپنے ہاتھ سے ٹوپا پکڑ کر اسے اپنی چوت پر رگڑنے لگی ۔۔۔۔اس کی سسکیاں نکل رہی تھیں ۔۔۔اس نے کچھ دیر بعد ٹوپا اپنی چوت کے لبوں پر پھنسانے کی کوشش کی ، مگر چوت کے لب پورے طریقے سے آپس میں ملے ہوئے تھے ۔۔۔ ٹوپا اوپر کی طرف سلپ ہو گیا ۔۔۔وہ دوبارہ سے اوپر رگڑنے لگی ۔۔۔۔کچھ دیر بعد پھر ٹوپ رکھ کر مجھے دیکھا ، میں نے ہلکا سا دباؤ بڑھایا ۔۔۔چوت کے لب چیرتے ہوئے میں صاف دیکھ رہا تھا ۔۔ساتھ ہی اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمودار ہونے لگے تھے ۔۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں اپنی کمر کے گرد کیں اور ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھے کر دبانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے ٹوپے کر اور فکس کر دباؤ بڑھانے لگا ۔۔۔۔ساتھ ہی میں نے تھوک اکھٹا کر اوپر کی طرف سے پھینکا ۔۔۔چوت کافی ٹائٹ تھی ۔ اور درد اسے برداشت کرنا تھا ۔۔۔۔وہ سس سس کی آوازوں سے لرز رہی تھی اور کبھی لن کی طرف نظر ڈالتی اور کبھی میرے چہرے پر دیکھ کر زبان باہر نکالنے لگتی ۔۔۔۔ میں دباؤ بڑھاتے جا رہا تھا ، اور اب ٹوپا اندر داخل ہو چکا تھا ۔۔اس نے ایک گہر ی سانس لی اور اس کے سختی سے تنے ہوئے ممے نیچے کو لہراے اور دوبارہ سے جم گئے ۔۔۔۔میں نے اب دونوں ہاتھ سے ان نوکیلے دودھ کے پیالوں کو تھام لیا تھا۔۔۔اور ٹوپے کوساتھ ساتھ ہلکا ہلاتا جا رہا تھا ۔۔۔وہ منہ اٹھا اٹھا کر سسکیاں لے رہی تھی۔۔۔اس کی برداشت کمال کی تھی ۔۔ورنہ اب تک تو چیخیں نکل گئی ہوتیں تھی۔کچھ دیر میں اس کی سسکیاں کم ہوئیں تو میں نے دباؤ بڑھا دیا ۔۔اس نےکچھ اوپر ہونا چاہا مگر میں بھی اس کے ساتھ ہی اوپر ہوا تھا ۔۔۔میں اس کے مموں کوپورے دباؤ سے مسل رہا تھا ۔۔۔اس کی مموں کی سختی میرے ہاتھ کی ہتھیلی پر محسوس ہورہے تھے ۔۔میں نے دونوں مموں پر پوری ہتھیلی کو پھیلایا اور اس کے نپلز کو انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے تھام لیا اور مروڑنے لگا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی نیچے سے دباؤ بڑھاتا گیا ۔۔۔۔سعدیہ سانس روک کر لیٹی تھی ۔۔میں بھی دباؤ بڑھاتا گیا ۔۔کچھ ہی دیر میں آدھا ہتھیار میں اندر اتار چکا تھا ۔۔۔سعدیہ نےسانس باہر پھینکی اور اس کی ساتھ ہی اس کی آہیں بھی نکلنے لگیں ۔۔۔آہ۔۔آہ۔۔۔افف۔۔۔۔اس نے نیچے نظر ڈالی تو ابھی آدھا ہتھیار باہر ہی تھی ۔۔کچھ دیر اس کی سسکاریں سننے کے بعد میں اس کے اوپر جھک گیا تھا ۔۔۔اس کے ہونٹوں کو چوما تو لرزنے کے ساتھ ساتھ وہ خشک بھی تھی۔۔۔میں نے دوبارہ سے اپنی تھوک نکالی اور اس کامنہ تر کر دیا ۔۔۔۔میرے آگے جھکنے کے ساتھ ساتھ ہتھیار کچھ اور بھی داخل ہو چکا تھا ۔۔۔میں نے اب نیچے سے کمر ہلانی شروع کر دی تھی ۔۔میرا ہتھیار بری طریقے سے اس کی چوت میں پھنسا ہوا تھا ۔۔۔اور مجھے بھی اتنی ہی مشکل سے اندر باہر کرنا پڑرہا تھا ۔۔سعدیہ کی سسکیوں میں اف اف کی آوازیں زیادہ تھیں ۔۔۔۔ہر ایک کا الگ تجربہ ہو رہا تھا مجھے ۔۔۔میں نے لن ٹوپے تک باہر کھینچا اور دوبارہ پسٹن کی طرح اندر دھکیل دیا ، وہ دوبارہ سے اوپر کو اٹھی اور افف کی آواز کےساتھ ایک سسکاری نکلی ۔۔۔۔میں اب اتنا ہی لن کو اندر باہر کررہا تھا ۔۔اب میں دو تین بار آگے پیچھے کرنے کے ساتھ ایک جھٹکا بھی دے رہا جس سے سسکاریاں نکالتی سعدیہ کے منہ سے افف کی آوازیں نکلتی ۔۔۔کچھ دیر بعد میں نے اس کی ٹانگیں اٹھائی اور صوفے کے اوپر چڑھ آیا، اسے اس کے سر اور کندھے کے بل کھڑا کرتے ہوئے ٹانگیں دائیں بائیں کھول دیں ۔ اور عین اس کی چوت کے اوپر آتے ہوئے لن کو سیدھ اندر اتار دیا ۔۔۔۔سعدیہ کے دونوں ہاتھ صوفے پر تھے جہاں وہ گردن اور سر کوٹکا ئے پورا بدن ہوا میں اٹھائے کھڑی تھی ۔۔میرا لن اب بالکل سیدھ میں نیچے اتر رہا تھا ۔۔۔کچھ دیر میں میری اسپیڈ تیز ہو گئی تھی ۔۔۔۔سعدیہ کی اب برداشت والی اسٹیج ختم ہو چکی تھی اور اب وہ پورا منہ کھول کر آہیں اور سسکیاں بھر رہیں تھیں ۔۔آہ۔۔۔افف۔۔۔آہ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں سار ا خون اس کے سر کی طرف جمع ہونے لگا۔۔اس کا منہ بالکل سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔میں نے اسے اٹھایا اور خود صوفے پر ٹانگیں نیچے کر کے بیٹھ گیا ۔۔۔اور وہ منہ دوسری طرف کئے اپنی ٹانگیں دائیں بائیں پھیلا کر میرے ہتھیار پر سواری کرنے لگی ۔۔۔اس کی ٹانگوں میں غضب کی اسٹرینتھ تھی ۔۔وہ درد اور کراہ کے ساتھ ساتھ تیزی سے اوپر نیچے ہورہی تھی ۔۔میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے سخت سخت چوتڑ دبا رہا تھا ۔۔۔۔۔پانچ منٹ اسے ہی گذر ے تھےکہ اس کی اسپیڈ کم ہونے لگی تو میں نے اسے چوتڑ سے سمبھال کر اٹھا لیا اور سامنے ٹیبل پر اس کے ہاتھ جما دئے اور اسکی رانوں کو پکڑ لیا ۔اس کے دونوں ہاتھ ٹیبل کے سرے پر جمے ہوئے تھے ۔۔۔اور رانیں میرے ہاتھوں میں تھیں ۔باقی پوری باڈی ہوا میں جھول رہی تھی ۔۔۔۔ہتھیار ابھی تک اندر ہی تھا ، میں نے ٹوپا اندر رکھتے ہوئے ایک زور دار جھٹکا مارا ۔۔۔اس کے منہ سے اوئی کی آواز نکلی اور پھر آہ ۔۔۔۔افف شروع ہو گئی ۔۔۔اس کے بعد میں جھٹکے پر جھٹکا مارتا گیا ۔۔۔جب تک اس کے بازوؤں میں ہمت تھی وہ جمی رہی تھی ۔۔پھر تھکنے لگی تو میں اسے اٹھا کر ٹیبل پر آ گیا ۔۔سیدھ لٹاتے ہوئے اس کی دونوں ٹانگوں کو جوڑ کر سیدھا ہوا میں اٹھا دیا ۔۔۔۔اب وہ الٹے ایل شیپ میں تھی ، دونوں ہاتھ اس کی رانوں کے گرد گھما کر پیچھے سے لن اس کی چوت میں گھسا دیا ۔۔اس کی پھر آئی ۔۔۔آہ ۔۔۔افف کی زور دار آواز نکلی تھی ۔۔۔۔چوت پہلے سے تنگ ہو چکی تھی ۔۔۔اس لئے مجھے بھی اتنا ہی زور لگا نا پڑ رہا تھا ۔۔۔میں بھی جھٹکے پر جھٹکےدے رہا تھا ۔۔اورپانچ منٹ مزید گزرے تھے کہ اس کی آہیں اب تیز ہو کر پورے کمرے میں گونجنے لگیں ۔۔تھی ۔۔۔افف ۔۔آہ ۔۔۔اور بیچ میں جب جھٹکا زیادہ پڑتا تو اوئی کی ایک سریلی آواز نکلتی ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں سعدیہ کی کمر اوپر کو جھٹکا کھانے لگی تھی ۔۔۔۔۔اور ایک زور دار آواز کے ساتھ فارغ ہونے لگی ۔۔۔۔۔میں اس کے پیر ٹیبل پر رکھ کر اس کے برابر میں لیٹ چکا تھا ۔۔۔وہ بھی میری طرح پسینے پسینے ہوئی تھی ۔۔۔۔میں لیٹا تو وہ مجھ پر لپٹ چکی تھی ۔۔۔۔۔اب اس کے منہ سے بھی راجہ ہی نکلا تھا ۔۔۔وہ بے اختیار میرے منہ کو چوم رہی تھی ، جس پر پسینہ بھی چمک رہا تھا ۔۔۔ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر نیچے سے ہتھیار کو تھام لیا جو اب تک فارغ نہیں ہو ا تھا ۔۔۔۔۔۔میرا ارادہ اب اسکے پچھلی جانے جانے کا تھا ۔۔۔مگر کوئی لبریکیٹ دور دور تک نہیں تھا ۔۔۔اور مجھے بھی شام میں امی کے ساتھ خالہ کے ہاں جانا تھا ۔۔۔اس لئے ارادہ بس کرنے کا تھا ۔۔۔سعدیہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی،میں نے اسے کہا کہ مجھے فارغ کر دو ۔۔۔۔وہ پہلے تو تھوک لگا کر ہاتھ اوپر نیچے کر نے لگی ۔۔ پھر نجانے کیا سوجھی ، اپنی ٹانگیں دائیں بائیں کر کے لن کو اپنی چوت پر سیٹ کیا اور بیٹھتی چلی گئی ۔۔آدھے سے زیادہ لینے کے بعد آگے کو جھکی اور میرے دائیں بائیں ہاتھ رکھ دی ۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس کی کمر ہلنے لگی ۔۔۔وہ تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھی ۔۔۔اور تین چار بار اوپر ہونے کےساتھ لن اندر لئے ہوئے دائیں بائیں کمر کو گھماتی ۔۔۔ساتھ ساتھ اس کی گرم گرم سسکیاں میرے منہ پر چھوٹ رہی تھی ۔۔میں نے بھی اس کے دونوں ممے تھام لئے اور انہیں مسلنے لگا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر گذری تھی کہ میں نے بھی نیچے سے جھٹکے شروع کردئے ۔۔۔۔ہمارا ردھم بن چکاتھا ۔۔۔وہ جب نیچے کو آرہی ہوتی تو میں اوپر کو جھٹکا مار رہا ہوتا تھا ۔۔۔اس کی سسکیاں کے ساتھ ساتھ اس کا بہنے والا پسینہ بھی مجھ پر گر رہاتھا ۔۔میرے جھٹکے تیز ہوئے تو اس سے برداشت نہیں ہونے لگے ۔۔وہ میرے سینے پر لیٹ کر میرے ہونٹ چوسنے لگی ۔۔۔میں نے بھی دونوں ہاتھ اس کے چوتڑ پر جما کر جھٹکوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔وہ اب میرے اوپر برے طریقے سے اچھل رہی تھی ۔۔۔اور لن کے طوفانی جھٹکے جاری تھے ۔۔۔۔۔مجھے لگا کہ میں فارغ ہونے لگا ۔۔تو میں نے اپنی اسپیڈ دھواں دار کردی ۔۔۔جھٹکوں میں ہی وہ میرے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کرتی جو کبھی ناک سے ٹکراتے کبھی میری ٹھوڑی سے ۔۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ میرے سر کے دائیں بائیں تھے ۔۔۔میرے جھٹکے اب اورطوفانی ہوتے جا رہے تھے ۔۔ساتھ ساتھ میرے منہ سے غراہٹ نکلنی شروع ہوگئی ۔۔۔۔سعدیہ یہ دیکھ کر تھوڑی اٹھ کر پیچھے کی طرف ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔میرا خون نیچے کی طرف اکھٹا ہونا شروع ہو چکا تھا ۔۔اور ایک زور دار جھٹکے سے سعدیہ میرے اوپر آ کر گری تھی ۔۔۔۔میں نے جلدی سے اپنا ہتھیار تھا م لیا جس نے بارش شروع کر دی تھی ۔۔۔پہلا جھٹکا باہر گرا تھا کہ میں نے ہتھیار اس کی طرف کردیا ۔۔سعدیہ اپنی ہتھیلی پرمنی اکھٹی کرنے لگی جو اس کی ہتھیلی کو بھرتی ہوئی نیچے کو گرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ٹائم دیکھا تو پانچ بج چکے تھے ۔۔جلدی جلدی اٹھ کر صفائی کی اور کپڑے پہننے لگا ۔۔۔ دوبارہ کب ملو گے ۔۔میں نے کہا کہ جلد ہی اور ہاں میں وقار سے تمہار ا نمبر لے کر کال کروں گا۔۔۔۔۔ جلد ہی کہیں اور ملیں گے ۔۔۔۔یہ کہہ کر میں نے وقار کو میسج کیا کہ آفس فارغ ہے ۔۔آکر سمبھالو ۔۔۔۔اور بائک لے گھر کی طرف چل پڑا
Read Full Story...
 

Links In

Last Searches

urdu kahani, hindi stories, cousin love, dating at night, school teacher, bhabi, dost ki biwi, cousin k sath, office main
eXTReMe Tracker

UrduSexStories.info | Terms of Use | Privacy Policy